بریکنگ نیوز
Home / کالم / احتساب سے اغماض!

احتساب سے اغماض!

پاکستان کی سیاسی جماعتیں احتساب کے عمل کا سیاسی حل دریافت کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں حالانکہ یہ ایک خالصتاً آئینی مسئلہ ہے اور اسے آئین کی روشنی ہی میں حل ہونا چاہئے۔ حکمران جماعت اگر اس موقع پر ملک کے آئین میں کوئی بھی ایسی تبدیلی کرتی ہے جس سے احتساب کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہو اور ایک سیاسی طبقے کو فائدہ ہو تو ایسی قانون سازی (ترامیم) کو بدنیتی شمار کیا جائے گا اور اس سے یہی تاثر ملے گا کہ پاکستان نہیں چاہتا ہے کہ اس کے ہاں مالی و انتظامی نظم و ضبط پیدا ہو۔
احتساب کے حوالے سے ملک کے قانون ساز اداروں کی کارکردگی حالیہ چند ہفتوں میں غیرمعمولی طور پر تیزرفتار دکھائی دے رہی ہے۔ نیشنل اسمبلی کی ’پارلیمانی کمیٹی برائے قومی احتساب بیورو (نیب)‘کے اجلاس میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں اور جرنیلوں کو احتساب کے قانون کے دائرے میں لانے پر غور ہوا۔ یہ تجویز پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر نے پیش کی مگر وہ خود اور نوید قمر اجلاس میں موجود نہیں تھے۔ اس لئے کاروائی آگے نہ بڑھ سکی۔ کیا ہم اس بات کو محض حسن اتفاق قرار دیں کہ قرارداد پیش کرنے والے خود ہی غیرحاضر ہو جائیں تاکہ معاملہ پیش ہونے سے آگے نہ بڑھ سکے۔ اجلاس کے بعد وزیر قانون زاہد حامد نے کہا ’’یہ تجویز اہم ہے اس پر تفصیلی غور پیپلز پارٹی کے ارکان کی موجودگی میں ہی کیا جائے گا۔

‘‘ پارلیمانی کمیٹی کو قومی احتساب بیورو کا نام قومی احتساب کمیشن سے تبدیل کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ نیب کے نئے قانون میں بد عنوانی کی تعریف میں بھی کچھ تبدیلیاں زیر غور ہیں۔ نیب کے چیئرمین کی مدت چار سال سے کم کر کے تین سال کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے‘ ان تمام باتوں پر پارلیمانی کمیٹی برائے قومی احتساب بیورو‘ چار اکتوبر کے اجلاس میں غور کرے گی۔ اس پر کوئی اختلاف نہیں احتساب سے اغماض جہاں ملکی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے وہیں معاشرے میں کرپشن کا ناسور بھی جڑیں پکڑ رہا ہے۔ اس کا صرف ایک ہی حل ہے کہ پبلک آفس میں موجود ہر شخص کی بلا امتیاز جوابدہی کی روایت ڈالی جانی چاہئے۔ سرکاری وسائل کا استعمال جس جس کے اختیار میں ہے ان سب کو احتساب کے دائرے میں لا کر ہی کرپشن فری معاشرے کی تشکیل ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ ’نیب‘ اس وقت جیسا بھی ہے سیاستدانوں اور بعض اعلیٰ افسروں کو گرفت میں لئے ہوئے ہے۔ انہیں سزائیں بھی مل رہی ہیں اور وہ مناصب سے نا اہل بھی قرار پا رہے ہیں لیکن صرف اتنا ہی کافی نہیں۔ بعض اور طبقات بھی ہیں جن کے پاس بڑے اختیارات ہیں‘ جو بڑے طاقتور سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے اختیارات‘ طاقت اور اس کے غلط استعمال سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں۔ جب تک سب کو احتساب کے قانون کے دائرے میں لانے کا اہتمام نہیں کیا جائے گا۔ عوام میں یہ تاثر پایا جاتا رہے گا کہ احتساب یک طرفہ ہے یا اس کے پس پشت سیاسی انتقام کار فرما ہے۔ پاناما لیکس کیس میں معزول وزیراعظم اور ان کے خاندان کو کاروائی کا سامنا ہے۔

سابق وزیراعظم کو ان کے منصب سے علیحدہ کیا جا چکا ہے‘ عدالت کے فیصلے کے تحت انہیں قومی اسمبلی کی نشست بھی چھوڑنی پڑی۔ معزول وزیراعظم اس فیصلے سے اختلاف رکھتے ہیں اور اکثر ذہنوں میں یہ سوال اُبھر رہا ہے کہ پاناما لیکس میں کچھ اور لوگوں کے بھی نام آئے ہیں اور مالی بد عنوانیوں کے الزامات بھی بہت سے لوگوں پر عائد ہیں۔انہیں احتساب کے شکنجے میں کب کسا جائے گا۔ ان سب حقائق کے پیش نظر ضرورت ہے کہ احتساب کا نظام اس قدر شفاف اور ہر خامی سے پاک ہو کہ جسے سزا ملے وہ خود اقرار کرنے پر مجبور ہو کہ وہ واقعی اس سزا کا مستحق تھا لیکن کوئی بھی ایسا قانون پوری دنیا میں کہیں بھی موجود نہیں کہ جس کا اطلاق جن لوگوں پر کیا جائے وہ اس مبنی برانصاف قرار دیں۔ دنیا کے کسی بھی معاشرے اور اخلاقی قدروں میں جھوٹ بولنے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ ہمارے وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں ایوان سے خطاب میں جو کچھ کہا‘ وہ آن دی ریکارڈ تو ہے لیکن وہ اپنے کہے سے یہ کہتے ہوئے مکر گئے کہ وہ سیاسی بیان تھا۔ ایک طرف پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف پارلیمنٹ ہی کے سامنے جھوٹ بولا جاتا ہے۔ کیا یہ سیاست ہے کہ چند ہزار ووٹ لینے والوں کو آئین سے بالادست قرار دے دیا جائے؟ فیصلے کی اس گھڑی میں اگر فیصلہ عدالتوں پر چھوڑتے ہوئے آئین سے چھیڑخانی نہ کی جائے یہ جمہوریت کے مستقبل کے لئے زیادہ خوش آئند ہوگا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: مظہر قیوم قریشی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)