بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / فاٹا انضمام کی موت؟

فاٹا انضمام کی موت؟

اور اب وفاقی حکومت نے کھل کرکہہ دیاہے کہ پانچ سال سے پہلے فاٹا کاصوبہ میں انضمام کسی صورت ممکن نہیں یو ں بظاہر انضمام کے مخالفین جیت گئے ہیں اورفاٹا کے لوگوں کی اکثریت اور فاٹا میں کرپشن اورظلم کے نظام کے مخالفین ہارگئے ہیں لیکن یہ یادرکھناچاہئے کہ یہ شکست ہم سب کو بہت بھاری پڑسکتی ہے جمعرات کو وفاقی وزیرسیفران جس وقت قوم کو ایوان زیریں میں یہ پیغام دے رہے تھے کہ پانچ سال سے پہلے انضمام کاکوئی امکان نہیں تو عین اسوقت پاک فوج کی کوششوں سے پرامن فاٹاکاروشن چہرہ دنیا بھر کو دکھانے کے لئے میرانشاہ کے نو تعمیر شدہ سٹیڈیم میں کرکٹ میچ جاری تھا جس پرساری دنیا کی نگاہیں جمی ہوئی تھیں بدقسمتی سے انضمام کے معاملہ پر وفاقی حکومت دو اتحاد ی جماعتوں کے سامنے ڈھیرہوگئی ہے جبکہ اس معاملہ میں فاٹا کے منتخب ممبران پارلیمنٹ کے باہمی اختلافا ت نے بھی اہم کردار ادا کیاہے اگریہ کہا جائے کہ اتحادی جماعتوں نے انضمام کاگلہ گھونٹا تو فاٹا ممبران نے اپنے انتشا ر کی صور ت میں انضمام کے گوروکفن کابندوبست کیا تو غلط نہیں ہوگا اب فاٹا کے بدقسمت باشندوں کومزید پانچ سال کرپٹ اور استحصالی نظام کے تحت زندگی گذارنی پڑے گی حیرت ہے کہ انضمام کے مخالفین میں فاٹا کے بعض ایسے اراکین پارلیمنٹ بھی شامل ہیں جو آئے روز پولیٹیکل ایجنٹ کے رویوں اور ترقیاتی منصوبوں میں بدترین کرپشن کارونا روتے رہتے ہیں مگر جب اس نظام کو جڑ سے اکھاڑپھینکنے کاوقت آیاتو یہی ممبران اسکے محافظ بن کرکھڑے ہوگئے انضمام کی موت سے فاٹا کی کرپٹ افسر شاہی کی دلی مراد بھی پوری ہوجائے گی سالانہ بیس پچیس ارب نہیں بلکہ پورے 110ارب روپے میں اس کو اپنا اپناحصہ کھرا کرنے کاموقع پورے پانچ سال تک ملتا رہے گا فاٹا انضمام کے حوالہ سے اے این پی کی اے پی سی میں واضح پیغام دیاگیاکہ فوری طورپر فاٹا کو صوبہ میں ضم کیاجائے مگر اگلے ہی روز قومی اسمبلی میں حکومت نے کچھ اور ہی کہہ دیاہے اب تو یہ بھی سننے میں آرہاہے کہ فاٹا ممبران بھی پانچ سالہ انضما م پر آمادہ کرلئے گئے ہیں اور ان کی طرف سے جلد ہی متفقہ موقف سامنے آجائے گا ۔

فاٹا کے فوری انضمام کے حوالہ سے فاٹاکے منتخب نمائندوں میں سے صرف شاہ جی گل آفریدی اور ساجد حسین طوری ہی آوازاٹھاتے رہے ہیں جبکہ ناصر خان آفرید ی‘ قیصرجمال ‘غالب خان ‘شہاب الدین خان اور کامران خان انضمام کے تدریجی عمل کے قائل ہیں جی جی جمال کاموقف تاحال واضح نہیں ہے جبکہ مولانا جمال الدین ‘بسم اللہ خان اور بلا ل الرحمان فاٹا انضمام کے روز او ل سے ہی مخالف رہے ہیں اب جبکہ انتخابات سر پرآتے جارہے ہیں فاٹا کے عوام انضما م حامی اور انضما م مخالف قوتوں میں سے کس کو سپور ٹ کرتے ہیں یہ بالکل روز روشن کی طرح عیا ں ہوجائیگا یو ں یہ ایک طرح کاریفرنڈم ثابت ہوگا جس کے ذریعے فاٹا کے باشندے اپنی رائے کااظہار کرینگے بہتر تویہی ہوگا کہ انضمام کی حامی تمام جماعتیں کم ازکم فاٹا میں انتخابی اتحاد تشکیل دے کر ریفرنڈم کاماحول پیدا کریں جس کے بعداگر ان کے نمائندے زیادہ تعداد میں منتخب ہوتے ہیںیازیادہ تعداد میں ووٹ لیتے ہیں۔

تو پھر انضمام کاعمل 2022ء تک لے جانے کے بجائے 2018ء میں ہی پایہ تکمیل تک پہنچا دیاجانا چاہئے فاٹاکے لئے اس کے اپنے لوگوں کے ساتھ ساتھ ہمار ی فورسزنے بھی کافی قربانیاں دی ہیں اور اب جبکہ پہلی بار اصلاحات و انضمام کے معاملہ پر سیاسی و عسکری قیادت ایک ہی صف میں کھڑی تھی انضمام کی اچانک موت اگر واقعی واقع ہوتی ہے تو اس سے سے ان حلقو ں کی تشویش میںیقیناًاضافہ ہوگا جو فاٹا کو پورے ملک کے شانہ بشانہ دیکھنے کے خواہشمندہیں اب بھی موقع ہے انضمام کو جو عالم نزع میں ہے فوری فیصلوں کی صور ت میں آکسیجن لگا کر واپس زندگی کی طرف لایا جاسکتاہے اور اس کے لئے اب وفاقی حکومت کو گومگوں کی کیفیت سے نکلنا ہوگا اسی طرح فاٹا کے منتخب نمائندوں کو بھی کھل کر سامنے آنا ہوگا جبکہ انضمام کی حامی جماعتوں کو کریڈٹ کے حصول کے چکر سے نکل کر متحد ہوکر حکومت پر دباؤ بڑھاناہوگا تاکہ عشروں کااستحصالی نظام قبر میں اتارا جاسکے بصورت دیگر اگر انضمام کی موت واقع ہوتی ہے تو تمام قربانیاں رائیگاں جانے کاخدشہ ہے جو کسی بھی صورت ملک وقو م کے مفادمیں نہیں ہوگا ۔