بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / طب اورتحقیق

طب اورتحقیق


میری اگلی مریضہ ویل چیئر پر اند ر داخل ہوئی۔ یہ چھبیس سالہ کرینہ تھی۔یہ ایک ہفتہ قبل باورچی خانے میں اُبلا ہوا پانی اپنے اوپر گرا بیٹھی تھی۔ اسکی دونوں ٹانگیں اور بایاں ہاتھ جل گیا‘ گھرمیں تو خواتین نے فوراً زخم صاف کرنے کی کوشش کی لیکن بے تحاشا جلن کے باعث وہ کسی کو ہاتھ لگانے نہیں دے رہی تھی۔ گھر والوں نے زخموں پر ٹوتھ پیسٹ لگایا اور بھائیوں کو فون کردیا۔ ہر رشتہ دار نے اپنا اپنا مشورہ دیا‘ بالآخر وہ پشاور کے مضافات میں ایک نیم حکیم کے پاس روانہ ہوگئے جوایک جادوئی سپرے کرتا ہے اور مریض فوری طور پر ٹھیک ہوجاتا ہے۔ کئی ایک نے تو قسم بھی کھائی کہ ان کے زخموں کے نشان بھی نہیں رہے‘ کرینہ کو وہاں لے جایا گیا تو وہاں ایک لمبی قطار لگی ہوئی تھی‘ دو گھنٹے جان لیوا انتظار کے بعد ان کی باری آئی‘ ماہر حضرت نے سپرے کیا اور گھر بھیج دیا‘ ایک دن تو زخموں میں آرام رہا لیکن پھر وہ سوزش اور خارش شروع ہوئی کہ جینا حرام ہوگیا‘چنانچہ اب میری باری تھی۔کرینہ اچھی خاصی پڑھی لکھی لڑکی تھی۔ اسکے ساتھ جو رشتہ دار آئے تھے وہ بھی پڑھے لکھے تھے۔ میں نے کرینہ کے کپڑوں کی تعریف کی اور پوچھا کہ یہ کس موچی سے بنوائے ہیں۔ وہ ہنس پڑی کہ موچی بھی کبھی کپڑے سیتے ہیں۔ تب میں نے کہا کہ کپڑے تو اسکے ماہر سے سلواتی ہو اور اپنا علاج نیم حکیموں سے کرواتی ہو‘ میں نے زخم دیکھے تو ان کیساتھ سیاہ تارکول لگا ہوا تھا۔ کناروں سے نظر آرہا تھا کہ کرینہ کی جلدصحت یاب ہونیکی کوشش کررہی تھی لیکن اس تارکول نے اسکا رستہ روکا ہوا ہے۔ وہ ہسپتال میں داخل ہوئی‘اگلے دن اسکا آپریشن ہوا۔ خرچہ تو الگ لیکن جلد کو جو نقصان پہنچا تھا اسے ڈھانپنے کیلئے سکن گرافٹ کے بغیر چارہ نہ تھا۔اب کرینہ کے ہاتھ اور ٹانگ پر نہ صرف سکن گرافٹ کے نشان رہیں گے بلکہ جہاں سے جلد لی گئی ہے وہاں بھی نشان رہے گا۔ تاہم انشاء اللہ اگلے ہفتے تک وہ زخم کم از کم بھرجائیں گے گو کہ اسے کم از کم تین ماہ سے چھ ماہ تک اپنی جلد کا خیال رکھنا ہوگا اور مناسب مرہم سے اسکی مالش کرنا پڑے گی۔

