بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / ہائر ایجوکیشن کمیشن کی خدمات

ہائر ایجوکیشن کمیشن کی خدمات

ہمارے ہاں زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح اعلیٰ تعلیم کا شعبہ بھی ہمیشہ نظر انداز رہا ہے 2000 تک ہمارے ہاں ملک بھر میں صرف 59 جامعات اور ڈگری جاری کرنیوالے اعلیٰ تعلیم کے ادارے کام کر رہے تھے جن سے 55سال کے دوران بمشکل تین ہزار پی ایچ ڈیز فارغ ہو ئے تھے جامعات میں تحقیق اور انڈسٹریز کے ساتھ روابط کا کلچر نہ ہونے کے برابر تھا۔ خیبرسے کراچی تک تمام جامعات نہ صرف جمودکا شکا ر تھیں بلکہ ان میں ذاتی اور گروہی مفادات کا دھندہ بھی عروج پر تھا ایسے میں جب 2002میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن جو کہ 1974کے ایک صدارتی آرڈ یننس کے تحت قائم کیا گیا تھاکوہائر ایجوکیشن کمیشن میں ضم کرتے ہوئے جدید خطوط اور بین الاقوامی ضروریات کے تحت ایک نئے ادارے کی داغ بیل ڈالی گئی تو حسب روایت اس کوشش اور اس نئے ادارے پرہر جانب سے نہ صرف تنقید اور اعتراضات کے نشترچلائے گئے بلکہ بعض مفاد پرست اور رخودغرض عناصر نے اسکی راہ میں ہر ممکن روڑے اٹکانے کی کوششیں بھی کیں لیکن یہ اس نوزائیدہ ادارے کی خوشی قسمتی تھی کہ اسے آغاز ہی میں جہاں ڈاکٹر عطاء الرحمن جیسے بین الاقوامی شہرت یافتہ سائنسدان اور بہترین منتظم کی سرپرستی اور سربراہی میسر آئی وہاں حسن اتفاق سے اسوقت کے سربراہ مملکت جو ملک کے سیاہ و سفید کے بلاشرکت غیرے مالک تھے کی جانب سے بھی اس ادارے اور ڈاکٹر عطاء الرحمن کی ہر ممکن سرپرستی کی گئی۔

ایچ ای سی کے قیام اور سرپرستی کے تناظر میں یہاں شایدیہ کہنا بے جانہ ہو گا کہ جنرل پرویز مشرف کے نو سالہ عرصہ اقتدار کی اگر کوئی بڑی خوبی اور کام یاد رکھے جانے کے قابل ہے تو وہ ایچ ای سی کا قیام اور اسکی غیر مشروط سرپرستی تھی۔ یہ بات محتاج بیان نہیں ہے کہ ایچ ای سی کے وجود میں آنے سے پہلے ہمارے ہاں تحقیق کو ایک اضافی بوجھ سمجھ کر کسی بھی سطح پر کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی تھی جس کی وجہ سے ہماری لیبارٹریاں اور لائبریریاں قبرستانوں کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ لیکن جب ایچ ای سی نے 2002میں نئی قیادت‘ نئے مینڈیٹ اور نئے وژن کے ساتھ کام کا آغاز کیا تو چند سال کے اندر اندر ایچ ای سی نہ صر ف ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اپنا وجود منوانے میں کامیاب ہو گیا بلکہ ایچ ای سی کی کوششوں اور وژن کے نتیجے میں ملک کی جامعات میں تحقیق کے ایک ایسے نئے دور کا آغاز بھی ہو ا جو بعد کے آنے والے دنوں میں ہمارے ہاں اگرایک طرف سائنس وٹیکنالوجی کے شعبے کی ترقی وترو یج کا باعث بن گیا تو دوسری جانب ایچ ای سی نے اندرون ملک اور بیرون ملک پی ایچ ڈی کی تحقیق اورنگرانی کا ایک ایسا جامع نظام بھی متعارف کرایا جسکے نتیجے میں اب تک ہزاروں نوجوان ملکی اور غیر ملکی جامعات سے مختلف شعبوں میں اپنی پی ایچ ڈی کی تعلیم یا تو مکمل کر چکے ہیں اور یا پھر ان کی تعلیم کی تکمیل آخری مراحل میں ہے جامعات کے تن مردہ میں جان ڈالنے کیلئے ایچ ای سی نے جہاں ان جامعات میں فیکلٹی کی بھرتی کے معیار کو بڑھاتے ہوئے ٹینور ٹریک سسٹم کے تحت پروفیسرز اور ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی اسامیوں کیلئے پی ایچ ڈی کی تعلیم کو لازمی قراد دیا وہاں فیکلٹی کو جامعات میں درس وتدریس اور تحقیق کی جانب مائل کرنے کیلئے فیکلٹی کی مراعات اور تنخواہوں میں بھی کئی گنا اضافہ کیا گیا ۔

یہاں اس بات کی نشاندہی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ ایچ ای سی کے وجود میں آنے سے پہلے پاکستان کی کوئی بھی جامعہ دنیا کی پانچ سو بہترین جامعات کی فہرست میں موجود نہیں تھی لیکن ایچ ای سی کی شبانہ روز محنت‘سرپرستی اور نگرانی کے نتیجے میں اب اس فہرست میں پاکستان کی پانچ جامعات اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہو چکی ہیں جو نہ صرف ایچ ای سی کی کامیاب پیش رفت کی دلیل ہے بلکہ یہ پاکستان کے لئے بھی اعزاز اور فخر کی بات ہے۔ یاد رہے کہ ایچ ای سی کے قیام کے وقت ہر دس لاکھ نوجوانوں میں صرف دو فیصد کی اعلیٰ تعلیمی اداروں تک رسائی تھی جبکہ اب یہ شرح بڑھ کر نو فیصد ہو چکی ہے اور اگلے پانچ سالوں میں اس شرح کو پندرہ فیصد تک بڑھانے کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیںیہ امر قابل اطمینان ہے کہ ایچ ای سی نے پندرہ سال پہلے 59جامعات‘ 3110 پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز‘ سالانہ 800 تحقیقی مضامین کی اشاعت اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں 2.6 فیصد داخلوں کی شرح کیساتھ جس کام کا آغاز کیا تھا اب پندرہ سال بعد اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تعداد 188، تحقیقی مضامین کی تعداد 12000سالانہ اورپی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز کی تعداد 11960تک پہنچنے سے توقع کی جا سکتی ہے کہ ایچ ای سی اپنی کامیابیوں اور ترقی کے اس ہمہ گیر سفر کوجاری رکھے گا۔