بریکنگ نیوز
Home / کالم / گل ای کوئی نیءں

گل ای کوئی نیءں

وقت کے بہاؤ کے ساتھ بہت سارے اظہار‘ جذبات اور محاورے وغیرہ بہہ جاتے ہیں بلکہ متروک ہوجاتے ہیں، خاص طورپر محاورے تو اکثر لایعنی لگنے لگتے ہیں‘ ہمیں پرانے لوگوں کو نہیں‘ نئی نسل کو تو ان پر ہنسی آتی ہے‘ اکثر محاورے براہ راست کسی خاص سرزمین اور اس کی ثقافت سے جنم لیتے ہیں، مثلاً میری بیٹی جب سکول میں تھی تو ایک روز قدرے پریشان سی واپس آئی اور کہنے لگی ابو یہ رادھا کون تھی؟ میں نے اپنے تئیں اسے رادھا اور کرشن کی روایت کے بارے میں کچھ بتایا تو وہ جھنجھلا کر بولی خیر وہ جو بھی تھی وہ نومن تیل کے بغیر ناچتی کیوں نہیں تھی، ویسے یہ ناچ گانا اسلام میں جائز تو نہیں، دراصل سکول میں اسے نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی، کا محاورہ پلے پڑ گیا اور وہ پریشان ہو گئی کہ یہ اس کی ثقافت سے متعلق نہ تھا، اسی طور ’’الٹے بانس بریلی کو ‘‘بھی ہماری نئی نسل سمجھ نہیں پاتی کہ انہیں کیا پتہ کہ یہ بریلی کہاں ہے اور وہاں بانس کیوں نہیں بھیجے جاسکتے، اگرچہ یہ نسل نیو کاسل کے بارے میں آگاہ ہے کہ وہاں کوئلہ ہوتا ہے اور کوئلہ نیو کاسل بھیجنا دانش مندی نہیں ہے، ہم جب بچے ہوا کرتے تھے اور یہ بھی تو قبل ازمسیح کے قصے ہیں تو جغرافیے کی کتاب میں درج ہوتا تھا کہ فلاں ملک سے فلاں فلاں اشیاء دساور کو بھیجی جاتی تھیں، مجال ہے ہمیں آج تک اندازہ ہوکہ یہ دساورکس بلاکا نام ہے۔

کتاب میں پڑھا اور امتحان کے پرچے میں جوں کا توں لکھ کرپاس ہوگئے، ہم اسے پشاور کا کوئی کزن وغیرہ ہی سمجھتے رہے اسی طور جذبات میں بھی تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے، محبت اور نفرت کے رونے دھونے اور پرمسرت ہونے کے انداز بھی بدلتے رہتے ہیں، سب سے بڑی تبدیلی اظہار میں ہوتی ہے، مثلاً ’’یار‘‘کا لفظ نہایت معیوب اور مخرب الاخلاق گردانا جاتا تھا، اگر کوئی لڑکی یہ لفظ استعمال کرتی تھی تو فوری طورپر یہ تصور کرلیاجاتا تھا کہ یہ تو گھر سے بھاگ جائیگی، اب یہ حالت ہے کہ بچے ماں باپ کو یار یار کرتے پھرتے ہیں اور مجھ بابا جی کو بھی لڑکیاں کبھی کبھار یار کہہ بیٹھتی ہیں، اگرچہ دل ذرا خوش خوش ہوجاتا ہے لیکن ان کی اخلاقی گراوٹ پر افسوس ہوتا ہے، اس خواہش کیساتھ کہ اگر یہ ایک مرتبہ پھر ہمیں یار کہہ دیں تو خزاں آلود گلشن میں بہار آجائے کچھ یہی معاملہ تکیہ کلام کا ہے، بول چال میں اکثر لوگ کسی نہ کسی تکیہ کلام پر تکیہ کرتے تھے، میرے ماموں جان ہر بات کے ساتھ ’’ناں کلیدا‘‘ کا اضافہ کردیتے تھے، ہم اسے فارسی زبان کا کوئی لفظ سمجھتے تھے اور پر کھلا کہ وہ ’’ناں کی لئیدا‘‘یعنی نام کیا لیتے ہیں، کہتے ہیں مثلاً آج میں گوالمنڈی گیا تو وہاں کیا نام لیتے ہیں، وہ مل گیا اور وہ کھارہا تھا نام کیا لیتے ہیں، شاید امرود، میں نے اس سے پوچھا کہ نام کیا لیتے ہیں تو تم نے حجامت کس سے کروائی ہے اور ممانی سے مخاطب ہو کر یعنی میری چوتھی ممانی سے مخاطب ہو کر وہ اکثر کہتے، آج سینما دیکھنے جانا ہے، وہ فلم ، نام کیا لیتے ہیں اور تم وہ پہننا زیور، نام کیا لیتے ہیں، میری ابا جی کا تکیہ کلام ذرا دعائیہ نوعیت کا تھاوہ اپنی گفتگو میں ’’وہ تیرا بھلا ہوجائے ‘‘ ٹانکتے جاتے تھے۔

