بریکنگ نیوز
Home / کالم / اقتدارکی رسہ کشی اوردفاع!

اقتدارکی رسہ کشی اوردفاع!

سیاسی گہماگہمیاں عروج پر ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی جنرل کونسل اجلاس میں ایک مرتبہ پھر نوازشریف کو صدارت سونپنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ المیہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں شخصیات کے گرد گھومتی ہیں! نوازلیگ کی مرکزی مجلس عاملہ اور جنرل کونسل اجلاسوں کو حکومتی عمارت کنونشن سنٹر اسلام آباد میں طلب کیا گیا ہے جس دوران قیادت منتخب کرنے کے لئے سولہ سو اراکین اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ پہلی نشست دو اکتوبر جبکہ دوسری نشست تین کو منعقد ہوگی اور اسی میں پارٹی کے صدر کا انتخاب کیا جائیگا اٹھائیس جولائی کو سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو کسی بھی قسم کا سیاسی عہدہ رکھنے کیلئے تاحیات نااہل قرار دیا تھا ۔ اس فیصلے کے بعد بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر سردار یعقوب خان‘ کو فوری طور پر نوازلیگ کا قائم مقام صدر بنا دیا گیا تھا جسکے بعد رکاوٹوں کو ختم کرنے کیلئے بائیس اگست کے روز انتخابی اصلاحات بل 2017ء کو قومی اسمبلی کی جانب سے پاس کیا گیا جبکہ بائیس ستمبر کو چند ایک تبدیلیوں کے ساتھ اسے سینٹ نے بھی منظور کرلیا جس سے نوازشریف کے دوبارہ پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ تاہم نئے قانون کا مسودہ جاری کرنے کیلئے یہ بل اب ایوانِ زیریں میں موجود ہے جسکے مطابق اب پارلیمنٹ سے نااہل فرد سیاسی جماعت کا سربراہ بننے کا اہل ہوگا۔ تصور کیجئے کہ ملک کی حکمران سیاسی جماعت کی تمام تر توجہ اپنی سیاست بچانے پر لگی ہوئی ہے جبکہ پاکستان سنگین قسم کے داخلی و خارجی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے!

بھارتی فوج کے سربراہ کی جانب سے پاکستان کو دی گئی سرجیکل سٹرائیک کی دھمکی کے چند گھنٹوں بعد ہی بھارت نے جوہری ہتھیار چلانے کی صلاحیت رکھنے والے فوجی ڈویژن کو کنٹرول لائن پر اکھنور سیکٹر میں بھیج دیا ہے جو ایک سو ٹینکوں کے ہمراہ فوجی ڈویژن کی ذمہ داریاں سنبھالے گا۔ بھارت کی جانب سے جوہری ہتھیار چلانے کی صلاحیت رکھنے والے فوجی ڈویژن کو پہلی بار کنٹرول لائن پر بھجوایا گیا ہے جبکہ 1971ء کی پاک بھارت جنگ کے وقت تک اس فوجی ڈویژن کا وجود تک نہیں تھا۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے گزشتہ دو ہفتے سے پاکستان کی چوکیوں اور شہری آبادیوں پر تسلسل کے ساتھ گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجہ میں اب تک آٹھ شہریوں بشمول خواتین کی شہادتیں ہوچکی ہیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پاکستان کی سا لمیت کو نقصان پہنچانا درحقیقت بھارت کی سیاسی قیادت کا خاص ایجنڈا ہے نریندر مودی نے لوک سبھاکے گزشتہ انتخابات میں پاکستان دشمنی پر مبنی اپنا انتخابی منشور مرتب کیا اور پاکستان دشمنی کے جذبات ابھارنے کیلئے بی جے پی سمیت انتہاء پسند تنظیموں نے مودی کی انتخابی مہم کے دوران ہی سمجھوتہ ایکسپریس‘ دوستی بس اور بھارت گئے ہوئے پاکستانی فنکاروں اور دانشوروں کے وفود پر حملوں کا سلسلہ شروع کردیا جبکہ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد مودی نے اپنے اس انتخابی منشور کو ہی حکومتی پالیسیوں کا حصہ بنایا اور وہ خود بھی پاکستان پر دشنام طرازی کرتے ہوئے سرحدی کشیدگی میں اضافہ کرتے رہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھی مودی کے ایماء پر ہی کشمیری عوام بالخصوص نوجوانوں پر بدترین ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ شروع ہوا جس میں پہلی بار پیلٹ گنوں کا استعمال کیا گیا۔

ان بھارتی مظالم کی بنیاد پر ہی آج عالمی قیادتیں اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے مسئلہ کشمیر کے حل کی خاطر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کیلئے آواز اٹھا رہے ہیں اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان مظالم کی بنیاد پر بھارت کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے کا بھی تقاضا کیا ہے اگر مودی سرکار نے اپنے اقتدار کے آغاز سے اب تک سرحدی کشیدگی میں کوئی کمی نہیں آنے دی اور کنٹرول لائن پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے تو وہ کسی زعم میں ہی پاکستان کی سلامتی پر وار کرنے کی منصوبہ بندی کئے بیٹھا نظر آتا ہے۔ اس کے لئے یقیناًامریکی تھپکی سے حوصلہ ملا ہے کیونکہ امریکی صدر ٹرمپ خود بھی پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کا ایجنڈا رکھتے ہیں جس کے لئے وہ پاکستان کو دہشت گردوں کی سرپرستی کا موردالزام ٹھہراتے رہتے ہیں اور سعودی عرب کی ریاض کانفرنس سے جنرل اسمبلی کے اجلاس تک وہ اپنی ہر تقریر اور ہر پالیسی بیان میں پاکستان سے ڈومور کے تقاضے کرتے اور اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے نظر آتے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے دہلی اور کابل کے گزشتہ ہفتے دورے کے دوران لالی پاپ دیا کہ امریکہ اور بھارت کے مابین طے پانے والے جوہری دفاعی معاہدوں کے باعث بھارت کے دفاعی طور پر مضبوط ہونے سے پاکستان کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے جبکہ اس کے برعکس مودی سرکار پاکستان پر جارحیت مسلط کرنے کی صرف دھمکیاں ہی نہیں دے رہی‘ اس حوالے سے طے کئے گئے اپنے کسی منصوبے پر عمل پیرا بھی نظر آرہی ہے۔ جوہری اسلحہ چلانے کی صلاحیت رکھنے والے بھارتی فوجی ڈویژن کی کنٹرول لائن پر تعیناتی یقیناًاسی سلسلہ کی کڑی ہے اس لئے پاکستان اپنی سا لمیت کے تحفظ کے تقاضے نبھانے سے بھلا کیسے غافل رہ سکتا ہے؟ اس موقع پر ہم دہشت گردی کی جنگ میں اپنی کسی کمزوری کا اعتراف کرنے‘ بھارت سے دوستی کی خام خیالی میں مبتلا رہنے اور ملک کی سرحدوں کے تحفظ میں کسی ہلکی سی غفلت کے بھی متحمل نہیں ہو سکتے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر مہدی شاہ۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)