بریکنگ نیوز
Home / صحت / خون نکالے بغیر بلڈ شوگر چیک کرنے والا انقلابی اسٹیکر

خون نکالے بغیر بلڈ شوگر چیک کرنے والا انقلابی اسٹیکر

واشنگٹن: ایبٹ کمپنی نے 24 گھنٹے خون میں شکر کی کمی بیشی نوٹ کرنے والا ایک ایسا آلہ تیار کیا ہے جو جلد سے منسلک ہوکر ہمہ وقت خون میں شکر کی مقدار نوٹ کرتا رہتا ہے اور اس کےلیے بار بار انگلیوں کو چھید کر خون بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

ایبٹ کا انقلابی گلوکوز سینسر جسے ایف ڈی اے نے امریکہ میں فروخت کی اجازت دیدی ہے۔ یہ گلوکومیٹر ہر لمحہ خون میں کمی بیشی نوٹ کرتا رہتا ہے۔ فوٹو: ایبٹ

اسے فری اسٹائل لبرے کا نام دیا گیا ہے جو مسلسل خون میں شکر کی کمی بیشی نوٹ کرتا رہتا ہے اور بدھ کے بعد سے امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (ایف ڈی اے) نے اس انقلابی آلے کی فروخت کی اجازت دیدی ہے۔ جلد سے چپکنے والے آلے میں ایک چھوٹا سینسر لگا ہے جسے بازو کے اوپری حصے کی پشت پر چپکایا جاسکتا ہے اور اس کے بعد یہ اپنا کام شروع کردیتا ہے۔

اس کا پورا نام فری اسٹائل لبرے فلیش گلوکوز مانیٹرنگ سسٹم رکھا گیا ہے جو اب 41 ممالک میں فروخت کےلیے پیش کیا جارہا ہے۔ اس سینسر کےلیے انگلیوں کو چھیدنا ضروری نہیں جس کی تفصیلات ایک دستی آلے کے اسکرین پر نمودار ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہفتے بھر خون میں شکر کے اتار چڑھاؤ، پیٹرن اور کمی پیشی کا بھی خیال رکھا جاسکتا ہے۔ پھر اس کی مدد سے انسولین کی درست مقدار کا جائزہ بھی لیا جاسکتا ہے۔

فی الحال امریکہ میں بچوں پر اس کے استعمال کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ اس آلے میں استعمال ہونے والے ریڈر کی قیمت 70 ڈالر کے لگ بھگ ہے جبکہ 14 دن کام کرنے والے سینسر کی قیمت 69 ڈالر یا پاکستانی 7 ہزار روپے ہیں اور امریکہ میں یہ سینسر صرف 10 روز کام کرے گا۔ اس طرح دونوں کی قیمت 14 ہزار ہوئی تاہم سینسر کے لیے ماہانہ 28 ہزار مزید خرچ کرنا ہوں گے۔

اس قیمت پر ایبٹ کے سینئر وائس پریذیڈنٹ جیرڈ واڈکن نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے اس گلوکو میٹر کی قیمت کم سے کم رکھی ہے۔