بریکنگ نیوز
Home / کالم / پارلیمانی مفادات!

پارلیمانی مفادات!

خورشید شاہ چار سال سے قائد حزب اختلاف ہیں‘ دھرنے کے دنوں میں پی ٹی آئی مستعفی ہوئی تو اس کے ارکان کو بہلا پھسلا کر ایوان میں لے آئے‘ استعفے واپس کروائے۔ ایم کیو ایم نے بھی استعفے دیئے تو انہیں بھی منت سماجت کرکے ایوان میں لے آئے تاکہ کوئی بحران پیدا نہ ہو اور سسٹم چلتا رہے لیکن مزے کی بات دیکھئے کہ اب یہی دونوں جماعتیں خورشید شاہ سے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ واپس لینا چاہتی ہیں‘ تحریک انصاف کی خواہش ہے کہ نومبر میں نئے چیئرمین نیب کے تقرر میں اس کا براہ راست کردار ہو کیونکہ آئینی طور پر چیئرمین نیب اور نگران وزیراعظم کی تقرری قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے ہوتی ہے۔ پچھلی بار موجودہ چیئرمین نیب کا تقرر یا اس سے پہلے نگران کھوسہ حکومت کے تقرر پر عمران خان کو شدید تحفظات تھے لیکن اب وہ خود یہ اختیار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا ہو بھی سکے گا یا نہیں؟آج کل اقتدار کی راہداریوں میں یہی کچھ زیربحث ہے۔اس پورے معاملے میں حکومت کی خاموشی کا سبب سمجھ میں آتا ہے۔ لگتا کچھ یوں ہے کہ وہ پس پردہ سیّد خورشید شاہ کی مدد کرے گی کیونکہ یہی وہ خورشید شاہ ہیں جنہوں نے دھرنے کے دنوں میں انکی حکومت کو گرنے سے بچایا تھا۔ اس پورے کھیل میں اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا طریقۂ کار تبدیل ہوچکا ہے۔ ماضی میں ایسا ہوتا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ اپوزیشن کی بڑی جماعتوں میں سے کسی ایک کو قائد حزب اختلاف کا عہدہ سونپ سکتا تھا اور ماضی قریب میں ایسا ہوا بھی‘ جب مشرف دور میں پیپلزپارٹی کے پاس اکثریت ہونے کے باوجود یہ عہدہ مولانا فضل الرحمان کو دے دیا گیا تھا لیکن اٹھارویں ترمیم کے بعد قومی اسمبلی کے قوائد و ضوابط میں ترمیم کے بعد اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا طریقہ تبدیل کردیا گیا۔نئے طریقۂ کار کے مطابق اپوزیشن لیڈر کی نشست کا خواہشمند امیدوار سپیکر قومی اسمبلی کو درخواست دے گا‘۔

جس میں اپنے حامی امیدواروں کے دستخط کے ساتھ وہ گزارش کرے گا کہ اس وقت قومی اسمبلی میں اس کے پاس اپوزیشن ارکان کی اکثریت ہے لہٰذا اُسے یہ عہدہ دیا جائے۔ اس وقت پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے ایسے کوئی دس ارکان ہیں جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنی اپنی جماعتوں سے ناراض ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ اِس بات کے امکانات کم ہی دکھائی دیتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی‘ نے جو کھیل شروع کیا ہے اُس میں وہ کامیاب ہو پائے گی۔ اس وقت قومی اسمبلی میں ایک سو پچیس کے لگ بھگ ارکان اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھے ہیں۔ ان میں سے تحریک انصاف کے چار باغی ارکان نکال دیئے جائیں تو یہ تعداد ایک سو اکیس کے قریب پہنچتی ہے لیکن تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ اس کی اپنی بتیس نشستیں ہیں جبکہ ایم کیو ایم کے پاس چوبیس نشستیں ہیں اسی طرح انکی دو حامی جماعتیں اور دو آزاد ارکان شیخ رشید‘ عامر ڈوگر‘ جمشید دستی اور عوامی جمہوری اتحاد کے عثمان خان ترکئی شامل ہیں۔ ان ساٹھ میں سے چار پی ٹی آئی اور چھ ایم کیو ایم کے نکال دیئے جائیں تو باقی پچاس بچتے ہیں‘ ان دس میں سے مسرت زیب‘ ناصر خٹک‘ سراج محمد خان اور عائشہ گلالئی پی ٹی آئی کے باغی ارکان ہیں‘ اِسی طرح ایم کیو ایم کے آصف حسنین‘ پاک سر زمین پارٹی میں چلے گئے ہیں جبکہ سفیان یوسف کو ایم کیو ایم لندن کے ساتھ رابطوں کے الزام میں معطل کیا جاچکا ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ اِسی طرح ایم کیو ایم کے دیگر چار سے چھ ارکان ایسے ہیں جو پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں‘ اسلئے اگر کم سے کم دس ارکان بھی نکال دیئے جائیں تو بھی پی ٹی آئی کے لئے کامیابی کافی کٹھن ہوگی۔

دوسری طرف خورشید شاہ کو پیپلز پارٹی کے اپنے سینتالیس‘ اے این پی کے دو ووٹ‘ بی این پی‘ قومی وطن پارٹی اور آل پاکستان مسلم لیگ کا ایک ایک ووٹ حاصل ہوگا۔ یہ تعداد باون بنتی ہے۔ اب رہ گئی مسلم لیگ قائداعظم‘ جس کے اپنے دو اور ایک آزاد امیدوار زین الہٰی بھی اُن کے ساتھ ہیں۔ مسلم لیگ قائد کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کے چار اور فاٹا کے چھ ارکان بچتے ہیں۔ درحقیقت یہی وہ تیرہ ارکان ہیں جو انتہائی اہمیت اختیار کرگئے ہیں اور یہ ووٹ جس طرف بھی جائیں گے صورتحال ان کے حق میں جانے کی اُمید ہے۔ پیپلز پارٹی کی حمایت کے لئے وفاقی حکومت اور جے یو آئی ایف اور محمود خان اچکزئی‘ فاٹا امیدواروں کو راضی کرنے کیلئے کردار ادا کرسکتے ہیں جبکہ تحریک انصاف کی پختونخوا میں حکومت ہونے کے باعث فاٹا ارکان کے مالی اور سیاسی مفادات اِس طرف بھی ہوسکتے ہیں۔ ماضی میں تو یہ حقیقت تھی کہ حکومتیں بنانے کے لئے فاٹا ارکان کا کردار اہم ہوا کرتا تھا لیکن شاید یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ قائد حزب اختلاف کے انتخاب میں بھی اِن کی اہمیت فیصلہ کن بنتی جارہی ہے۔ نتیجہ بہرحال کچھ بھی نکلے لیکن اِس پوری صورتحال میں اچھی بات یہ ہے کہ جس پارلیمنٹ کو گزشتہ ساڑھے چار سال میں اتنی اہمیت نہیں ملی وہ اِسے اب مل رہی ہے۔ اُمید یہی کی جاتی ہے کہ پارلیمنٹ کے اگلے اجلاس میں ہاؤس فل ہوگا اور تمام جماعتیں چاہے اپنے مفادات کی خاطر ہی سہی لیکن محنت کرتی نظر آئیں گی۔ باقی رہے عوام تو اوپر بھی یہ مشورہ دیا جاچکا ہے کہ بہتر ہے وہ اپنی ضروریات کا بندوبست خود ہی کرلیں کیونکہ اگر اِن ارکان پر بھروسہ کیا تو نقصان انہی کا ہوگا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: صبیح شکور۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)