بریکنگ نیوز
Home / کالم / ٹوبہ ٹیک سنگھ میں روس اغواء ہوگیا

ٹوبہ ٹیک سنگھ میں روس اغواء ہوگیا

ٹوبہ ٹیک سنگھ سے پانچ کلومیٹر ادھر چک نمبر 325 دلم پہنچے تو معلوم ہوا کہ روس اغواء ہوگیا ہے۔روس کیسے اغواء ہوا؟روس کو کس نے اغواء کیا؟ظاہر ہے یہ سوالات بین الاقوامی اہمیت کے حامل ہیں اور ان کے بارے میں جواب دیتے وقت انسان کو بے حد محتاط رویہ اپنانا چاہئے۔ فی الحال میں آپ کو بتاتا ہوں کہ میں ٹوبہ ٹیک سنگھ وغیرہ کہاں اور کیسے جانکلا اور اس کا جواب آسان ہے کہ بچوں کو دسمبر کی چھٹیاں تھیں اور وہاں میری خالہ جان قیام پذیر ہیں جو ہر آتے جاتے کے ہاتھ سندیسہ بھیجتی تھیں کہ چھٹیوں میں بچوں کو لے کر گاؤں ضرور آنا۔ میں نے دیسی گھی‘ دیسی انڈے‘ مکئی کا آٹا اور متعدد مرغ تمہارے لئے جمع کررکھے ہیں۔لاہور سے فیصل آباد جانے والی سڑک ڈرائیونگ کیلئے ایک عذاب سے کم نہیں۔ اونچی نیچی اور ٹیڑھی جہاں ٹریفک انتہائی تیز اور خطرناک ہے۔ یہیں پر کھرڑیانوالہ ہے جو ہر دوسرے روز اخباروں میں کسی نہ کسی حادثے کے حوالے سے نمودار ہوجاتا ہے۔فیصل آباد سے جھنگ جانیوالی سڑک قدرے بہتر ہے اور یہاں ٹریفک کی وہ مار دھاڑ بھی دیکھنے میں نہیں آئی‘جھنگ کے بہت سارے حوالے ہیں۔ سیالوں کا جھنگ‘ سیاست دانوں کا جھنگ‘ مائی ہیر کے مزار کا جھنگ‘ میرے لئے جھنگ میں صرف دوستی کے حوالے ہیں۔ پروفیسر سمیع اللہ قریشی جو جانے پہچانے محقق اور ادیب ہیں ان دنوں گورنمنٹ کالج میں پرنسپل ہیں۔ میری پہلی کتاب کی اشاعت پر انہوں نے مجھے پسندیدگی کا خط لکھا اور پھر ہماری قلمی دوستی جگری دوستی میں بدل گئی۔

یہ ہو نہیں سکتا کہ میں جھنگ ان سے ملاقات کے بغیر پار کر جاؤں۔ ان کے گھر پہنچے تو قریشی صاحب غائب‘ ان کی بیگم غائب اور ان کی آل اولاد ہمیں دیکھ کر پریشان کہ اب کیا کریں۔ بہرحال بھابھی اپنے سکول سے فارغ ہوکر پہنچ گئیں۔ ایک پرُتکلف چائے کا اہتمام کیا جو قریشی صاحب کی غیر موجودگی میں میں پرُلطف نہ تھی۔میں نے وہاں سے شیر افضل جعفری صاحب کو فون کیا۔’’سائیں کون بول رہا ہے؟‘‘میں نے اپنا نام بتایا اور ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔ ’’بس صحت کچھ ٹھیک نہیں لیکن اللہ کا فضل ہے۔ آپ کیسے ہیں؟‘‘ میں نے انہیں بتایا کہ خواہش شدید تھی کہ آپ کیساتھ بھی ملاقات ہوجائے لیکن بال بچہ ہمراہ ہے اسلئے آئندہ سال سہی۔’’آئندہ برس؟‘‘ جعفری صاحب کی کمزورآواز آئی۔ ’’بس ٹھیک ہے میں آپ سے ملاقات کی خاطر آئند برس تک زندہ رہوں گا۔‘‘اور مجھے یقین ہے کہ ایسا ہی ہوگا زندگی اور موت کا کیا پتہ لیکن خواہش ہے کہ جھنگ کی ادبی پہچان شیر افضل جعفری سے اگلے برس بشرط زندگی ملاقات ہو اور ضرور ہو۔جھنگ سے ٹوبہ ٹیک سنگھ جانے والی سڑک نئی ہے اور اس پر معمول کی ٹریفک بہت کم ہے لیکن اس پرس ’’شوگر شپس‘‘ بہت چلتے ہیں۔ جب ہمیں ایک ٹریکٹر ٹرالی نظر آئی جو گنے کے ایک سلسلہ کوہ کو اٹھائے چلی جارہی تھی عینی کہنے لگی ’’ابو کیا یہ اتنے سارے گنے گنڈیریاں بنانے کیلئے ہیں؟‘‘میں نے اسے بتایا کہ یہاں سے نزدیک کمالیہ شوگر مل ہے اور یہ سارا گنا وہاں جارہا ہے چینی بنانے کیلئے۔’’تو پھر یہ ایک شوگر شپ ہوا جو ہمارے آگے آگے لڑھکتا جارہا ہے‘‘ سلجوق کہنے لگا۔اس لمحے کے بعد کماد سے لدی ٹرالیاں ہمارے لئے شوگر شپس تھیں۔ہم چک دلم میں ساڑھے چار بجے کے قریب پہنچے ایک سیم زدہ ریتلا گاؤں جو ٹوبہ ٹیک سنگھ سے پانچ کلومیٹر ادھر ہے۔

