بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / منصوبہ سازی!

منصوبہ سازی!

پاکستان تحریک انصاف کو جہاں ہر کام کرنیکی جلدی رہتی ہے وہیں اس انقلابی تحریک کی یہ ’خوبی‘بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ یہ جماعت نہ تو ہوم ورک کو ضروری سمجھتی ہے اور نہ ہی کسی بڑے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اپنے مفادات کی چھوٹی قربانیاں دینے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ مصلحت شناس ہونا بھی ہنر ہے۔ اپنے سوا ملک کی دیگر سبھی سیاسی جماعتوں کو ایک صف میں شمار کرنے والی تحریک کے ہاں غیرمحتاط بیانات اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے سیاسی مخالفین سے دو دو ہاتھ کرنیکی روایات موجود ہیں‘ جن کی وجہ سے صرف چند ایک سیاسی رہنما ہی تحریک انصاف کی سیاست اور شخصیات پر تبصرہ کرنیکا خطرہ مول لیتے ہیں پاکستان میں طرز حکمرانی کی اصلاح اور ہر قسم کی مالی و انتظامی بدعنوانیوں سے پاک شفاف جمہوریت کا حصول صرف اسی صورت ہوگا جب ہنگامی بنیادوں پر گرمجوش فیصلوں کی بجائے منصوبہ بندی کو ترجیح دی جائے اور ’ہمیشہ دیر کرنے‘روایت ترک کرتے ہوئے سیاسی فیصلوں میں وقت کی اہمیت کو سمجھا جائے۔ تحریک انصاف کے لئے حالیہ چند ماہ میں نواز لیگ کی سیاست کا مطالعہ بہت مفیدہوسکتا ہے نواز شریف نااہل ہوئے تو نئے وزیراعظم کی تقرری کا مرحلہ اگر پہلے سے سوچا سمجھا نہ ہوتا تو پارٹی کے اندر دھڑے بندیاں پیدا ہو سکتی تھیں۔

چوہدری نثار کے بیانات سے اختلاف کی بو آئی لیکن انہیں بذریعہ شہباز شریف قابو کر لیا گیا اور آج تک قابو میں ہیں پھر نواز لیگ کی صدارت جیسا اہم فیصلہ کیا گیا اور باوجود اختلافات کے بھی پارٹی کا شیرازہ بکھرنے نہ دیا گیا۔ ابھی ’پے در پے‘ اجلاسوں اور حتی الوسع رازداری کے ساتھ اجلاسوں کی تھکان دور نہیں ہوئی تھی کہ نواز شریف نے جی ٹی روڈکے راستے لاہور تک خود کو ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں میں قائم رکھا۔ جی ٹی روڈ ریلی کے ساتھ ساتھ ’این اے ایک سو بیس‘ کے ضمنی انتخاب کی تیاری چلتی رہی اور اس دوران پانامہ کیس پر نظرثانی‘ نیب کی احتساب عدالتوں میں مقدمات کی سماعتوں میں تاخیری حربے اختیار کئے گئے‘ساتھ ہی ساتھ قانون ساز ایوان بالا سے انتخابی اصلاحات کا قانون بھی صرف ایک ووٹ کے فرق سے اپنے حق میں منظور کروالیا جبکہ ایوانوں کے باہر دھاڑنے والی تحریک انصاف و حزب اختلاف کی جماعتیں حیران و ششدر اور دھاڑیں مار مار کر روتی رہ گئیں! اٹھائیس جولائی سے لیگی حکمت عملی ہر مرحلے پر کامیاب و کامران ثابت ہوئی ہے جس کے تحت احتساب عدالتوں کی جانب سے طلبی کے احکامات کی وصولی کرنے ہی میں دو ہفتے کا وقت گزر گیا اور اب برطانیہ سے چند روز کیلئے پاکستان آ کر پھر سے مہینوں کا وقت لے لیا گیا ہے۔

‘ جس سے احتساب عدالتوں میں مقدمات باوجود کوشش بھی لٹکتے چلے جائیں گے اور نواز لیگ کی پنجاب اور وفاق میں حکومتیں برقرار رہیں گی‘اس پورے منظرنامے میں نواز شریف کی توجہ آئندہ چیئرمین نیب کی تقرری پر مرکوز ہے‘ جس کیلئے آئین میں تحریر طریقۂ کار یہ ہے کہ یہ عمل حزب اختلاف کے مشورے سے ہونا چاہئے۔ لیگی حلقوں کا کہنا ہے کہ آئین میں یہ بات تو لکھی ہے کہ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی قیادت کرنیوالا نئے چیئرمین نیب کیلئے نام دیگا لیکن آئین میں کہیں یہ نہیں لکھا کہ حکومت اس کے مشورے کو تسلیم کرنے کی پابند بھی ہے! تصور کیجئے کہ ایک طرف عدالتی فیصلوں کو تسلیم کیا گیا اور دوسری طرف چند ایسے سوالات اٹھائے گئے جس سے عدالت عظمیٰ کا کردار عوام کی نظروں میں سوال بن جائے۔ مثال کے طور پر یہ کہنا کہ نواز شریف کے خلاف ہر مقدمے کو نمٹانے میں عجلت سے کام لیا جا رہا ہے‘ سازشی مہرے ہر روز سامنے آ رہے ہیں اور آخر اتنی عجلت کیوں ہے؟

بلاشک و شبہ نواز شریف کو مختلف حیثیتوں میں تیس سال سے زیادہ برسراقتدار رہنے کا عملی تجربہ حاصل ہے اور عملی تجربے کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔ ’کچھ لو کچھ دو‘ کی سیاست سے لیکر کلیدی عہدوں پر منظورنظر افراد کو تعینات کرنے جیسے امور ان کے ایک اشارے سے طے ہو جاتے ہیں‘ وہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان ثابت ہوئے ہیں‘ اور لیگی قیادت سے یہ توقع کرنا کہ وہ اتنی جلدی ہار مان لیگی‘ شاید اتنا آسان نہیں ہوگا۔ نوازشریف اور انکے اہل خانہ بشمول اسحاق ڈار کے خلاف مزید عدالتی فیصلے اگر آتے ہیں تو اِس میں تحریک انصاف یا حزب اختلاف سے زیادہ اُن ریاستی اداروں کی دلچسپی کا عمل دخل ہوگا‘ جو اپنی جگہ منصوبہ بندی کئے بیٹھے ہیں‘ پاکستان کے تغیرپذیر سیاسی منظرنامے میں وہی سیاسی جماعتیں سرخرو قرار پائیں گی‘ جو آج‘ کل اور پرسوں کا سامنا منصوبہ بندی سے کرنے کی اہمیت و ضرورت کو سمجھیں گی۔ تحریک انصاف کی اس سے زیادہ بدقسمتی اور کوئی نہیں ہوگی کہ وہ نواز لیگ کو پانامہ کیس سے احتساب عدالتوں تک لیجانے کے باوجود بھی بیک وقت ایک سے زیادہ محاذوں پر ڈٹ کر مقابلہ نہ کر سکی۔ نواز لیگ کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی باوجود خواہش و مقصد اگر کامیابی ممکن نہیں ہو پا رہی تو دانشمندی یہی ہے کہ دوسروں کو ذہانت کی داد دینے کی بجائے اپنی خامیوں کا شمار کیا جائے۔’’ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں: شکریہ مشورت کا چلتے ہیں۔۔۔ ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد: دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں! (جون ایلیا)۔‘‘