بریکنگ نیوز
Home / کالم / حکمران اورسادگی

حکمران اورسادگی

آج کا کالم ہم اپنے اسلاف کے ان اقوال زریں کی نذر کریں گے جو ہمیں زندگی کی حقیقتوں سے آشنا کرتے ہیں ایک روز حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جابر بن عبداللہ انصاری کو لمبی لمبی ٹھنڈی سانس لیتے دیکھ کر پوچھا اے جابر ‘کیا یہ تمہاری لمبی ٹھنڈی سانس دنیا کیلئے ہے جابر نے عرض کیا ہاں ایسا ہی ہے حضرت نے فرمایا کہ جابر سنو انسان کی زندگی کا دارومدار سات چیزوں پرہے اور انہی سات چیزوں پر لذتوں کاخاتمہ ہے کھانے کی چیزیں‘ مشروبات ‘لباس‘ نکاح ‘ سواری ‘سونگھنے کی چیزیں اورسننے کی چیزیں ‘‘اب جابر ذرا ان کی حقیقت پر غور کرو کہ کھانے میں بہترین چیز شہد ہے جو ایک مکھی کا لعاب دہن ہے بہترین پینے کی چیز پانی ہے جو زمین پر مارا مارا پھرتا ہے‘ بہترین لباس دیباج ہے جو ایک کیڑے کا لعاب ہے‘ بہترین منکوحات عورت ہے ‘بہترین سواری گھوڑاہے جو قتل و قتال کا مرکز ہے‘ بہترین سونگھنے کی چیز مشک ہے جو ایک جانور کی ناف کا سوکھا ہوا خون ہے اور سننے کی بہترین چیز گانا ہے جو انتہائی بڑا گناہ ہے اے جابر ایسی چیزوں کے لئے غافل کیوں ٹھنڈی سانس لے‘ جابرکہتے ہیں اس ارشاد کے بعد میں نے پھر کبھی دنیا کا خیال نہ کیا اب آپ ذرا ٹھنڈے دل سے سوچ و فکر کریں کہ مندرجہ بالا بیان میں کس قدر حقیقت پنہاں ہے اس حقیقت کے علی الرغم آج انسان کس قدر خود غرض اور دنیا کا رسیاہو چکا ہے ایک مرتبہ جمعہ کے روز حضرت علی کرم وجہہ منبر پر خطبہ فرمارہے تھے جبکہ ایک پرانا لباس جس پر بہت سے پیوند تھے آپ کے زیب تن تھا عبداللہ ابن عباس کے دل میں خیال گزرا کہ یہ حالت امیر المومنین کے شایان شان نہیں اس کیساتھ ہی حضرت نے فرمایا کہ ’’ میں نے اس قدر پیوند پر پیوند لگائے ہیں کہ اب پیوند لگانے والے سے حیا آنے لگی ہے‘ علی کو دنیا کی زینت اور آرائش سے کیا سروکار؟

جس کا پھول کانٹا اور جس کی شہد زہر ہے میں کیونکر اس کی لذت سے خوش ہو سکتا ہوں جو تھوڑی دیر میں فنا ہونے والی ہے اور میں کس طرح پیٹ بھر کھا سکتا ہوں جبکہ ملک حجاز میں بہت سے پیٹ خالی اور بھوکے ہیں اور بھوک کی شدت سے بے تاب ہیں میں کس طرح اس بات سے خوش ہو سکتا ہوں کہ لوگ مجھ کو امیر المومنین کہیں اور مسلمان اپنامقتدا اورپیشوا جانیں اور میں سختیوں اور مشکلوں میں ان کا شریک نہ رہوں اور بھوک و تنگی معاش و احتیاج میں ان کے ساتھ موافقت نہ کروں‘ ذرا مندرجہ بالا تحریر کو غور سے پڑھیں اور پھر آج کل کے مسلمان لیڈروں‘ بادشاہوں صدور اور وزرائے اعظم کی پوشاک ‘بو د و بادش اور رہن سہن کا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے لائف سٹائل سے موازنہ کریں آج کل ہمارے حکمران اپنے عزیز و اقربا‘ منظور نظر افراد اور دوست یاروں کو کس طرح سرکاری پیسوں اور مراعات سے نوازتے ہیں یہ سب دنیا کو معلوم ہے حضرت عقیل کو بیت المال سے روزانہ دو درہم وظیفہ ملتا تھا جس سے آپ کے اوقات زندگی بسر ہوتے تھے آپ نے ایک مرتبہ حضرت امیر المومنین سے عرض کیا کہ وظیفہ میں کچھ اضافہ کر دیں مگر حضرت نے نہ مانا اس کے بعد ایک مرتبہ حضرت عقیل نے امیرالمومنین کو رات کھانے کی دعوت دی اور دوران گفتگو پھر اپنی مفلسی کا اظہار کیا اور وظیفہ میں زیادتی کی خواہش کی حضرت نے پوچھا کہ یہ ضیافت کا انتظام کس طرح ہوا عرض کیا کہ کئی روز سے روزانہ نصف درہم بچا کر اس دعوت پر صرف کیا فرمایا کہ جب تم کو دیڑھ درہم کافی ہو سکتا ہے تو پھر کیوں زیادتی کی خواہش کرتے ہو عقیل نے پھر اصرار کیا تو حضرت نے شمع ان کے ہاتھوں کے اس قدر قریب کی کہ ہاتھ جلنے لگے عقیل نے کہاکہ میرا ہاتھ کیوں جلانا چاہتے ہیں فرمایا اے عقیل جب تم اس آگ کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس بات کو کیونکر جائز رکھتے ہو کہ میں اہل اسلام کے حقوق میں سے تمہارے حصہ سے زیادہ تم کو دیکر آتش آخرت کا شکار اور سزا و ار بنوں۔