بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سول وعسکری قیادت کا عزم

سول وعسکری قیادت کا عزم

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں خطے کی مجموعی صورتحال کے تناظر میں اہم امور پر غور ہوا‘ چار گھنٹے جاری رہنے والے اس اجلاس میں مسلح افواج کے سربراہان چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی شریک ہوئے‘ اجلاس سے قبل وزیراعظم سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ون آن ون ملاقات کی‘ اجلاس سے متعلق مہیا میڈیا رپورٹس میں بدلتے حالات میں پاکستان کا موقف واضح ہوتا ہے‘ وزیر خارجہ کا اپنی بریفنگ میں بتانا ہے کہ خطے کے ممالک کو بتایاگیا ہے کہ افغان مسئلے کا واحد حل مذاکرات ہیں‘ قومی سلامتی کونسل کا کہنا ہے کہ محفوظ اور پرامن افغانستان ہی پاکستان کے مفاد میں ہے‘ کمیٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت لائن آف کنٹرول پر نہتے شہریوں کو نشانہ بنارہا ہے جوکہ ناقابل برداشت ہے‘ قومی سلامتی کمیٹی نے نئی امریکی پالیسی کے تناظر میں وطن عزیز کی حکمت عملی پر غور بھی کیا اور قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کا عزم کیاگیا‘ افغانستان اور بھارت سے متعلق پاکستان کا موقف واضح اور شفاف ہے‘ پاکستان افغانستان کے حالات سے متاثر چلا آرہا ہے۔

‘ طویل عرصے سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے والا ملک افغان سرزمین پر امن کے قیام کیلئے مذاکرات کی میزبانی بھی کرچکا ہے‘اس کے جواب میں امریکہ اپنی افغان پالیسی کی ناکامی پر منہ چھپائے ہوئے سارا ملبہ پاکستان پر گرا رہا ہے‘ خود افغان حکام بھی پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات کی بارش کرتے رہتے ہیں‘ دوسری جانب بھارت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے دنیا کی توجہ ہٹانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید سے بچنے کیلئے پاکستان پر الزامات عائد کرتا رہتا ہے جبکہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے‘ اس ضمن میں پاکستان کی جانب سے ڈوزیئرز دیئے جاچکے ہیں‘و طن عزیز کی سیاسی وعسکری قیادت نئی امریکی پالیسی کے ضمن میں پاکستان کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کا عزم کرنے کیساتھ کسی بھی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر متفق ہے‘ ضرورت عالمی برادری کو پاکستان کے سٹینڈ سے متعلق آگاہ کرنے اور گمراہ کن پروپیگنڈے کاتوڑ کرنے کی ہے‘ اس مقصد کیلئے ایک موثر حکمت عملی پر کام کرنا ہوگا جس میں پارلیمنٹ کو بھی اعتماد میں لے کر بڑھنا زیادہ سود مند ہوگا۔

تشخیصی مراکز کی ضرورت

خیبرپختونخوا حکومت متعدد امراض کے مفت علاج کی پیشکش کرتی ہے‘ بیماری کا علاج اس کی تشخیص پر ہوتا ہے‘ ہمارے ہاں سینکڑوں ایسے لوگ موجودہیں جو بیماری سے درست تشخیص نہ ہونے پر لاعلم رہتے ہیں‘ سرکاری ہسپتالوں میں ڈائیگناسٹک لیبارٹریوں میں روٹین کے پیتھالوجی اور دوسرے ٹیسٹ کرانا بھی انتہائی مشکل ہے‘ نجی شعبے میں معیاری سروسز انتہائی مہنگی ہیں جبکہ غیر معیاری اور جعلی لیبارٹریوں کے نتائج پورے علاج کومتاثر کرتے ہیں‘ ایسے میں ضرورت سرکاری سطح پر ہسپتالوں میں علیحدہ لیبارٹری یونٹس کی ہے جن میں صرف امراض کی تشخیص ہو اور علاج کیلئے درست کلینک یا ہسپتال کی نشاندہی کی جائے‘حکومت کی جانب سے مفت علاج کی سہولت قابل تعریف سہی‘ اس سے پہلے درست تشخیص کیلئے انتظامات ضروری ہیں‘ اس کیلئے موبائل لیبارٹری یونٹس کیساتھ دور دراز علاقوں تک بھی پہنچا جاسکتا ہے۔