بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ایم ڈی خیبر بینک کی برطرفی کا نوٹس واپس

ایم ڈی خیبر بینک کی برطرفی کا نوٹس واپس

پشاور۔خیبرپختونخواحکومت نے بنک آف خیبرکے منیجنگ ڈائریکٹرشمس القیوم کی برطرفی کانوٹس واپس لے لیاہے جس پرپشاورہائی کورٹ کے جسٹس لعل جان خٹک اورجسٹس قلندرعلی خان پرمشتمل دورکنی بنچ نے ایم ڈی کی جانب سے دائررٹ پٹیشن واپس لینے پرنمٹاتے ہوئے خارج کردی عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے بنک آف خیبرکے ایم ڈی شمس القیوم کی جانب سے عبدالرؤف روحیلہ ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائررٹ پٹیشن کی سماعت کی اس موقع پر ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخواعبداللطیف یوسفزئی نے عدالت کو بتایا کہ بنک آف خیبرکے منیجنگ ڈائریکٹر شمس القیوم کی تقرری یکم اکتوبر2010ء کو کنٹریکٹ پرتین سال کے لئے عمل میں لائی گئی تھی۔

جن کی مدت آج جمعہ 29ستمبرکوپوری ہوجائے گی اوراس ضمن میں صوبائی حکومت کایہ موقف ہے کہ برطرفی کانوٹس درخواست گذار کے لئے کوئی بدنامی کاباعث نہیں بنے گااس بناء خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے نوٹس کوواپس تصورکیاجائے اس موقع پر صوبائی وزیرخزانہ مظفرسید کے وکیل بیرسٹرعامرجاوید نے عدالت کوبتایا کہ خیبرپختونخواحکومت نے جو موقف اختیار کیاہے اس کی روشنی میں عدالت عالیہ جو مناسب سمجھے آرڈر کردے تاہم صوبائی وزیرمظفرسیدکااپناموقف برقراررہے گا جبکہ درخواست گذار شمس القیوم کے وکیل عبدالرؤف روحیلہ نے عدالت کو بتایا کہ رٹ پٹیشن میں نوٹس کی منسوخی اوردرخواست گذار کی مدت ملازمت میں مزید توسیع کی استدعا کی گئی ہے تاہم درخواست گذار ملازمت میں مزیدتوسیع پرزورنہیں دیتے اوراگرصوبائی حکومت نوٹس واپس لے تو ہم اعتراض نہیں کرتے پشاورہائی کورٹ کے جسٹس لعل جان خٹک اورجسٹس قلندرعلی خان پرمشتمل دورکنی بنچ نے اپنے مختصرفیصلے میں قراردیا ہے کہ رٹ پٹیشن پرصوبائی وزیرخزانہ نے جو موقف اپنایاہے اس پررائے دئیے بغیربرطرفی کانوٹس واپس سمجھاجائے اوررٹ پٹیشن واپس کرتے ہوئے نمٹاتے ہیں واضح رہے کہ رٹ پٹیشن میں موقف اختیار کیاگیاہے کہ درخواست گذار شمس القیوم کی تقرری 30ستمبر2014ء کو عمل میں لائی گئی۔

یہ تقرری تین سالوں کے لئے ہے اوراپریل2016میں درخواست گذار کے صوبائی وزیرخزانہ کے ساتھ کچھ اختلافات آئے جس پربنک کی جانب سے اخبارات میں ایک اشتہارشائع ہوا جس میں وزیرخزانہ کے بیان پر بعض وضاحتیں پیش کی گئیں تاہم اس اشتہار کے بعد صوبائی حکومت نے کابینہ ارکان پرمشتمل کمیٹی بنائی جنہوں نے مختلف افراد کے بیانات قلمبند کئے اورستمبر2016ء میں ایک مرتبہ پھراخبارات کو ایک وضاحتی اشتہارجاری ہوا جس میں وزیرخزانہ پراعتماد کا اظہار کیاگیا تاہم صوبائی وزیرخزانہ اس اقدام سے خوش نہیں تھے اوروہ ہرصورت ایم ڈی کو ہٹاناچاہ رہے ہیں اس حوالے سے ایک مرتبہ پھرمختلف سیاسی جماعتوں کے گیارہ ارکان پرمشتمل کمیٹی بنائی گئی۔

جن کاتاحال اجلاس نہیں ہوا مگر ایم ڈی خیبر بنک شمس القیوم کی برطرفی قواعدوضوابط اورقانون کے منافی ہے کیونکہ 6 ستمبر 2017 کو صوبائی کابینہ نے فیصلہ کیا تھا کہ ایم ڈی خیبر بنک کو برطرفی سے قبل نوٹس جاری کیا جائے کیونکہ وزیر خزانہ مظفر سید نے ایم ڈی کے خلاف صوبائی حکومت کو شکایا ت درج کروائی تھی، تاہم محکمہ فنانس نے اس فیصلہ کی بنیاد پر درخواستگزار کو برطرفی کا نوٹس جاری کیا اور موقف اختیار کیا کہ ایم ڈی خیبر بنک نے سیکشن 7 آف کنٹریکٹ ایگرنمنٹ کی خلاف ورزی کی ہے کیونکہ اس نے مختلف اخبارات میں اشتہارات کے ذریعہ وزیر خزانہ پر بے بنیادالزامات عائد کئے تھے جو کہ اختیارات کا ناجائز استعمال ہے ، علاوہ ازیں نوٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک ہفتے کے بعدایم ڈی خیبر بنک شمس القیوم ملازمت سے برطرف ہو گا، انہوں نے مزید بتایا کہ برطرفی کا نوٹس بغیر انکوائری کے جاری کیا گیا جو کہ اختیارات سے تجاوزاور غیر قانونی اقدام ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ 15 اپریل2016 کو صوبائی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی نے بھی ان اشتہارات کے حوالے سے اپنا فیصلہ جاری کیا تھا جس پر ایم ڈی خیبر بنک نے معذرت بھی کی تھی تاہم اب ان الزامات کو دوبارہ بنیاد بناء کر ایم ڈی کو عہدے سے برطرف کیا گیا جو کہ غیر آینی و غیر قانونی اقدام ہے ۔