بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / کچن میں کھیت

کچن میں کھیت

ڈاکٹر شنکر رائے نیپال کے مشہور اور مقبول پلاسٹک سرجن ہیں۔ تاہم جس طرح پلاسٹک سرجن کا نام کاسمیٹک سرجری سے جڑا ہوتا ہے اور عام تاثر یہ ہوتا ہے کہ خوب مال کماتا ہوگا، شنکر اس تصور سے بالا تر ہے۔ میں ان کو ادیب رضوی اور عبدالستار ایدھی کی صف میں دیکھتا ہوں۔ اس سال انہوں نے مجھے یونیورسٹی کے سپیشلائزیشن کے امتحان میں بطور ممتحن بلایا۔ خاص بات یہ تھی کہ یہ امتحان دراصل بھارتی سسٹم کا حصہ ہے۔ میں پہلے بھی نیپال ہوکے آچکا ہوں ۔ ہر بار شنکر کی عوامی خدمات کا معترف ہوتا رہا ہوں۔ بھلا آدمی ہے کہ دنیا کے کونے کونے سے ان کو لاکھوں ڈالر ملتے ہیں لیکن مجال ہے جو اپنی ذات پر ان اعانتوں کا ایک پیسہ بھی خرچ کیا ہو۔ حتیٰ کہ چند سال قبل انہوں نے اپنا گھر بیچ کر اپنی بیٹی کو یونیورسٹی میں داخلہ دلوایا۔ اس وقت سے دو بیڈروم کے ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے رہے تھے۔ اس سال مجھے بتایا کہ بالآخر گاؤں میں کچھ زمین بیچ کر اور کچھ بینک سے قرض لے کر اپنے لئے ایک گھر لے ہی لیا۔ اگلے دن انہوں نے مجھے اپنا گھر دکھانے کیلئے لنچ پر مدعو کیا۔

یہ گھر ایک چھوٹی سی کالونی کے اندر ہے اور چونکہ نئے بنے ہوئے گھرہیں اس لئے بہت خوبصورت تھے۔ گھر میں داخل ہوئے تو لان کا سائز ایک بستر کے برابر تھا لیکن شنکر نے گملوں میں اتنے زیادہ پودے اگائے ہوئے تھے کہ کوئی کونا سبزے سے خالی نہ تھا۔ چھوٹے چھوٹے گملوں میں بھی پودوں میں سنگترے اور دوسرے پھل لگے ہوئے تھے۔

شنکر نے بتایا کہ چونکہ وہ ایک دہقان خاندان سے ہے اور بچپن سے کھیتوں میں مزدوری کرتا رہا ہے اس لئے پودوں سے اسکی محبت کا یہ عالم ہے۔
اتوار کے دن میں گاؤں جانے نکلا تو سڑک کے دونوں جانب عمارتیں‘کالونیاں اور ماربل کے کارخانے دیکھ کر بڑا دکھ ہوا۔ پشاور کا یہ علاقہ از حد زرخیز ہے۔ یہاں پر سے نہر گزرتی ہے اور ہر کھیت کو پانی مہیا کرسکتی ہے۔ تاہم عوام کی اکثریت نہ کھیتی باڑی سے شغف رکھتی ہے اور نہ اسے ماحولیات کی خرابی کا کوئی احساس ہے۔ اوپر سے حکومت بھی نہ تو گڈ گورننس پر یقین رکھتی ہے اور نہ ہی ایسے قوانین بناتی ہے جو زراعت کیلئے مفید ثابت ہوں۔ چند برس قبل تک کبھی کبھار مہم چلتی تھی کہ زرعی زمینوں کو کمرشل مقاصد کیلئے استعمال نہ کیا جائے لیکن اب آہستہ آہستہ وہ مہم بھی ختم دکھائی دیتی ہے۔ اسکے مقابلے میں بھارت کے زمیندار اور کسان زیادہ ہوشیار نکلے۔ جب ٹاٹا کمپنی نے نینو کے نام سے نئی گاڑی بنانے کیلئے بنگال میں زمین خریدی تو مقامی لوگوں نے احتجاج کرکے ان کی یہ کوشش ناکام بنادی۔ حالانکہ شاید کارخانے کے قیام سے زیادہ لوگوں کو روزگار ملتا۔حکومت کو چاہئے کہ کمرشل آبادیوں کیلئے بنجر زمینوں کا انتخاب کرے جسکی سب سے بڑی مثال حیات آباد ہے۔پاکستان بے پناہ وسائل کا حامل ملک ہے۔