یہ حضرت جو پشاور کے مضافات میں جھلسنے کا علاج کرتے ہیں، نہ حکیم ہیں اور نہ ڈاکٹر۔ تاہم ان پر مریضوں کا جو جم غفیر رہتا ہے، وہ ہماری جہالت کی واضح نشانی ہے۔اس میں ان پڑھ لوگوں کو تو چھوڑیں اچھے خاصے پڑھے لکھے، بیوروکریٹ، ٹیکنو کریٹ شامل ہوتے ہیں۔ اس سپرے کی فیس کئی ہزار روپے ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق روزانہ دوسو لوگ اس سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ہماری سادہ لوحی سے ایک شخص روزانہ چھ سات لاکھ روپے کمالیتا ہے لیکن کیا یہ ایک مثال ہے۔ ہر گز نہیں۔ یہ جو ٹی وی چینل پر گھنٹوں کے حساب سے وقت خرید کر اسی قسم کے لوگ شوگر اور بلڈ پریشر کا مکمل علاج کرواتے ہیں بائی پاس سرجری سے لوگوں کو روکتے ہیں‘ ان کے صرف ٹی وی اشتہاروں کا خرچہ مہینے میں کروڑوں روپے ہے۔ ججوں‘ جرنیلوں‘ وزراء کے سرٹیفیکیٹ ان کے مطب پر لگے ہوتے ہیں‘جب آپ ان کے مریضوں سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ان کو فلاں فلاں نے بتایا کہ وہ بالکل ٹھیک ہوگئے تھے۔ انکے مریضوں سے کوئی بھی واقف نہیں ہوتا اسلئے کہ ان کے ایجنٹ اس طریقے سے مشہوری کرتے ہیں کہ کوئی بھی شخص اسکی معلومات کرنے کا تردد نہیں کرتا۔صحت اور معالجے کا ادراک کرنا ایک نازک معاملہ ہے۔ مثال کے طور پر آج آپ نے سلاد میں ٹماٹر زیادہ کھالئے ہوں اور تھوڑی دیر بعد آپ کے سر میں درد ہوجائے تو اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ٹماٹر کھانے سے سردرد ہوجاتا ہے۔ یہی معاملہ درد کے رفع ہونے کا ہے۔

سر کا درد زیادہ تر عارضی ہوتا ہے اور کچھ دیر بعد خود بخود ٹھیک ہوجاتا ہے۔ اس دوران اگر آپ کوئی ہومیوپیتھک دوا لیں‘ کسی حکیم کی دوا استعمال کریں یا مزید ٹماٹر کھالیں، درد نے ٹھیک ہونا ہی ہے۔ ہومیوپیتھک ‘ حکیمی دوا ‘پیرا سیٹامول اور ٹماٹر کے اثرات کا موازنہ کرنے کیلئے مناسب تحقیق کی ضرورت ہے کہ کس دوا کے کتنے وقت بعد درد ٹھیک ہوا‘ کتنے لوگوں میں ٹھیک ہوا اور کتنے لوگوں میں کوئی بھی چیز نہ لینے کے باوجود ٹھیک ہوا۔ پھر ان معلومات کو شماریات کی چھلنی سے گزارا جاتا ہے کہ اس میں کتنے فیصد محض اتفاق تھا اور کتنے فیصد تک حقیقی فرق تھا۔ اسی تحقیق کے غائب ہونے کی وجہ سے مشرقی طب زوال پذیر ہوا اور ہومیوپیتھک طریقہ علاج اب مغربی ممالک سے ختم ہوتا جارہا ہے۔ مشرقی طب کے زوال کی ایک وجہ نسخوں کا سینہ بہ سینہ منتقل ہونا بھی ہے۔ تاہم سب سے بڑی وجہ اس میں تحقیق کے بغیر نسخے بنانا اور ان میں ایلوپیتھک ادویات کا استعمال ہے۔ میرے پاس کئی ہربل میڈیسن کے نمائندوں نے آکر تسلیم کیا کہ کس کس دوا میں کون کون سی ایلوپیتھک میڈیسن ہے لیکن ہربل میڈیسن اور ہومیوپیتھک قطروں کا نام ڈال کر یہ سب ادویات نہ صرف تحقیق کی تنقید سے آزاد ہوجاتی ہیں بلکہ کسی قسم کے ریگولیشن سے بھی مستثنیٰ ہوجاتی ہیں۔ نہ تو ان کے اجزاء کا علم ہوتا ہے اور نہ یہ تردد کیا جاتا ہے کہ ان میں سے کون کون سے اجزاء ایک دوسرے کی خاصیت کو بڑھاتے یا گھٹاتے ہیں ‘اسکے مقابلے میں ایلوپیتھک طریقہ علاج کئی چھلنیوں سے گزرتا ہے۔ جب پہلے پہل کسی دوا یا آپریشن کی دریافت ہوتی ہے تو وہ سب سے پہلے جانوروں میں ٹرائی کی جاتی ہے۔ تاہم اسکے لئے بھی اب بہت سے قوانین بن گئے ہیں اور ہر ایرا غیرا جانوروں پر بھی تحقیق نہیں کرسکتا۔ جانوروں سے حاصل کردہ نتائج ماہرین کی تنقید کیلئے پیش کئے جاتے ہیں، شماریات اور ریسرچ کے کئی فارمولے آزمائے جاتے ہیں۔ جب یہ یقینی ہوجاتا ہے کہ جانوروں میں اس تحقیق کے بھلے نتائج ہیں تو پھر کئی اداروں سے کلیئرنس کے بعد ہی انسانی رضاکار پر ٹیسٹ کی اجازت ملتی ہے۔ یاد رہے کہ اس پہلے رضاکار کو کافی رقم دی جاتی ہے۔ اسکے بعد چند مزید رضاکاروں پر ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔ کئی بار ایسا ہوا کہ کسی ڈاکٹر کو یا اجازت نہیں ملی یا کوئی رضاکار نہ ملا تو اس نے اپنے ہی جسم پر تجربہ کرڈالا یہ ایلوپیتھک میڈیسن کا انسانیت پر احسان ہے کہ اس کی ساری تحقیق دنیا کے سامنے ہوتی ہے اور درجنوں ادارے ہر وقت نہ صرف ادویات پر بلکہ ڈاکٹروں پر بھی نظر رکھتے ہیں۔اپنے ملک میں دیکھیں، پی ایم ڈی سی میں ہر روز کم از کم بیس ڈاکٹروں کیخلاف کیس چلتے ہیں‘ عدالتوں میں بھی انکو گھسیٹا جاتا ہے اور کروڑوں روپے جرمانہ عائد ہوتا ہے۔ اسی طرح کے پی کے اداروں کی ساری توجہ کوالیفائیڈ ڈاکٹروں کی رجسٹریشن اور آئے دن ٹیکسوں تک محدود ہے۔

