بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / تعلیم :واجبات او ر بوجھ

تعلیم :واجبات او ر بوجھ

محکمہ اِبتدائی و ثانوی تعلیم کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں سات لاکھ پچاس ہزار بچے سکولوں سے استفادہ نہیں کر رہے اور اس کی وجہ غربت اور والدین کی عدم دلچسپی ہے۔ رپورٹ میں سیاسی فیصلہ سازوں کو تجویز دی گئی ہے کہ بچوں کو روایتی سکولوں میں بہرصورت داخل کرنے کے لئے آئینی و قانونی دباؤ ڈالنے کی بجائے حکمت سے کام لیتے ہوئے کام کاج کے مقامات پر غیرروایتی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جائے۔ ماضی میں کئی غیرسرکاری تنظیموں کی جانب سے مستری خانوں میں سکول بنائے گئے اور بچوں کو چند گھنٹوں کے لئے وہاں تعلیم دی جاتی تھی لیکن یہ تجربہ اس لئے بھی ناکام ثابت ہوا کیونکہ مستری خانوں کے مالکان اس عمل کو پسند نہیں کرتے تھے اور وقت کے ساتھ اُن کا تعاون و دلچسپی کم ہوتی چلی گئی کیونکہ اس سے اُنہیں کسی قسم کا مالی فائدہ نہیں تھا۔ خیبرپختونخوا میں اگر تعلیمی اداروں سے باہر بچوں کی کم سے کم معلوم تعدادسات لاکھ پچاس ہزار ہے تو حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ یہ تعداد صرف ان بچوں کی ہے‘ جو غربت اور والدین کی عدم دلچسپی کے باعث سکولوں کو نہیں جا رہے جبکہ سکولوں سے باہر کل بچوں کی تعداد پندرہ لاکھ شمار کی گئی ہے۔ خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں 26 فیصد والدین کو اس بات میں دلچسپی ہی نہیں کہ ان کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنا چاہئے جبکہ 24فیصدوالدین اپنے بچوں کو غربت کی وجہ سے تعلیم نہیں دلوا رہے۔ تعلیم کی اہمیت و ضرورت کا یقین کس طرح دلایا جائے کہ اگر تعلیم نہیں ہوگی تو جس غربت کی دلدل میں والدین خود دھنسے ہوئے ہیں اور باوجود کوشش بھی نکل نہیں پا رہے اس سے ان کے اپنے بچے کس طرح نکل پائیں گے۔ بہبود آبادی کی کوششیں بھی اسی سردمہری اور لاعلمی کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو پا رہیں۔

جہاں تک حکومتی ذمہ داریوں کا تعلق ہے تو انسانی ترقی اور غربت میں کمی جیسے اہداف ہر سیاسی حکومت کی طرح تحریک انصاف کی موجودہ صوبائی حکومت کے انتخابی منشور کا بھی حصہ ہے تو اعلانات کو عملی جامہ پہنانے میں کیا مجبوری حائل ہے؟ صوبائی حکومت اگر مالی سرپرستی کرے تو کم سے کم چوبیس فیصد بچے فوری طور پر سکولوں میں داخل ہو سکتے ہیں اور جہاں تک باقی ماندہ تعلیم نہ دلوانے والے چھبیس فیصد عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرنے والے والدین کا تعلق ہے تو ہٹ دھرمی اور دلیل کی زبان نہ سمجھنے والوں سے انسداد پولیو کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی طرح سخت گیر قانونی معاملہ کیا جا سکتا ہے اور یہ حکومت ہی کام ہوتا ہے کہ وہ اپنی موجودگی ثابت کرے جہالت سے معاشرتی اور سماجی مسائل کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔ کسی ورکشاپ کی جگہ پر بچوں کو ملنے والی یومیہ دیہاڑی ایک سو سے تین سو روپے ہوتی ہے اور اوسطاً کسی ایک خاندان کے دو سے چار بچے محنت مزدوری کرتے ہیں تو اِس سے خاندان کی کفالت ہو رہی ہوتی ہے اور نجانے کیوں ہمارے حکمرانوں نے کسی خاندان کی غربت کیلئے بچوں کو ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔ لہٰذا اُنہیں کسی بھی ایسے جرم کی سزا نہیں ملنی چاہئے جو اُن سے سرزد ہی نہیں ہوا۔ اگر حکومت کے پاس بچوں کی تعلیم اور متعلقہ خاندانوں کی غربت کم کرنے کے لئے خاطرخواہ مالی وسائل نہیں تو مستقبل میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد معاشرے پر بوجھ اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے لئے چیلنج بن جائے گی۔ یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ تعلیم کے حوالے سے والدین کی عدم دلچسپی کا ایک محرک سکولوں کا فاصلہ ہے۔ دیہی علاقوں میں بیشتر سکول سیاسی و انتخابی ترجیحات کی وجہ سے تعمیر کئے گئے۔

یہی وجہ ہے کہ دشوار گزار راستوں اور دور دراز مقامات پر سکولوں ہونے کی وجہ سے مقامی افراد بچوں کے لئے سرکاری سکول سے استفادہ عملاً ممکن نہیں جبکہ ان کے والدین نجی سکولوں سے استفادہ کرنیکی مالی سکت نہیں رکھتے۔ ایسے بچوں کو نجی سکولوں سے علم حاصل کرنے کے لئے وظائف دیئے جا سکتے ہیں۔ صوبائی حکومت بچوں کی جسمانی نشوونما پر بھی توجہ دے کہ سرکاری سکولوں سے استفادہ کرنیوالے بچوں کی اکثریت ناکافی خوراک کے باعث عارضوں میں مبتلا ہیں اور خون کی کمی تو ان کے چہروں اور آنکھوں سے ٹپکتی دیکھی جا سکتی ہے۔ سرکاری سکول کے ایک معلم نے دل ہلا دینے والی حقیقت بیان کی کہ ہر صبح کئی بچے بیہوش ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ بناء ناشتہ کئے گھروں سے آتے ہیں اُور بھوک و پیاس کی شدت کے باعث ہوش و حواس کھو دیتے ہیں! سرکاری خزانے سے سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ سازوں کے لئے بوتلوں میں بند پانی سے لیکر انواع و اقسام کی لذتیں خریدی جاتی ہیں لیکن غربت و افلاس کی انتہائی بلند سطح پر بچوں کیلئے اشیائے خوردونوش جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی ممکن نہیں بنائی جا سکتی‘ آخر کیوں؟