اگر میں کہتا کہ اباجی میں ا لجبرے میں فیل ہوگیا ہوں تو وہ کہتے ’’اوہ تیرا بھلا ہو جائے‘‘اور اگر کہتا کہ میں اردو اور تاریخ جغرافیہ میں فرسٹ آیا ہوں تو وہی اظہار کہ ’’اوہ تیرا بھلا ہوجائے ‘‘مجھے حیرت ہے کہ میرے بیٹے سمیر نے اپنے دادا جان کا تکیہ کلام وراثت میں قبول کرلیا ہے، ابھی حال ہی میں جب اسے کیمبرج یونیورسٹی میں ایک سیمینار کیلئے مدعو کیاگیا تو اس کا پہلا ردعمل یہی تھا کہ ’’اوہ تیرا بھلا ہوجائے‘‘ان زمانوں میں پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈراموں میں بھی کسی نہ کسی کردار کو کوئی تکیہ کلام سونپ دیا جاتا تھا اوراکثر ڈرامہ فلاپ ہوجاتا تھا اور تکیہ کلام ہٹ ہوجاتا تھا، دراصل کسی ایک مخصوص فقرے کو چاہے وہ کتنا ہی مہمل کیوں نہ ہو اگر مناسب مقامات پر ادا کیاجائے تو وہ مقبول ہوجاتا ہے، میں دوسرے ڈرامہ نگاروں کا دل نہیں دکھانا چاہتا کہ میں خود اس نوعیت کے شوشے چھوڑا کرتاتھا، مثلاً میری پنجابی ڈرامہ سیریل ’’چانن تے دریا‘‘میں ملک انوکھا مرحوم کہاکرتا تھاکہ چار پیسے تو لگ گئے ہیں لیکن چیزاچھی بن گئی ہے یا’’ہزاروں راستے‘‘میں اورنگ زیب لغاری کو میں نے شعیب بن عزیز کا مشہور عالم مصرعہ ’’اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں‘‘ادا کرنے کیلئے کہا اور وہ ہٹ ہوگیا۔یورپ کی جانب زمینی سفر کے دوران ایک رنگین طبیعت کے ادھیڑ عمر شیخ صاحب سے ملاقات ہو گئی اور میں نے اپنے سفر نامے ’’نکلے تری تلاش میں‘‘ میں اس ذات شریف کا تذکرہ کیا ہے اور ان کا تکیہ کلام تھا ’’گل ای کوئی نئیں‘‘تہران پہنچ کر انہوں نے ہم نوجوانوں کو کہا تھا کہ بچو تیار ہوجاؤ۔

کپڑے اچھے پہنو اور خوشبو لگا لو کہ ہم تہران کے بازار جارہے ہیں، ہمارے انکار پر بے حد رنجیدہ ہوئے اور نئی نسل کے مستقبل سے یکسر مایوس ہوکر کہنے لگے ’’بچوں کسی بھی ملک کی ثقافت جاننے کیلئے پہلی شب وہاں کے بازار میں بسر کرنی چاہئے‘‘ہم نے پوچھا کہ اگر وہاں ہمیں پولیس نے پکڑ لیا تو کہنے لگے ’’گل ای کوئی نئیں‘‘ہم نے پھر پوچھا کہ اگر گرفتارہوگئے تو اطمینان سے بولے ’’گل ای کوئی نئیں‘‘زیادہ سے زیادہ جیل چلے جائیں گے‘ ان دنوں مجھے وہ شیخ صاحب بہت یاد آتے ہیں کہ ان کا تکیہ کلام پاکستان بھر میں نہایت مقبول ہے۔ ’’حضور! مسلسل لوڈشیڈنگ کے نتیجے میں انڈسٹری تباہ ہو گئی ہے‘ ہم ایک اندھیر نگری میں ہیں‘ بچے بلبلا رہے ہیں‘ مریض مررہے ہیں، دنیا کے کسی اور ملک میں یہاں تک کہ نیپال اور بنگلہ دیش میں بھی اتنی تاریکی نہیں ہے۔‘‘ ’’گل ای کوئی نئیں‘‘وہاں سے جواب آتا ہے جہاں کے دن رات روشن ہیں، ’’جناب عالی! پورا ملک بدامنی کی لپیٹ میں ہے، کراچی ایک شہر نہیں ایک مقتل ہے، قاتلوں کے حق میں جلوس نکالے جاتے ہیں،اور گھیا تو ریاں اور ٹماٹرسوڈیڑھ سو روپے کلو کے حساب سے فروخت ہو رہے ہیں۔‘‘’’گل ای کوئی نئیں‘‘حضور یوں تو پاکستان کا وجود خطرے میں پڑجائے گا، ہم پھر سے ہندو کی غلامی میں آجائیں گے۔
’’گل ای کوئی نئیں‘‘