خیر سے عطائی‘ ان سب قاعدوں سے آزاد ہیں ہومیو پیتھک علاج پر برطانیہ‘آسٹریلیا اور نیوزی لینڈکے جنرل میڈیکل کونسلز نے باقاعدہ تحقیق کے بعد مقالے لکھے ہیں کہ یہ اسوقت کا سب سے بڑا دھوکہ ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ نے اسکے خلاف قرارداد پاس کی ہے۔ لیکن ان کو ہر قسم کے علاج کی آزادی صرف پاکستان میں میسر ہے۔ نہ دوا کی چیک اپ۔ نہ نتائج کا امتحان۔ہمارے پاس جس قسم کے مریض محض عطائیوں کے علاج کے بعد آتے ہیں، ان کے امراض اس قدر بگڑ چکے ہوتے ہیں کہ ان کا علاج ناممکن نہ تو مشکل ضرور ہوتا ہے۔ تاہم جب اس آخری سٹیج کے مریض ہسپتال میں دم توڑ دیتے ہیں تو گناہ گار ڈاکٹر اور توڑ پھوڑ ہسپتال میں ہوتی ہے۔ میرے کئی مریض جب انہی عطائیوں کے ہاتھوں خراب ہوکر میرے پاس آئے اور علاج کے بعد میں نے پوچھا کہ کیا اس عطائی سے کوئی احتجاج کیا گیا؟ جواب نفی میں ملا‘ بلکہ یہاں تک معلوم ہوا کہ کئی مریضوں کی ہلاکت کے بعد بھی وہ عطائی اسی طرح اپنا دھندا جاری رکھے ہوئے ہے۔ خیر یہ تو حکومت کا کام ہے۔ میرا مشورہ جلے ہوئے افراد کیلئے یہ ہے کہ خدارا سب سے پہلے کسی پلاسٹک سرجن کی رائے لی جائے اور اگر وہ میسر نہ ہو تو جنرل سرجن سے مل لیاجائے۔ خدا کے فضل سے پشاور میں تمام بڑے ہسپتالوں میں کم از کم ایمرجنسی کی حد تک جھلسے ہوئے افراد کو دیکھا جاسکتا ہے۔ اگرچہ کوئی برن وارڈ نہیں ہے لیکن عطائیوں سے بہتر ہے کہ انہی کو دکھایا جائے تو کم از کم زخموں کا علاج ممکن ہوجاتا ہے۔