بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / بچے اور ہماری روایات

بچے اور ہماری روایات

اب تو سیکھنے سکھانے کاسلسلہ ہی ختم ہوکررہ گیاہے جب سے سوشل میڈیا کاطوفان بپاہوا ہے بچے اور نوجوان نسل کااپنے بڑوں اور ان کی روایات کے ساتھ ناطہ ہی ختم ہوکررہ گیاہے ویسے بھی جب بڑوں نے روایات سے منہ موڑ لیاہے تو بچے کیا دیکھیں اورکیاسیکھیں ؟کسی زمانے میں حجرہ اور سکول دومضبوط ادارے ہوا کرتے تھے جو بچوں کی تعلیم وتربیت اور انکو روایات سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کرتے تھے پھررفتہ رفتہ یہ دونوں اہم اوربنیادی ادارے دم توڑتے چلے گئے اوریوں بچوں اورنوجوانوں کی تربیت کاعمل بری طرح سے متاثر ہوگیا ہمیں یادہے کہ سکو ل میں صرف ہمیں نصابی کتب ہی نہیں پڑھائی جاتی تھیں بلکہ ساتھ ہی ہمیں اپنی تاریخ اورروایات سے بھی آگاہ کیاجاتاتھا چنانچہ میٹرک تک ہم کسی نہ کسی حد تک تاریخ وروایات سے آگاہی حاصل کرچکے تھے اسی طرح ان دنوں حجرے آبادہوا کرتے تھے ہم جب اپنے دوستوں رشتہ داروں کے ہاں گاؤں جاتے تھے تو حجرے کاماحو ل دیکھ اپنی شہری زندگی کی کم مائیگی کا بھرپوراحساس ہوا کرتاتھاجب بھی کوئی بچہ حجرے میں داخل ہوتا تو میز بان کی آنکھوں کی زبان سمجھ جاتا اور پھر ایک سرے سے لے دوسرے سرے تک فرداً فرداً ہر ایک کے ساتھ بڑے ادب و احترام کیساتھ ہاتھ ملاکرایک طرف ہوکر بیٹھ جاتا اورپھر اس کی قو ت مشاہدہ اسے بہت کچھ سکھاتی ایک دفعہ ہم نے اپنے دادا مرحوم کے سامنے ان کے ایک دوست کے ساتھ ہاتھ ملانے کیلئے ایک ہاتھ آگے کیاجس پر ہماری خوب کلاس لی گئی (مہمان کی رخصتی کے بعد )اور سمجھایاکہ ادب واحتر ا م کاتقاضایہ ہے کہ اپنے سے بڑی عمرکے مہمان کے ساتھ مصافحہ دونوں ہاتھوں سے کیاجائے یقین مانیے کہ بتیس برس قبل کی تربیت نے پھر آج تک ساتھ نہیں چھوڑا ہے جب والدین اور بچوں کارشتہ کمزور ہوتاگیا تو بہت کچھ ہم اپنے ہاتھوں سے گنواتے چلے گئے اپنے بچوں کو اپنی معاشرتی اقدار سے روشنا س کرانا والدین ہی کی ذمہ دار ی بنتی ہے۔

معروف ماہر چشم پروفیسر ڈاکٹر داؤد خان قبائلی پس منظر رکھتے ہیں کہتے ہیں کہ جب ایم بی بی ایس کرنے کے بعدوالدنے مجھے طب کی اعلیٰ تعلیم کیلئے برطانیہ بھجوایا تو ان دنوں شاذونادرہی کوئی قبائلی باشندہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے باہر جایا کرتا تھا کہتے ہیں کہ کافی عرصہ کے بعدکچھ دن کی چھٹی پر گاؤ ں گیا ایک دن حجرے میں بیٹھا ہواتھااور چائے کاوقت ہوا تو والد صاحب نے دوسروں کے ہاتھ سے چائے کابرتن اور پیالیاں لے کرمجھے تھمائیں اورکہاکہ ایک ایک مہمان کیلئے خودپیالیاں بھرتے جاؤ حالانکہ میں تو خوداپنے آپ کو مہمان سمجھ رہاتھا مگروالدصاحب کے اس عمل نے مجھے سمجھادیاکہ میں کتنابھی پڑھ لکھ جاؤں‘ مغرب میں کتناہی وقت گزاروں اپنی روایات کیساتھ ہرصورت جڑے رہناہے ڈاکٹر داؤد کی زندگی میں پھروالدصاحب کی اس تربیت نے گہرا اثرڈالا جو ان کے جاننے والے بخوبی محسو س کرسکتے ہیں بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں اقدار کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں مگر ان کاعملی مظاہر ہ کہیں بھی دیکھنے میں نہیں آتا،اس کے لئے سب سے ضروری امر تو یہ ہے کہ والدین خوداپنی زندگی اپنی روایات کے مطابق گزاریں کیونکہ بچے اور خاص کرکم عمرکے بچے نقل کرکے سیکھتے ہیں ۔

یہ آپ کی باتوں کو نوٹ کرتے ہیں اور پھردیکھتے ہیں کہ آپ کے قول وفعل میں یکسانیت ہے یاتضاد ، چنانچہ بچوں کے سامنے دوعملی سے خودکوبچائے رکھیں جب بچے جوان ہونے لگیں تو ان سے ایسے سوال کریں جو ان کیلئے باعث کشش ہوں اور انہیں دوطرفہ گفتگو کاموقع ملے ،ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ بچوں کی دلچسپی میں خودبھی دلچسپی لیں بچے ہمیشہ اپنے بڑوں سے سیکھتے ہیں اورہم نے انکو سکھانے کاسلسلہ بندکردیاہے پہلے ٹی وی پھرکمپیوٹر اور ا ب موبائل نے والدین کو بچوں سے دور کردیاہے پہلے والدین غیر ضروری مصروفیات کی وجہ سے بچو ں کو وقت نہیں دے پاتے اور پھربچے جوان ہوکر والدین سے خودکو دور کرتے جارہے ہیں اوراگر یہی سلسلہ چلتارہا تو رہی سہی روایات کاجنازہ بھی جلدنکل جائے گا جس کے بعدمعاشرتی ٹوٹ پھوٹ کاجو بدترین عمل شروع ہوگا اس کو کوئی بھی نہیں روک سکے گا اگرآج بھی ہمار ا معاشرہ کسی نہ کسی طورقائم ہے تو اس کی بڑی وجہ باقی ماندہ اقدار ہیں ان کی قدر کریں اور ان سے اپنے بچوں کو روشناس کرائیں تاکہ دیئے سے دیا جلتارہے اور روشنی کاسفرجاری رہ سکے ۔