بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ریپڈ بس منصوبہ ٗ یوٹیلیٹیز کی منتقلی کیلئے وسائل کی منظوری

ریپڈ بس منصوبہ ٗ یوٹیلیٹیز کی منتقلی کیلئے وسائل کی منظوری

پشاور ۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ اُن کی حکومت کی متعارف کردہ اصلاحات اور قوانین حکومت کے تمام شعبوں میں مکمل شفافیت کا باعث بنیں گے ۔عوام کیلئے ہمارے ٹھو س اور جامع اقدامات کے نتیجہ خیز اور بہتر ین ثمرات سامنے آئیں گے ۔ کسی لالچ یا دباؤ کے بغیر عوام کی بے لوث خدمت ہمارا مطمع نظر ہے صوبے میں قانون، میرٹ اور انصاف کی بالادستی یقینی بنانا ہمارے منشور اور انتخابی وعدوں کا ماحاصل تھا اور یہ اہداف سو فیصد حاصل کئے گئے ہیں۔ وہ سول سیکرٹریٹ پشاور کے کیبنٹ روم میں صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔ کابینہ نے خیبرپختونخوا منرل سیکٹر گورننس ایکٹ 2017 کی منظوری دی جس کے تحت منرل انوسٹمنٹ سہولیاتی اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا ۔

اتھارٹی کے چیئرمین صوبائی وزیر برائے معدنی ترقی ہوں گے جبکہ اس کے ممبران میں معدنیات کی سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین، اپوزیشن لیڈر کا نامزد کر دہ ممبر صوبائی اسمبلی ، متعلقہ انتظامی سیکرٹریز ، یونیورسٹی آف پشاور، انجینئرنگ یونیورسٹی پشاور، چیمبر آف کامر س، مائنز رولز اور ورکرز ایسوسی ایشن کے نمائندے شامل ہوں گے ۔صوبائی کابینہ نے خیبرپختونخوا تکنیکی و فنی تربیتی اتھارٹی ٹیوٹا ترمیمی رولز2016 کی منظوری دی جس کے تحت فنی تعلیم کے فروغ ، اس سے متعلقہ معاملات میں شفافیت لانے اور اسے موثر بنانے کیلئے پروکیورمنٹ کمیٹی کی تشکیل نو کی جائے گی ۔

کابینہ نے بس ریپیڈ ٹرانزٹ منصوبے کے تحت یوٹیلیٹیز کی منتقلی کے لئے وسائل کی فراہمی سے اتفاق کیا۔ کابینہ نے محکمہ اطلاعات کی طرف سے مجوزہ رولز برائے پریس اینڈ پبلیکشن ، نیوز پیپرز ، نیوز ایجنسیز، اینڈ بک رجسٹریشن کی بھی منظوری دی ۔وزیراعلیٰ نے حکام پر واضح کیا کہ ہماری ریکارڈ قانون سازی کا مقصد یہ ہے کہ حکومت اور اداروں کا کوئی بھی شعبہ بے قاعدہ یا بے ضابطہ نہ رہے اور ہر جگہ نظم وضبط واضح طور پر نظر آئے۔

اسی طرح کسی بھی محکمے میں معمولی کمزوری بھی برداشت نہیں کی جائے گی اور جہاں کمزوری نظر آئے اُسے بلا تاخیر دور کرنا ہوگا۔انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اداروں کی پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ حد تک اضافہ ہوا ہے دوسرے کئی شعبوں کی طرح محکمہ معدنیات کی آمدن میں دوگنا اضافہ ہوا ہے 48 کروڑ روپے کی سالانہ آمدن اب اڑھائی ارب روپے تک پہنچ چکی ہے نیزپاکستان کی پہلی صوبائی معدنی پالیسی وضع کی گئی ہے۔

پہلے آئیے پہلے پایئے کی بنیاد پر 21نئے سیمنٹ پلانٹس کی تنصیب کے لئے لائسنس جاری کئے گئے جن میں ملاکنڈ ، ہری پور ، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت مختلف اضلاع میں 6 سیمنٹ پلانٹ پر کام تکمیل کے مختلف مراحل میں ہے۔اسی طرح لائسنس اجراء سمیت تمام معاملات اور شعبوں میں مکمل شفافیت یقینی بنائی گئی ہے جس کی بدولت ماضی کے کک بیک اور کرپشن کے واقعات اب قصہ پارینہ بن گئے ہیں اور نہ صرف عوام بلکہ سرمایہ کاروں کا اداروں پر اعتماد بڑھ چکا ہے۔

ماضی میں فرد واحد کو سینکڑوں لائسنس کے اجراء اور غلط استعمال کی کہانیاں بھی عام تھیں ۔ پی ٹی آئی کی حکومت آنے سے قبل کسی کو 178 لائسنس ملے تھے تو کسی کے پاس 175 لائسنس تھے مگر اب ایک سرمایہ کار کو صرف تین لائسنس جاری ہوں گے ۔اب حکومت شفاف طریقے سے سرمایہ کاری کیلئے لیزز اور لائسنسز کا طریقہ کار وضع کر چکی ہے ۔حکومت کایہ جرات مندانہ اقدام ہے کہ تمام مائننگ سسٹم کو بین الاقوامی معیار کے برابر لا کر کھڑ ا کیا ہے اور اس عمل سے قومی خزانے کو 48 کروڑ روپے کے اضافی وسائل فراہم ہوئے ہیں۔

یہ پورا سسٹم آن لائن کرنے کا عمل حوصلہ افزاء ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاری کیلئے 2294 درخواستیں مائنز اور منرل کے شعبے میں وصول ہو چکی ہیں۔ انہوں نے محکمہ مائنز اینڈ منرل سے کہا کہ وہ نئے سسٹم کو میڈیا کے ذریعے اُجا گر کریں تاکہ ماضی کے سسٹم اور آج کے سسٹم میں بہتری کا فرق نمایاں نظر آئے ۔ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اور منرل ڈیپارٹمنٹ بیٹھ کر کرشنگ اور دیگر اُمور کے لئے گائیڈ لائن پر مبنی سفارشات وضع کریں اور یہ عمل ایک ہفتے کے اندر مکمل ہو جا نا چاہیئے ۔

انہوں نے یقین کا اظہار کیا کہ مائنز اینڈ منرل سیکٹر گورننس ریفارمز ایکٹ 2017 جس کو کیبنٹ نے آج منظور کیا، سے ایک متفقہ سوچ وضع ہو گی اور اس میں مکمل شفافیت نظر آئے گی ۔ٹیکنیکل ایجوکیشن میں ترامیم کیلئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اُن کی حکومت نے ہر شعبے میں آزاد اور خودمختار بورڈز اور اتھارٹیز قائم کئے ہیں اور اُن کو اختیارات بھی دیئے ہیں تاکہ وہ بہتر نتائج دے سکیں لیکن اس میں وہ توقعات پوری نہ ہو سکیں اسلئے قوانین میں ترامیم کرنا ضروری ہو گیا ہے تاکہ بورڈزاور اتھارٹیز کے کام میں بہتری لائی جا سکے ۔