بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / فاٹا انضمام ٗ قبائلی اراکین کا 12نکاتی ایجنڈا تیار

فاٹا انضمام ٗ قبائلی اراکین کا 12نکاتی ایجنڈا تیار

پشاور۔فاٹا کے صوبہ میں مرحلہ وار انضمام پر اتفاق رائے کو تحریری شکل دیئے جانے کے بعدفاٹاکے منتخب ممبران نے پرمٹ سسٹم ختم کرنے ، اسلام آبادہائی کورٹ کے بجائے پشاور ہائی کورٹ کو علاقہ تک توسیع دینے جبکہ سی او او کاعہدہ بیوروکریٹ کے بجائے فاٹا کے منتخب نمائندے کو دینے کامطالبہ بھی کردیاگیاہے اس سلسلے میں فاٹا ممبران نے اتفاق رائے کے بعداپنے بارہ نکاتی ایجنڈے کو تحریر ی شکل دے دی ہے جو جلدوزیر اعظم کو پیش کردیاجائے گا ۔

اس سلسلے میں فیصلہ کے مطابق فاٹاکے ممبران پارلیمنٹ کااہم اجلاس گذشتہ روز وزیر مملکت برائے سیفران غالب خان کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں جی جی جمال ،شاہ جی گل آفریدی ،ناصر خان آفریدی ،سجاد طوری ،بلال الرحمان ،مومن خان آفرید ی ،شہاب الد ین خان اور محمد نذیر خان نے شرکت کی اجلاس میں بارہ نکاتی ایجنڈے کو حتمی شکل دے کر سارے موجود ممبران نے اس پردستخط کردیئے جبکہ غیر موجود ممبران سے بھی دستخط لیے جائینگے ۔

فاٹاممبران نے متفقہ طور پر وفاقی حکومت سے مطالبہ کیاکہ باہمی جھگڑوں کے لیے مروجہ قوانین سے ہٹ کرجرگہ سسٹم کے ذریعے فیصلے کی اجازت دی جائے اور عدالت کو ان فیصلوں کاپابند بنایاجائے نیزاصلاحات عملدر آمدکمیٹی میں فاٹا کے دو منتخب نمائندے شامل کیے جائیں فاٹا کو اگلے مالی سال کے دوران این ایف سی میں سے تین فیصد حصہ دینے ،معدنیات کی لیزیں مقامی قبائل کی مرضی سے دینے ،جبکہ پرمٹ سسٹم کو ختم کرنے کے مطالبات بھی کیے گئے۔

اسی طرح متفقہ ایجنڈ ے میں 141مختلف قوانین کو مرحلہ وار علاقہ تک توسیع دینے اور اس کی توثیق پارلیمنٹ سے کرانے ،پوست کی کاشت والے علاقوں کو گدون امازئی جیسا پیکج دینے ایف آرز کے متنازعہ علاقوں کامسئلہ انضمام سے پہلے حل کرنے اور ٹیکس لاء کو پاٹا کو مدنظر رکھ کر اس کے مطابق لاگو کرنے کے مطالبات بھی کیے گئے ذرائع کے مطابق یہ متفقہ مطالبات جلد وزیراعظم کو پیش کردئیے جائیں گے