بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد و بااختیار فورس بنایا ٗ پرویز خٹک

پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد و بااختیار فورس بنایا ٗ پرویز خٹک

پشاور ۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ افغانستان کا امن پورے خطے کیلئے ناگزیر ہے۔ دیرپا امن کیلئے ضروری ہے کہ عالمی طاقتیں سیاسی مقاصد سے بالا ہو کر سنجیدگی سے اس مسئلے کا حل نکالیں۔ اس حقیقت سے ہر کوئی واقف ہے کہ افغان سرزمین کو کس طرح اپنے اہداف کے حصول کیلئے استعمال کیا گیا اور پھر تنہا چھوڑدیا گیا جس کی وجہ سے حالات دن بدن بگڑتے چلے گئے۔

اس سارے کھیل میں سب سے زیادہ نقصان ہمیں اُٹھانا پڑا، ہزاروں کی تعداد میں ہمارے شہری مر بھی رہے ہیں اور دہشتگردی کا موردالزام بھی ہمیں ٹھہرایا جا رہا ہے۔ جب تک عالمی سطح پر شدت پسند تنظیموں کی فنڈنگ کا سلسلہ نہیں روکا جاتا تب تک یہ مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہو سکتا ۔ خیبر پختونخوا حکومت نے امن کے قیام کیلئے نیشنل ایکشن پلان کے تحت اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن سرانجام دی ہیں اس سلسلے میں قومی ادارے ہماری کارکردگی کے معترف ہیں۔ ہم نے صوبے میں پہلی بار انسداد دہشتگردی کا ادارہ سی ٹی ڈی قائم کیا۔ پولیس کیلئے ڈویژن کی سطح پر ٹریننگ سکول بنائے ۔

پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد کر کے ایک بااختیار فورس بنایا ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک خود طاقتور نہیں ہوں گے تو کوئی دوسرا ہمارا ہمدرد نہیں ہو سکتا بلکہاس کے برعکس مخالف طاقتیں ہماری کمزوری کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر تی ہیں۔ ہمیں اپنی کمزوریوں کو دور کر کے ایک زندہ قوم کے طور پر اٹھ کھڑا ہونا ہوگا ۔ سیاسی سطح پر جو غلطیاں ہوئیں ان کا ازالہ کرنا ہوگا۔ اس مقصد کیلئے سیاسی مداخلت سے آزاد اور بااختیار اداروں کا قیام اورنظام کی شفافیت پہلا قدم ہے جس کے لئے قوم کا درد رکھنے والی ایماندار ، مخلص اور باصلاحیت سیاسی قیادت کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں بلوچستان کی مختلف جامعات کے فیکلٹی ممبران اور طلباء و طالبات کے 180 رکنی وفد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اعلیٰ تعلیم مشتاق غنی، ایم پی اے شوکت یوسفزئی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے ۔

وزیراعلیٰ نے وفد کا خیبر پختونخواکا دورہ کرنے پر شکریہ ادا کیا اور انہیں خوش آمدید کہا وزیراعلیٰ نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے فیکلٹی ممبران اور نوجوان طلباء و طالبات نے جغرافیائی اور لسانی امتیازات کو ایک طرف رکھتے ہوئے خیبر پختونخوا کا تعلیمی ومطالعاتی دورہ کرکے قوم دوستی اور ہم وطن ہونے کا عملی مظاہرہ کیا ہے جو دونوں صوبوں کے عوام کے درمیان روابط بڑھانے کے سلسلے میں خوش آئند ہے ۔

وزیراعلیٰ نے طلباء و طالبات سے کہا کہ آپ اس قوم کا مستقبل ہیں آپ نے اس ملک کو آگے لے کر جانا ہے۔ نوجوان ہماری امید ہیں جنہوں نے ماضی کی محرومیوں کا ازالہ کر کے اپنے مستقبل کو روشن کرنا ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ غیر مساوی اور غیر معیاری تعلیم پورے پاکستان کا مسئلہ رہا ہے ہمارے سیاست دان دعوے اور باتیں بہت کرتے ہیں مگر عملی طور پر کچھ نہیں کر پاتے اس قوم کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور خوشحال معاشرے کے قیام کیلئے ملک بھر میں تعلیم کی ایمرجنسی چاہئے جس طرح خیبر پختونخوا حکومت نے تعلیم کی ضرورت و اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے شروع دن سے صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی بیک وقت پرائمری سے لے کر یونیورسٹی تک تمام تعلیمی اداروں پر توجہ مرکوز کی ہمارا تعلیمی بجٹ چار سالو ں میں دو گنا سے بھی آگے چلا گیا ہے۔

35 ارب روپے صرف پرائمری سکولوں کی بہتری پر لگائے گئے اسی طرح اربوں روپے ہائر سیکنڈری سکولوں کا معیار بلند کرنے پر خرچ کر رہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو وسائل دے رہے ہیں اس صوبے میں دو نئی خواتین یونیورسٹیوں پر کام شروع ہے۔بلوچستان کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ بھی اپنے صوبے میں حکمرانوں کو احساس دلائیں کہ تعلیم ہی آگے جانے کا واحد راستہ ہے ۔ہم تعلیمی میدان میں بہت پیچھے ہیں۔

