بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / اسلامی جمعیت طلبہ کا ’آؤ بدلیں پاکستان‘ مہم کا آغاز

اسلامی جمعیت طلبہ کا ’آؤ بدلیں پاکستان‘ مہم کا آغاز

پشاور۔اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان نے ملک بھر میں ’’آؤبدلیں پاکستان ‘‘مہم کاآغازکردیاہے جس کے تحت ملک بھر میں کانفرنسز ،سیمینارز اور احتجاجی مظاہروں کاانعقاد کیاجائے گااورمہم کا بنیادی مقصد یونینز کی بحالی ،تعلیمی بجٹ کے خرچ اور طبقاتی نظام کے خاتمے کیلئے جدوجہد کرنا ہے۔

پشاورپریس کلب میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ صہیب الدین کاکاخیل نے صوبائی ناظم شاہکارعزیز ،مرکزی سیکرٹری اطلاعات ذاکراحمد،اورضلع پشاور ناظم حسن بشیرکے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ آؤبدلیں پاکستان کے تحت ملک بھر میں حکومت کے ایوانوں اور معاشرے کے دیگر طبقاتی کے ساتھ طلبہ میں شعور کی بیداری کی جائیگی انہوں نے کہاکہ اس وقت ہندوستان کل آمدنی کا 3.6 فیصد ، افغانستان 4.1فیصد، ایران3.8فیصد جبکہ پاکستان صرف 2.7فیصد تعلیم پر خرچ کررہاہے ۔

حالانکہ مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت نے وعدہ کیاتھاکہ وہ تعلیم پر ملک کی مجموعی آمدن کا چارفیصدخرچ کریگی آئین کے دفعہ25Aکے تحت پانچ سے16سال تک کے بچوں کومفت تعلیم کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے جوکہ ریاست نہیں نبھارہی اسی طرح تعلیم کیلئے جوبجٹ مختص کیاجاتاہے وہ بجٹ بھی خرچ نہیں کیا جاتا تعلیمی اداروں کے ارباب اختیار جب ریٹائرڈہوجاتے ہیں تو نیب اور دیگراحتساب ادارے کرپشن اور بدعنوانیوں کے الزام میں گرفتارکرلیتے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ 1983ء سے طلبہ یونین پر پابندی ہے سینٹ کے حالیہ قرار داد پر عمل درآمد کرتے ہوئے طلبہ یونینز کو بحال کیاجائے تاکہ سیاسی جماعتوں کو قیادت اور معاشرے میں برداشت کے رویے کو پروان چڑھایاجائے۔صہیب الدین نے کہاکہ قبائلی علاقوں کو فوری طورپرفاٹامیں ضم کرکے وہاں تعلیمی اداروں کاجال پھیلایاجائے جنرل یونیورسٹی سے لیکر میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز بنائے جائیں ۔

ناظم اعلیٰ آئی جے ٹی نے کہاکہ اس وقت آزادی کے70سال گزرجانے کے باوجودملک میں طبقاتی نظام تعلیم قائم ہے مدارس ،سرکاری تعلیمی اداروں ،نجی تعلیمی اداروں اور اعلیٰ نجی تعلیمی اداروں میں الگ الگ نصاب پڑھایاجارہاہے جس کی وجہ سے معاشرتی سوچ وفکر منقسم ہورکررہ گئی ہے نصاب اورنظام دونوں فکر کو پروان چڑھاتے ہیں اگرملک کی بنیادی نظریے سے نظام تعلیم متصادم ہو تو وہ ملک کبھی بھی اچھے شہری نہیں پیداکرسکتا۔