بریکنگ نیوز
Home / کالم / بڑھاپا دیکھ کر رویا

بڑھاپا دیکھ کر رویا

کسی کو اگر آپ یہ دعا دیں کہ جا خدا تمہارا بڑھاپا لمبا نہ کرے تو وہ نالاں ہو جاتا ہے کئی لوگوں کا تو یہ کہنا ہے کہ لمبی عمر بجز رسوائی کے کچھ بھی نہیں کیا یہ رسوائی نہیں کہ آپ کی سانس تو چل رہی ہو لیکن آپ خود نہ اٹھ سکیں اور نہ بیٹھ سکیں اس کیفیت کو مرزا غالب سے بہتر بھلا اور کون بیان کر سکتا تھا۔
مضمحل ہو گئے قویٰ غالب
وہ عناصر میں اعتدال کہاں
اب سمجھ آتی ہے کہ بزرگ کیوں یہ دعا کرتے تھے کہ اللہ پاک ہمیں چلتا پھرتا اس دنیا سے اٹھا لے چار پائی کا محتاج نہ کرے اس دعا میں بڑی دانش اور حکمت ہے یورپ اور امریکہ اور دیگر کئی خوشحال ممالک میں جہاں میڈیکل سائنس کے طفیل اعلیٰ قسم کی طبی سہولیات وہاں کے عوام کو میسر ہیں وہاں بوڑھوں کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہو گیا ہے ان کی عمر یں تو زیادہ ہو گئی ہیں لیکن ان کو سنبھالنے اور ان پر میڈیکل کی مد میں اخراجات میں بھی از حد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ان کو جواں لوگوں کے مقابلے میں بلا شبہ زیادہ نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے اگر کسی بوڑھے کو کسی بیماری میں سرجری کی ضرورت ہو اور اس قسم کی بیماری میں کسی جواں سال انسان کو بھی سرجری کی ضرورت ہو تو وہاں کے ڈاکٹر بوڑھے مریضوں کو ویٹنگ لسٹ میں ڈال کر پہلے جواں سال مریضوں کی سرجری کرتے ہیں کیونکہ کہ ان کے نزدیک بوڑھے کی زندگی بچانے سے زیادہ جوان کی زندگی بچانا زیادہ ضروری ہے بوڑھے دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ کہ جو ضعیف تو ہوتے ہیں لیکن کسی بیماری میں مبتلا نہیں ہوتے ان کی تعداد البتہ بہت ہی کم ہے ہم نے تو ایسا شخص شاذ ہی دیکھا ہے کہ جو چالیس کے پیٹے میں پہنچ چکا ہو اور کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا نہ ہو کسی کو شوگر ہے تو کسی کو بلڈ پریشر کسی کو گردے کی تکلیف ہے تو کوئی دل کے عارضے میں مبتلا ہے بلا شبہ ہر شخص چار پانچ سو روپے کی میڈیسن ہر ماہ کھا رہا ہے ۔

جو ایلو پیتھی کا مہنگا علاج کرانے کی سکت نہیں رکھتے وہ بے چارے ہومیوپیتھک دوائیاں کھا رہے ہیں جو قدرے ارزاں ہوتی ہیں بوڑھوں کی دوسری کیٹگری میں وہ بوڑھے شامل ہیں جو کسی نہ کسی بیماری میں بھی مبتلا ہیں ویسے پچھلی عمر بذات خود ایک بڑی بیماری ہے بوڑھوں کی ایک اور قسم بھی ہے کہ جن کو اپنے سفید بالوں میں خضاب لگانا اچھا لگتا ہے لیکن بال کالے کرنے سے انسان جوان تھوڑی ہی ہو جاتا ہے خود کشی تو جہاں تک ہمارا علم ہے ہر مذہب میں حرام ہے یورپ اور امریکہ میں البتہ بعض ایسے بوڑھے بھی ہیں کہ 85 برس یا اس سے بھی زائد عمر کے ہیں جن کے دوست یار ساتھی سنگھی اس دنیا سے کب کے جا چکے ہیں ان کے بال بچے ان کو نظر انداز کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اب وہ مزید جی کر کیا کریں گے یا ایسے بوڑھے کہ جو لا علاج قسم کے عوارض میں مبتلا ہیں اور ڈاکٹروں نے ان کو جواب دے دیا کہ وہ کسی وقت بھی داعی اجل کو لبیک کہہ سکتے ہیں اس قسم کے بوڑھے رضاکارانہ طور پر مرنا چاہتے ہیں اور انکی مشکل سویٹرزرلینڈ نے آسان کر دی ہے وہاں کے قوانین میں ترمیم کرکے خودکشی کی اجازت دے دی گئی وہاں ایک ہسپتال کام کر رہا ہے کہ جس میں وہ بوڑھے جو رضاکارانہ طور پر مرنا چاہیں ایک مخصوص فیس جمع کرا کر وہاں داخل ہو جاتے ہیں وہاں ان کو پہلے میٹھا شربت پلاکر بے ہوش کر دیا جاتا ہے اور اس کے بعد زہریلا انجکشن لگا کر انہیں مار دیا جاتا ہے میڈیکل سائنس کی زبان میں اسے Euthanasia اور عام فہم انگریزی زبان میں Mercy Killing کہتے ہیں بڑھاپے کو دیکھ کر ہر بوڑھا روتا ہے اس کیفیت کوشیلندر نے اس نغمے میں بڑے خوبصورت الفاظ میں بیان کیا ہے جو مکیش نے فلم تیر ی قسم میں گایا تھا جس کی موسیقی شنکر جے کشن نے مرتب کی تھی اور جو راج کپور پر فلمایا گیا تھا نغمے کے بول ہیں ’’لڑکپن کھیل میں کھویا‘ جوانی نیند بھرسویا‘ بڑھاپا دیکھ کر رویا ‘ صنم رے جھوٹ مت بولو خدا کے پاس جانا ہے نہ ہاتھی ہے نہ گھوڑا ہے وہاں پیدل ہی جانا ہے ۔