اس لئے تعلیم و تحقیق کے میدان میں ہمیں تیز رفتاری کے ساتھ ایک لمبا سفر طے کرنا ہے خیبر پختونخوا کی طرح بلوچستان کے عوام نے بھی بڑی مشکلات اٹھائی ہیں مگر ان سے گھبرانا نہیں چاہئے ہم بلوچستان کی تکلیف کو محسوس کرتے ہیں اور انکے ساتھ ہیں۔ سی پیک کی وجہ سے بلوچستان کا مستقبل روشن ہے سی پیک کا مغربی روٹ جو خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں نے مشترکہ جدوجہد کے ذریعے حاصل کیا ، ایک کامیاب ترین روٹ ہوگا کیونکہ یہ براہ راست بلوچستان سے لنک کرتا ہے اور مختصر ترین روٹ ہے۔ آرمی پبلک سکول میں دہشتگردی کے واقعے اور صوبائی حکومت کی قیام امن کیلئے کاوشوں سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ آرمی پبلک سکول کا واقعہ ایک افسوسناک اور تاریخ کا تاریک ترین دن تھا۔

معصوم بچوں کو جس بے دردی سے مارا گیا وہ ہم فراموش نہیں کر سکتے مگر دوسری طرف وہ ہولناک دن پاکستان کیلئے فیصلہ کن بھی ثابت ہوا ۔اس واقعے کے بعد ہمارے اداروں خصوصاً پاک فوج نے امن کیلئے جو جدوجہد کی اور عوام نے جس حوصلے کا مظاہرہ کیا وہ قابل ستائش ہے۔ صوبائی حکومت نے ملک میں قیام امن کی کوششوں میں نہ صرف تعاون کیا بلکہ بڑھ چڑھ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کیں وزیراعلیٰ نے کہا کی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی بارڈرمینجمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے بھی بہت نقصان ہوا۔ جب بارڈر آمدورفت کیلئے اوپن ہوں، کوئی پوچھ گچھ نہ ہو تو اندرونی سیکورٹی انتظامات نتیجہ خیز نہیں ہو سکتے۔

بارڈرز کوبالکل کھلا چھوڑدینا اس بات کی دلیل ہے کہ ہم خود دعوت دے رہے ہیں کہ ہم مرنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں، جو چاہے جب چاہے آئے اور ہم پر وار کرے۔ یہ ایک عجیب صورت حال تھی اسلئے ہماری حکومت نے بارڈرمینجمنٹ پر زور دیا جس سے واضح فرق پڑا ہے آج بغیر کسی شناخت کے کوئی شخص ہمارے بارڈر کو عبور نہیں کر سکتا۔ قومی اسمبلی میں صوبوں کی کم نمائندگی اور وسائل کی کمی کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی قومی اسمبلی میں نمائندگی کم ہے اور ہمیں مساوی حقوق اور وسائل لینے میں مشکل درپیش ہے۔

اس پر سوچنے کی ضرورت ہے مگر وفاق کے سامنے ہتھیار ڈال دینا بھی مسئلے کا حل نہیں ہے اگر صوبے کے چیف ایگزیکٹیو میں جرأت ہو تو وہ صوبے کے آئینی حقوق لے سکتا ہے اپنے حق کیلئے لڑنا پڑتا ہے بصورت دیگر کچھ حاصل نہیں ہوتا وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس وقت مرکز میں ہماری مخالف جماعت ہے مگر اس کے باوجود ہم نے اپنے آئینی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا ہم اپنے حقوق تقریباً لے چکے ہیں جبکہ دیگر چھوٹے صوبے اس سلسلے میں ابھی تک ناکام ہیں سی پیک کے تناظر میں چینی زبان کے سیکھنے کے حوالے سے صوبائی حکومت کی کوششوں سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت سی پیک کی وجہ سے مستقبل کی ضروریات کا نہ صرف ادراک رکھتی ہے بلکہ عملی طور پر کام کر رہی ہے۔

چینی زبان کے مختلف یونیورسٹیوں میں کورسز شروع ہو چکے ہے بیجنگ روڈ شو میں چین کی مختلف جامعات کے ساتھ 18 ایم او یوز ہوئے ہیں ایک ہفتہ قبل ہم 200 نوجوانوں کو چینی زبان سیکھنے کیلئے سکالرشپ پر چین بھیج چکے ہیں عنقریت مزید 500 نوجوانوں کوبھیج رہے ہیں ۔ اسکے علاوہ صوبے میں فنی تربیتی مراکز قائم کئے گئی ہیں کیونکہ ہمیں مستقبل میں ہنر مند اور تعلیم یافتہ افرادی قوت کی ضرورت ہو گی ۔

وزیراعلیٰ نے وفد کی طرف سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے نوجوانوں میں باہمی روابط کو فروغ دینے کیلئے حکومتی سطح پر اقدامات کی تجویزسے اتفاق کیا اور کہاکہ یہ ایک اچھی تجویز ہے ۔ ہم اس سلسلے میں مل کر کام کریں گے۔ ہم نے دوریوں کو ختم کرکے ثابت کرنا ہے کہ ہم سب ایک اور متحد پاکستانی قوم ہیں۔