بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / فنی تعلیمی ادارے طلبہ کیلئے روزگار کی ضمانت بنیں ٗ پرویز خٹک

فنی تعلیمی ادارے طلبہ کیلئے روزگار کی ضمانت بنیں ٗ پرویز خٹک

پشاور ۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے پاک فضائیہ کی فنی معاونت حاصل ہونے کے بعد سے ٹیوٹا خیبرپختونخوا کے فنی اداروں اور ووکیشنل انسٹی ٹیوٹس میں داخلوں کی بڑھتی ہوئی شرح،سیلف فنانس سکیم کے اجراء اور نادار بچوں کی مفت فنی تربیت کے پروگرام پر عملدرآمد کو خوش آئند قرار دیا ہے۔انہوں نے فنی تعلیم کے مختلف شعبوں میں لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کا خصوصی اہتمام کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ ادارے عالمی معیار کی فنی تربیت یقینی بنائیں تاکہ طلبہ کیلئے فوری روزگار کی ضمانت بنیں نیز واضح کریں کہ فنی تربیتی مراکز کے قیام کا مقصد ہنرمند اور پیشہ ورانہ افرادی قوت تیار کرنا ہے ان لہٰذا مراکز کے تحت امتحانی نتائج حقیقت پسندانہ ہونا چاہئیں۔ ہم نے صرف ان کو تربیت دینے کے ساتھ ساتھ ان کے مستقبل کا بھی سوچنا ہے۔وزیراعلیٰ نے بٹگرام میں ہزارہ یونیورسٹی کا کیمپس کرائے کی بلڈنگ میں قائم کرنے اور اس میں جلد ازجلد اعلیٰ فنی تربیت کی کلاسز کے آغاز کے ساتھ ساتھ ٹیوٹا کو ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے اندر انتہائی غیر مبہم سفارشات مرتب کرے کہ آیا بٹگرام میں ایس ڈی سی کی عمارت ہزارہ یونیورسٹی کو منتقل کی جا سکتی ہے یا نہیں تاکہ مستقبل کی تعمیرات میں اس کو پیش نظر رکھا جا سکے ۔

وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ٹیوٹا کے بورڈز آف ڈائریکٹرز اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں دیگر بورڈ ممبران کے علاوہ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اعلیٰ تعلیم مشتاق غنی، مشیر برائے فنی تعلیم اور ہوا بازی ائیر کموڈور(ر) محمد امین اور متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں نے شرکت کی۔اجلاس میں بورڈ کے سابقہ اجلاس کے منٹس کی منظوری دی گئی اور متعدد اہم فیصلے کئے گئے۔

وزیراعلیٰ نے ٹیوٹا کے مختلف فنی اداروں کیلئے گریڈ 16 اور اس کے نیچے کی درکار 159 مختلف آسامیاں پر کرنے کی منظوری دیتے ہوئے تمام عمل میرٹ اور شفافیت کے ساتھ جلد ازجلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔اسی طرح انہوں نے مختلف تربیتی مراکز میں درکار تدریسی عملے کی کمی پوری کرنے کیلئے مارکیٹ سے500 انتہائی ہنر یافتہ انسٹرکٹرکنٹریکٹ پر بھرتی کرنے اور اُن کی تنخواہیں 30 ہزار روپے کی رینج سے 50 ہزار روپے تک بڑھانے کی منظوری بھی دی ۔وزیر اعلیٰ نے ارمڑ پشاور ، تخت بائی اور شیدو جہانگیرہ میں مختلف اداروں کی گزشتہ کئی عشروں سے متروک عمارات فنی تربیت کے لئے ٹیوٹا کے حوالے کرنے کی منظوری دیتے ہوئے یہ کام ہنگامی بنیادوں پر نمٹانے کی ہدایت کی ۔

اجلاس میں ٹیوٹا کے نظر ثانی شدہ بجٹ برائے 2017-18 کی منظوری بھی دی گئی۔بورڈ کو ہدایت کی گئی کہ ہر معاملے کو بورڈ کے اجلاس میں لانا ضروری نہیں ہے جو چیزیں بورڈ کمیٹی کے اختیار میں ہیں انہیں از خودنمٹایا جائے۔ آلات اور مشینری کی خریداری پالیسی کے مطابق یقینی بنائی جائے ۔ اسی طرح کمیٹیاں ضرورت کو مد نظر رکھ کر وسائل مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دو اڑھائی سو قوانین اور ترامیم اس لئے عمل میں لائی ہیں کہ ترقی کا عمل آسان ہو۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کام کرنے کی نیت ہو تو راستہ نکل آتا ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ صوبے کے جن فنی تربیتی مراکز میں طلباء و طالبات کی تعداد میں اضافہ ہو وہاں آئندہ عشروں کی ضروریات کے مطابق کشادہ عمارات کی تعمیر کی منصوبہ بندی بھی کی جائے ۔ٹیوٹا کے انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم میں خامیاں دور کرکے عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا جس کے لئے وزیراعلیٰ نے ٹیوٹا کو ماہرین کی فراہمی اور نظامت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو فوری اقدامات کی ہدایت کی ۔ٹیوٹا کے نظر ثانی شدہ قواعد و ضوابط کی منظوری بھی دی ۔اجلا س کو بتایا گیا کہ ٹیکنیکل ادارے صوبہ بھر میں صنعتی زونز میں ہی قائم کئے جائیں گے۔

فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لئے ازمک کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔ انہوں نے سٹاف کے دوسرے سٹیشنز پر تبادلے کے سلسلے میں سفارشات سے اتفاق کرتے ہوئے ہدایت کی کہ جو لوگ کام نہیں کرتے انہیں سرپلس پول میں ڈال دیں۔ اداروں میں جزا اور سزا کا نظام لائیں جو کام کرنے پر آمادہ نہیں اسے گھر کا راستہ دکھائیں۔ نتائج کا حصول یقینی بنائیں اچھے افسران اور اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کریں اور جو کام نہیں کرتے انکوفارغ کرنے کے لئے سفارشات دیں۔

وزیر اعلیٰ نے سول سرونٹس خواتین ٹیچرز کی اپ گریڈیشن اور پروموشن کے مسئلے کے حل کا راستہ نکالنے کی ہدایت کی۔انہوں نے ایس وی ٹی آئی گدون امازئی میں لفٹ ہینڈ ڈرائیو ہیوی وہیکل متعارف کرانے کی بھی منظوری دی۔انہوں نے عملے کی استعداد کار میں اضافہ کے لئے برٹش کونسل کی معاونت حاصل کرنے جبکہ چکدرہ ، چترال، بونی اور سوات کے ایس وی ٹی آئیز کو فعال بنانے کے لئے نظر ثانی شدہ پی سی ون کی منظوری دی۔وزیر اعلیٰ نے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر فوری عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ بورڈ کے آئندہ اجلاس میں تمام فیصلوں پر سو فیصد عمل چاہتے ہیں اس سلسلے میں کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گی۔