بریکنگ نیوز
Home / کالم / مستقبل کی سیاست

مستقبل کی سیاست

پاکستان مسلم لیگ نے ایک دلیرانہ مؤقف اپنایا ہے اور سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی جانب سے یہ بیان خوش آئند ہے کہ ’شریف خاندان کا ہر فرد نہ صرف اپنے خلاف عائد الزامات کا سامنا کریگا بلکہ ملک آکر ان مقدمات کا سامنا بھی کریگا‘ لیکن نواز لیگ کو عدالتی فیصلوں پر سخت قسم کے تحفظات اور اعتراضات ہیں جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ انہیں اپیل کا حق نہیں دیا گیا حالانکہ آمرانہ دور میں تو انہیں اپیل کا حق دیا گیا تھا مگر آج انہیں اپیل کا حق بھی نہیں دیا گیاجس عدالت نے فیصلہ دیا اسی نے جے آئی ٹی بنائی‘ اسی نے نیب کو حکم دیا اور اسی عدالت نے نیب کا کنٹرول بھی سنبھال لیا۔ نواز شریف کہتے ہیں کہ ’’اب اگر ضرورت پڑی تو یہی عدالت میری آخری اپیل بھی سنے گی۔ ایسے فیصلوں کے خلاف اپیل ہو یا نہ ہو مگر اس کیخلاف پہلا فیصلہ ’جی ٹی روڈ‘ کے راستے عوام نے سنایا‘ اس کے بعد فیصلہ این اے ایک سو بیس نے سنایا اور یہ فیصلے مسلسل آتے رہیں گے اگر آئین پاکستان عوام کو حکمرانی کا حق دیتا ہے تو اسے تسلیم کرلینا چاہئے‘ میں بہرصورت عوام کے ساتھ کھڑا رہوں گا‘ انصاف کو انتقام بنانے سے سزا عدالتی عمل کو ملتی ہے۔

‘‘نوازشریف کا ملک واپس آکر احتساب عدالت میں پیش ہونا‘ اپنے کیس کے دفاع کا اعلان کرنا اور نیب کے ریفرنسوں میں ملوث اپنے خاندان کے دیگر ارکان کے بھی ملک واپس آکر اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرنے کا عندیہ خوش آئند اور انکی طرف سے آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری تسلیم کرنے کا پیغام ہے۔ شریف فیملی کے رکن اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر احتساب عدالت کی جانب سے فردجرم بھی عائد کر دی گئی ہے‘ انہیں اور میاں نوازشریف سمیت شریف فیملی کے دوسرے متعلقہ ارکان کو ان ریفرنسوں میں اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے جو عدالتی کاروائی میں شریک ہو کر ہی حاصل کیا جا سکتا ہے تاہم میاں نوازشریف نے اپنی پریس کانفرنس میں جو لب و لہجہ اختیار کیا اور شریف فیملی کیخلاف مقدمات کے حوالے سے براہ راست عدلیہ پر انتقامی کاروائی کا الزام عائد کیا اور پھر عوام کے فیصلوں کو عدالتی فیصلوں کی نفی قرار دیا‘ اس سے بادی النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے خلاف مقدمات کا میرٹ پر دفاع کرنے کی بجائے پہلے ہی کی طرح اداروں کے ساتھ ٹکراؤ اور محاذآرائی کی پالیسی پر ہی گامزن ہیں‘ وہ اس امر پر شاکی ہیں کہ انہیں اپیل کا موقع بھی نہیں دیا گیا جبکہ ان کیخلاف فیصلہ صادر کرنیوالی عدالت نے نیب کی نگرانی بھی سنبھال لی ہے‘ اس طرح وہ احتساب عدالت کے فیصلہ سے پہلے ہی اسے متنازعہ قرار دلانے کی حکمت عملی طے کئے بیٹھے نظر آتے ہیں۔ عدلیہ کے بارے میں ان کے تبصرے سے بھی یہی اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ انصاف کے اس ادارے کی آئینی ذمہ داریوں کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں جبکہ وہ عدالت میں پیش ہو رہے ہیں اور اپنے خاندان کے دوسرے متعلقہ ارکان کے بھی عدالت میں پیش ہونے کا عندیہ دے رہے ہیں‘ اس سے ان کی سوچ اور حکمت عملی میں واضح تضاد نظر آتا ہے جس کا بہرصورت انہیں ہی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ نواز لیگی ذرائع سے عندیہ تو یہی مل رہا تھا کہ سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کی مشاورت اور معروضی حالات میں طے کی گئی حکمت عملی کے تحت وہ ریاستی اداروں کے ساتھ ٹکراؤ مول نہ لینے پر آمادہ ہو گئے ہیں اور اسی بنیاد پر ان کا ملک واپس آنا ممکن ہوا ہے۔

ان کی احتساب عدالت میں پیشی سے پہلے بھی پنجاب ہاؤس میں چودھری نثارعلی خان کے ساتھ طویل مشاورت ہوئی اور وہ میاں نوازشریف کی پریس کانفرنس کے دوران ان کے ہمراہ بھی رہے تاہم انہوں نے پریس کانفرنس میں جس انداز میں عدلیہ پر ملبہ ڈالا اور سقوط ڈھاکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ منتخب قیادت کو نشانہ بنانے سے کہیں پھر کوئی سانحہ نہ ہو جائے۔ اس سے تو یہی نتیجہ اخذ ہوتاہے کہ نوازشریف محاذآرائی کی سیاست پر ڈٹے رہنا چاہتے ہیں اور عدلیہ کے فیصلوں پر عوام کے ممکنہ فیصلوں کو ترجیح دے رہے ہیں جبکہ عوام انتخابی عمل کے ذریعہ ہی کسی کو مسترد کر سکتے ہیں یا حکمرانی کا مینڈیٹ دے سکتے ہیں۔ اگر میاں نوازشریف کی اختیار کی گئی محاذآرائی کی سیاست میں خدانخواستہ پورے جمہوری نظام کو نقصان پہنچنے کی نوبت آگئی تو پھر عوام ان کے حق میں فیصلہ کہاں صادر کریں گے؟ عوام کا فیصلہ لینے کے لئے تو بہرصورت رواداری کا ایسا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ مقررہ آئینی میعاد میں آزادانہ منصفانہ اور شفاف انتخابات کے مراحل طے ہو جائیں جس کیلئے بنیادی طور پرنوازشریف نے کردار ادا کرنا ہے کیونکہ ان کے وزارت عظمیٰ سے الگ ہونے کے باوجود حکومت انہی کی پارٹی کی ہے اگر وہ اپنی پارٹی کی حکومت کے دوران بھی حزب اختلاف کے رہنما والا کردار سنبھالیں گے تو اس سے حکمران لیگی گورننس کو ہی نقصان پہنچے گا جسکا جواز بنا کر ماورائے آئین اقدامات کی سوچ کے حامل عناصر کو جمہوریت کی بساط الٹانے سے متعلق اپنے مقاصد کی تکمیل کا موقع مل سکتا ہے۔ کیا کوئی بھی سیاسی جماعت اس مرحلے پر چاہے گی کہ پاکستان میں جمہوری عمل کا تسلسل متاثر ہو؟(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: انور سید خان۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)