بریکنگ نیوز
Home / کالم / مسافر کوشب اٹھتے ہیں جوجانا دورہوتا ہے

مسافر کوشب اٹھتے ہیں جوجانا دورہوتا ہے

چپ اور ایسی چپ کہ دل کی دھڑکن بھی سنائی دینے لگے اب خیال و خواب ہوئی کیونکہ چاروں اور شور اور بے معنی شور ہر گزرتے پل کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس لئے اب کسی ایک نقطے پر توجہ مرکوز نہیں کی جاسکتی،لاکھ یکسوئی حاصل کرنے کے لئے مشقیں کی جائیں یا آدھی رات کو اٹھ کر خشوع و خضوع کے ساتھ سر کو خالقِ ارض وسما کے حضور جھکا دیا جائے کہ دوسرے ہی لمحے دنیا داری کی کوئی بات،کوئی تمنا اور کوئی خواہش اس میں کھنڈت ڈال دیتی ہے۔ اور یوں بھی نصف شب کو جاگنا اب ممکن ہی نہیں رہا کیونکہ جاگنے کے لئے سونا پڑتا ہے اور اب تو رات کے تیسرے پہر تک جاگنا معمول ہو گیا ہے۔ غنیمت ہے کہ ’’ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں ‘‘ جو رات کو جب بھی سو جائیں صبح کاذب اور صبح صادق کے سنگم سے پہلے ہی جاگ اٹھتے ہیں، بڑی حد تک وہ وقت بھی کچھ پڑھنے لکھنے کے لئے بہتر ہوتا ہے۔ مگر جب سے موبائل فون یار لوگوں کی زندگی سے جڑ گئے ہیں جاگتے ہی پہلے اس کا سلام ضروری ہے،اور وہ جو تیسرے پہر تک نہ سونے کی بات کی گئی وہ بھی یہی ہے کبھی کتاب پڑھے بغیر نیند نہیں آتی تھی اورپڑھتے پڑھتے سو جانے کا لطف ہی کچھ اور تھا۔

کتاب بند کرنے کا موقع بھی نہ ملتا۔ اب اس بلا کے لئے نیند کو زبردستی روکنا پڑتا ہے۔ لائٹ آف کر لی جائے اور کمرے میں جتنے لوگ ہوں اتنے جگنو چمکنے لگتے ہیں، اس جھلمل میں کسی کو بھی کیا نیند آئے گی۔ اس لئے نصف شب کا جاگنا بھی یہ سرگرمی کھا گئی،اور صبح دم جاگنے کا تو رفتہ رفتہ رواج بھی ختم ہو رہا ہے‘ اور کوئی جاگ جائے تو سویرے سویرے جاگنے کی وہ تازگی کہاں سے آئے، بچپن سے دو باتیں پلے سے بندھی ہوئی ہیں جب والد مرحوم نے کہا تھا کہ اس سے بڑی بد بختی (اور بے غیرتی )بھلا اشرف المخلوقات کے لئے اور کیا ہوگی کہ پرندے اللہ کی ثنا کے لئے اس سے پہلے جاگ جائیں اور والدہ مرحومہ کہا کرتیں کہ جس گھر میں لوگ صبح سویرے نہیں جاگتے اس گھر سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ کل ورڈز ورتھ نے بھی یہی گلہ کیا تھا جب اس نے سارے منظر کے سونے کو تو گہرے سکون اور خاموشی سے عبارت کیا تھا مگر اشرف دل کیوں نہیں جاگتا۔ صبح کو تو ثبوتِ حق کی نشانی کہا گیا ہے۔ اور میر انیس نے بھی ایک بڑی صبح کو نظم کیا ہے پڑھئے تو دل کٹنے لگتا ہے جگر چھلنی ہو جاتا ہے اور آنکھیں کچھ بھی اور دیکھنے سے رہ جاتی ہیں۔
جب قطع کی مسافت شب آفتاب نے
جلوہ کیا سحر کے رخِ بے حجاب نے
دیکھا سوئے فلک شہِ گردوں رکاب نے
مڑ کر صدا رفیقوں کو دی اس جناب نے
آخر ہے رات حمد و ثنا ئے خدا کرو
اٹھو فریض�ۂ سحری کو ادا کرو
اور میر انیس نے اس صبح کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ
یہ صبح ہے وہ صبحِ مبارک کہ جس کی شام
یاں سے ہوا جو کوچ تو ہے خلد میں مقام
کوثر پہ آبرو سے پہنچ جائیں تشنہ کام
لکھے خدا نماز گزروں میں سب کے نام
سب ہیں وحیدِ عصر یہ غل چار سو اٹھے
دنیا سے جو شہید اٹھے سرخ رو اٹھے
اس سلسلے کو آگے بڑھتے ہوئے صبح کا جو نقشہ میر انیس نے کھینچا ہے پڑھتے جائیے سر دھنتے جائیے، میں فقط اس سارے منظر میں سے صرف ایک بند اور ضرور آپ سے شیئر کرنا چاہوں گا جس میں اس صبح کو اس قادر الکلام شاعر نے صرف محسوس نہیں کرایا اس ماحول میں لا کھڑا کیا جس صبح کی شام لالہ گوں ہو گئی تھی اور جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ۔
عجب ایک بے خانماں سی شام تھی زردی میں لپٹی
کہ اب تک درد اس کا ماہِ کامل کھینچتا ہے
اسی صبح کے حوالے سے میر انیس کا بیان دیکھئے
چیونٹی بھی ہاتھ اٹھا کے یہ کہتی تھی بار بار
اے دانہ کش ضعیفوں کے رازق ترے نثار
یا حیّْ ْ یا قدیر کی تھی ہر طرف پکار
تہلیل تھی کہیں ، کہیں تسبیح کردگار
طائر ہوا میں مست ہرن سبزہ زار میں
جنگل کے شیر گونج رہے تھے کچھار میں