سڑک کے بائیں ہاتھ پر گاؤں ہے اور اس سے پرے زمینیں ہیں اور دائیں ہاتھ پر گاؤں کا قبرستان ہے جس کی جھاڑیوں ریت اور اداسی میں سے ایک سفید گنبد نظر آتا ہے اور اس سفید گنبد کے نیچے جولائی 1975ء میں میرا خالہ زادہ بھائی پائلٹ کیپٹن ساجد نذیر شہید جا سویا تھا۔ ابھی تک وہیں ہے۔ ہم نے سفید گنبد کو جھاڑیوں میں سے جھانکتے دیکھتے جیسے بلاتا ہو اور پھر ہم گاؤں کی کچی گلی میں اتر گئے۔ خالہ جان اور خالو ہمارے منتظر تھے‘ ان کے چہروں پر جو مسرت کے سمندر تھے ہماری تھکاوٹ ان میں ڈوب گئی‘ شام کے کھانے کے انتظامات شروع ہوگئے‘ رات کو بچے صحن میں آئے تو آسمان کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔’’یہاں تو آسمان ہی نہیں ہے‘ صرف ستارے ہیں‘ کوئی جگہ خالی ہو تو آسمان نظر آئے۔‘‘’’ابو شہر میں آسمان کیوں نظرنہیں آتا؟‘‘ ۔’’شہر کی روشنیاں آسمان کو گم کر دیتی ہیں۔ دنیا کی ہر شے روشنی میں دکھائی دیتی ہے لیکن آسمان صرف تاریکی میں نظر آتا ہے۔‘‘ مجھے خود حیرت ہورہی تھی کہ اتنے زیادہ ستارے اور ستاروں کی ایک مدھم روشنی تھی‘ کسی ڈیرے پر ایک کتا بھونکنے لگا۔’’بچو اندر آجاؤ۔‘‘ خالہ جان کی آواز آئی۔ ’’باہر سردی ہے۔‘‘رات کے کھانے میں وہ ذائقے تھے جو میں بھول چکا تھا اور بچے ان سے ناآشنا تھے۔ دیسی گندم اور چکی پر پسے ہوئے آٹے کی تندوری روٹی میں جو ذائقہ ہے وہ یا میں جانتا تھا اور یا ’’لامرزا بل‘‘ کا ہیرو بچہ جس نے ایک ڈبل روٹی چوری کی اور ساری عمر اس کی سزا بھگتتا رہا۔ میں بھی دیسی گندم کی روٹی کیلئے بہت ساری سزائیں بھگتتا ہوں‘ دیسی انڈوں کی زردی کا رنگ سنہری تھا اور گھی کا ذائقہ بھی جدا تھا۔ کھانے کے بعد خالو جان کے چند ملنے والے آگئے اور کھیتی باڑی کے بارے میں گفتگو ہونے لگے۔ ’’چودھری سنا ہے تمہارا ولایتی بیمار ہے؟‘‘ ’’ہاں جی‘‘ خالو نے سر ہلایا ’’اسے منہ کھر کی بیماری ہوگئی ہے ٹیکے لگوا رہا ہوں۔ ایک ٹیکہ اٹھارہ روپے کا آتا ہے۔‘‘’’یہ ولایتی کون ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’میرا بیل ہے۔‘‘ خالو ہنس کر بولے۔ ’’میرے پاس ایک بڑی شاندار جوڑی ہے سفید بیلوں کی۔ چونکہ گورے ہیں اسلئے ولایتی نام رکھ دیا۔ صبح دکھاؤں گا۔‘‘’’چوہدری‘‘ ایک کسان کھانس کر بولا۔ ’’سنا ہے تمہارے بیل اسی لئے تیز چلتے ہیں کہ تم ان کو کافی پلاتے ہو۔‘‘’’بالکل‘‘ خالو نے مکمل سنجیدگی سے کہا۔ ’’عام کافی نہیں درآمد شدہ ولایتی کافی پلاتا ہوں اپنے بیلوں کو۔ ’’چوہدری جوڑی تیری اول نمبر ہے۔

