بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / مخالفین سیاسی مقاصد کیلئے عوام کو گمراہ کررہے ہیں ٗ پرویز خٹک

مخالفین سیاسی مقاصد کیلئے عوام کو گمراہ کررہے ہیں ٗ پرویز خٹک

پشاور ۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے یقین دلایا ہے کہ اساتذہ کی ترقی کو کارکردگی سے مربوط کرنے کے ذریعے اُن کے بہتر مستقبل کے امکانات مزید بڑھ جائیں گے ۔اُن کی حکومت این ٹی ایس اور دیگر فورمز کے ذریعے محکمہ تعلیم میں نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ کو مستقل کرنے کیلئے پر عزم ہے۔وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کررہے تھے جس میں اساتذہ کی بھرتی اور اُن کی سکولوں میں تعیناتی، ترقی کے نئے سٹرکچر ، اساتذہ کی مستقلی اورمتعلقہ رولز میں مطلوبہ ترامیم، ٹائمز سکیل اور محکمہ تعلیم کے دیگر مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صوبائی وزیر تعلیم محمد عاطف خان، سٹرٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔وزیراعلیٰ نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ اُن کی حکومت صوبے میں تعلیم کے معیار اور سرکاری سکولوں کی سٹینڈرڈائزیشن کے لئے فیصلہ سازی کو متاثر کرنے کیلئے کسی ڈرامہ کی اجازت نہیں دے گی۔انہوں نے ایک کمیٹی تشکیل دی جو مختصر ترین وقت میں مذکورہ ہدف کے حصول کے لئے قابل عمل سفارشات پر مبنی جامع رپورٹ پیش کرے گی ۔صاحبزدہ سعید کمیٹی کے سربراہ ہوں گے ۔کمیٹی موجودہ سروس سٹرکچر کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے کر سفارشات مرتب کرے گی جس کی بنیاد پر اور اس سٹرکچر کی جگہ نیا سٹرکچر لاگو کرکے سکولوں میں اساتذہ کو زیادہ سے زیادہ فوائد اور ترقی کے مواقع دیئے جائیں گے ۔اساتذہ جس سکول میں بھرتی ہوں گے اُسی سکول میں ترقی پائیں گے۔سفارشات کو منظوری کے لئے صوبائی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔مجوزہ سٹرکچر کی وجہ سے تمام اساتذہ کے حقوق کا تحفظ یقینی ہوجائے گا۔

کمیٹی اساتذہ کی بھرتی ، رولز میں مطلوبہ ترامیم اور ٹائم اسکیل کے مسئلہ سے متعلق بھی سفارشات تیار کرے گی تاکہ ان مسائل کا کل وقتی حل ممکن ہو سکے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ صوبے میں معیاری تعلیم کو یقینی بنانے کیلئے شفاف طریق کار کے تحت نئے بھرتی ہونے والے 40 ہزار اساتذہ کی مستقلی کے لئے پرعزم ہیں۔ اُن کی حکومت تعلیمی نظام کو بااثر طبقے سے آزاد کرکے مضبوط کرنے کیلئے ضروری قانون سازی کرے گی ۔اس سلسلے میں مخصوص رولز بھی بنائے جا سکتے ہیں کیونکہ اُن کی حکومت نوجوانوں کے مستقبل پر سمجھوتہ نہیں کر سکتی ۔پرویز خٹک نے کہاکہ نظام میں اصلاحات کا مجموعی عمل حکومت کی نیک نیتی پر مبنی ہے لہٰذا اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے بدقسمتی سے بد نیت لوگ اپنے سیاسی مقاصد کے پیش نظر غلط معلومات کے ذریعے عوام کو گمراہ کرتے ہیں اور عوامی مفاد میں کی گئی اصلاحات پر سیاست بازی کرتے ہیں۔ یہ عناصر کبھی بھی عوامی مفاد کے لئے مخلص نہیں رہے اس لئے حکومت کے عوام دوست اقدامات اور پالیسیوں کو ناکام بنانے کیلئے بے بنیاد پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔ پرویز خٹک نے یقین دلایا کہ وہ عوام کے دشمنوں کے منفی پروپیگنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے جو ہر اچھی چیز پر سیاست کرتے ہیں کیونکہ یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے جس کو کسی صورت بھی سیاست کی نظر نہیں ہونا چاہیئے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ تعلیمی نظام کے معیار کو بلند کرنا اور سکولوں کی بہتری اُن کی حکومت کا ایجنڈا ہے ۔

اُن کی حکومت امیر اور غریب دونوں کے بچوں کو تعلیم اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے کیلئے کھڑی ہے۔حکومت کی یہ کاؤش نہ صرف یکساں نظام تعلیم کو فروغ دے گی بلکہ غریب کے بچوں کو آگے جاکر امیر سے مقابلہ کرنے کے مواقع بھی مہیا کرے گی کیونکہ بد قسمتی سے دوہرے نظام تعلیم کی وجہ سے آج تک غریب کا بچہ مقابلے کے اس میدان سے مکمل طور پر باہر رہا ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ عوام کب سمجھیں گے کہماضی کا تعلیمی نظام تباہی و بربادی کا شاخسانہ ہے۔قوموں پر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ جاگ اُٹھتی ہیں۔ اپنے حالات اور پوزیشن کا جائزہ لیتی ہیں اور پھر آگے بڑھنے کیلئے صحیح سمت کا تعین اور فیصلہ کرتی ہیں۔ آج ہم اس موڑ پر کھڑے ہیں،ہمیں بحیثیت قوم فیصلہ کرنا ہو گا اور اپنے مستقبل کے لئے بہترین سمت کا تعین کرنا ہو گا۔ پرویز خٹک نے کہاکہ ماضی کا تعلیمی نظام ایک مکمل تباہی پر مبنی تھا جس نے ترقی کے مواقع روک دیئے ۔وہ نظام اتنا سیاست زدہ تھا کہ تبادلے اور تعیناتیاں بھی سیاسی لوگوں کی ایماء پر ہوتی تھیں یہی وجہ ہے کہ اُن کی حکومت نے تعلیم کو سیاسی طبقے کے ا ثر رسوخ سے مکمل طور پر آزاد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے مسائل کا بھی جائزہ لے۔اُن کی حکومت موجودہ سرکاری تعلیمی اداروں کو اپ گریڈ کرکے اُن میں بی ایس کلاسز شروع کرنا چاہتی ہے۔بی اے اور ایم اے کا پرانا سسٹم غیر معیاری اور ناکام ہے جبکہ بی ایس بین الاقوامی طور پر معروف و مقبول ڈگری ہے۔بی اے اور ایم اے رٹہ بازی جبکہ بی ایس اسائنمنٹ اور تحقیق پر مبنی تعلیمی نظام ہے جو قوم کی تخلیقی صلاحیتوں کو اُبھارنے اور ذہن سازی کیلئے ناگزیر ہے۔ہمیں اس جدید سکولنگ سسٹم کے لئے تیار ی کرنا ہو گی ۔کمیٹی جتنا جلدی ممکن ہو اس سلسلے میں سفارشات مرتب کرے تاکہ صوبہ بھر میں اس نئے تعلیمی نظام کا اجراء کیا جا سکے۔