یہاں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہے۔ تاہم جدید زراعت کی کچھ مثالیں ہمیں ملتی ہیں تو پنجاب ہی میں ملتی ہیں۔ جہانگیر ترین جیسے شخص نے جدید فارمنگ کرکے نہ صرف اپنی پیداوار کو بڑھایا بلکہ اپنے کسانوں کی زندگی میں بھی واضح فرق لاسکے۔ یہ جدید دور کی زراعت ہی ہے جس میں گرین ہاؤس یا جسے ہمارے ہاں ٹنل فارمنگ کہتے ہیں، کہ ہمیں کئی اقسام کے پھل اور سبزیاں سارا سال ملتی رہتی ہیں۔ میں نے سکردو میں دیکھا کہ لوگوں نے بیک وقت دو دو فصلیں ایک ہی کھیت میں بوئی ہیں۔ مثال کے طور پر گندم تھوڑی بڑھ جائے تو یہ ساتھ میں جوار کی فصل بھی بو لیتے ہیں۔ جب گندم کی کٹائی ہوجاتی ہے تو جوار کی فصل بڑھنا شروع کردیتی ہے۔

پختونخوا میں بھی محکمہ زراعت کافی نئے قسم کے پھل متعارف کرواچکا ہے۔ تاہم ہمیں اپنی زرخیز زمینوں سے پورا فائدہ اٹھانے کیلئے چند اقدامات کرنے ہوں گے۔ ایک مسئلہ ہمارے ہاں خاندانی جھگڑوں کا ہے جن کی وجہ سے جائیدادیں سکڑ کر محض چند مرلوں کے کھیت رہ جاتے ہیں اور وہ کبھی بھی اتنا فصل نہیں اگاسکتے جو منافع بخش ہو۔ اسلئے صاحبِ جائیداد لوگوں کو چاہئے کہ اپنی زمین کیلئے کوآپریٹو سوسائٹی کی طرز پر ادارے بنائیں جو ماہرین کی رائے کے مطابق مشینی زراعت کرے اور فارمنگ کیلئے جائیداد کو تقسیم ہونے سے بچائے۔ خاندان کے بڑھنے پر ان کے حصے کا منافع کم ہوتا جائے گا لیکن موجودہ صورتحال میں یہی سب سے اچھا حل ہے۔ دوسرا حل یہ ہے کہ نقد آور فصلیں بوئی جائیں جو زرمبادلہ کی کمائی بھی کرسکے ۔ مثال کے طور پر صرف ایس پیریگس ساگ مغربی ممالک میں کافی مہنگا بکتا ہے اور چند کنال کی زمین سے اسکی صرف ایک فصل تیس چالیس لاکھ منافع کماسکتی ہے۔ مشینی فارمنگ سے لیبر کا خرچ بھی کم ہوجائے گا اور کسانوں کی قلت کا حل بھی نکل آئے گا۔

نیویارک جیسے مصروف اور مہنگے شہر میں لوگوں نے اپنے کچن میں بوتلوں میں سبزیاں کاشت کی ہوئی ہیں ۔ میرے ایک دوست پلاسٹک سرجن نے تو گھر کی چھت پر اچھا خاصا سبزی کا کھیت بنایا ہوا ہے۔ہماری خواتین جو اپنا زیادہ وقت گھر میں گزارتی ہیں، ان کیلئے اس سے زیادہ صحت مندانہ مشغلہ کم ہی ملے گا۔ یہ ننھے ننھے پودے جب بیج کا سینہ پھاڑ کر انگڑائی لیتے ہیں، تو ویسے ہی چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔ جب پھول کھلتے ہیں تو دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔ اسکے بعد جب اس میں سبزی تیار ہوتی ہے تو اسکے پکانے کالطف بھی دوبالا ہوجاتا ہے۔ ان کچن گارڈنز میں مصنوعی کھاد کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ اگر آپ پھلوں، سبزیوں کے چھلکے، چائے کی استعمال شدہ پتی، باسی کھانا ایک لکڑی کی ٹوکری میں ڈالیں تو چند دن میں اس سے بہترین کھاد تیار ہوجاتی ہے اور اسکا تھوڑا تھوڑا استعمال آپ کے پودوں کیلئے آبِ حیات ثابت ہوگا۔