مگر اس کا کیا کیا جائے کہ یہ اور ایسی کئی صبحیں ہماری زندگیوں سے نکل گئیں۔ رات جسے آرام کے لئے بنایا گیا تھا ہماری ساری کوشش اسے مصروف سے مصروف ہونے پر صرف ہو رہی تھی کل اقبال نے کہا ’’ تو شب آفریدی چراغ آفریدم ‘‘ مگر اسی چراغ سے چراغ جلاتے ہوئے ہم ہر شب کو بقعۂ نور بنا رہے ہیں، مجالس ہوں محافل کہ شادی بیاہ کی رسومات سب کچھ اب رات کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے اب روزنامچہ شب نامچہ بنتا جارہا ہے اور پھر ایک شکایت بھری گلزار کی آواز آتی ہے ’’ سحر نہ آئی کئی بار نیند سے جاگے ‘‘ اور سحر بھی آئی تو کہہ دیا گیا کہ ’’۔۔یہ وہ سحر تو نہیں ‘‘ اور کوئی پوچھے کہ جس سحر کا انتظار ہے کیا وہ اب بھی یار لوگوں کو یاد ہے،
نشاط اصفہانی نے کیا خوب کہا تھا ’’ تْو کہ چیزے گم نہ کردی از کجا پیدا شود ‘‘ ( وہ شے تو کہاں پائے گا جو تجھ سے گم ہی نہیں ہوئی یعنی جس کے کھونے کا تجھے دکھ ہی نہیں ) یہ وہی کارواں کے دل سے احساس زیاں جانے کی بات ہے۔صبح جو ہم سے شب کے ہنگاموں میں کہیں کھو گئی اس لئے شب و روز سے وہ برکت اٹھ گئی جس سے رزق کشادہ اور کمائی میں برکت ہو تی تھی۔ اور دل اور ذہن کی دنیا میں سکون ہوتا تھایہ تو سامنے کی بات ہے کہ دن چڑھے جاگنے سے دن کا دورانیہ کتنا کم رہ جاتا ہے۔ تو جس بڑی صبح کے حصول کے لئے بڑی قربانی دی گئی۔اس تک پہنچنے کا شارٹ کٹ غفلت کی نیند سے جلد بیدار ہونے میں ہے، یہی حال زندگی بسر کرنے کا ہے کہ شام سے پہلے ہی زادِ راہ کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔ اور کہیں لڑکپن ہی میں بزرگوں سے سن رکھا تھا
جوانی میں عدم کے واسطے سامان کر غافل
مسافر شب کو اٹھتے ہیں جو جانا دور ہوتا ہے