‘‘’’میرا کماد بھی اول نمبر ہے۔‘‘ خالو بڑے فخر سے کہہ رہے تھے۔’’تم لوگ تو ٹرالیوں کے پیچھے پڑے رہتے ہو اور میں اپنی بیل گاڑی پر لے جاتا ہوں اور ٹرالی سے پہلے پہنچتا ہوں اور پرچی بنوا کر واپس آجاتا ہوں۔‘‘ ’’کہاں جاتے ہیں خالو؟‘‘ میں نے پوچھا۔’’ان دنوں کماد کا سیزن ہے۔‘‘ خالوکہنے لگے۔ ’’یہ علاقہ کماد کیلئے مشہور ہے‘ کمالیہ شوگر مل والوں نے جگہ جگہ بڑے ترازو نصب کر رکھے ہیں جہاں ٹرالیوں سمیت کماد تولا جاتا ہے اور ادائیگی کے لئے پرچی دی جاتی ہے۔ بس اس کی بات ہورہی ہے۔‘‘’’چوہدری جی‘‘ ایک بڑی ساری پگڑی اور اس سے بڑی مونچھوں والے صاحب بڑی رازداری سے کہنے لگے ’’وہ کچھ خبر پہنچی آپ کو؟‘‘’’کس کے بارے میں؟‘‘ ’’روس اغواء ہوگیا ہے۔‘‘ وہ صاحب مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے بولے۔’’کون اغواء ہوگیا ہے؟‘‘ میں نے چونک کر پوچھا۔’’روس‘‘ خالو نے اطمینان سے کہا اور پھر ٹیڈی بکریوں کی افزائش نسل کے بارے میں گفتگو کرنے لگے۔ میرے سامنے ایک ایسا شخص تھا جس نے ہمارے خاندان میں پہلی بار کار خریدی۔ وہ نفیس ولایتی کوٹ پہنتا اور شیزان کے ویٹرا سے دیکھتے ہیں بھاگ دوڑ میں مصروف ہوجاتے کہ چوہدری صاحب آگئے ہیں تو چائے بہت اچھی ہونی چاہئے۔ وہ ایک کامیاب شخص تھے اور اب اس گاؤں میں بیٹھے بالکل عام کسانوں کی طرح بیلوں اور بکریوں کے بارے میں گفتگو کررہے تھے۔ شاید یہ ایک مجبوری ہے اکلوتے بیٹے کے چلے جانے سے وہ زندگی میں دلچسپی کھو چکے ہیں۔ وہ مایوس نہیں کیونکہ بڑے دل اور جگرے کے مالک ہیں لیکن وہ شہر رہتے تو شاید بہت جلد اکتا جاتے۔ اب وہ اپنی زمین کے قریب ہیں۔ اس عمر میں بھی میلوں پیدل چلتے ہیں اور کھیتی باڑی کرتے ہیں۔اور شاید وہ اس سفید گنبد کے قریب رہنا چاہتے تھے۔