بریکنگ نیوز
Home / کالم / شمیم شاہد / گھر کو سدھارنا ہوگا

گھر کو سدھارنا ہوگا

بڑھتی ہوئی سیاسی محاذآرائی کے درمیان میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے یہ بیان دے کر کہ دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے اپنے گھر کی بھی خبر لینی چاہئے ‘نے طوفان اٹھادیا ہے سب سے پہلے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اس بیان پر سیخ پا ہو گئے اور جب وزیر اعظم شاہدخاقان عباسی اور وزیر داخلہ احسن اقبال نے خواجہ آصف کے بیان کی حمایت کی تو اس سے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کاپارہ مزید چڑھ گیا‘ ردعمل میں انہوں نے وزیر اعظم کو بھی نہ بخشا اور کہا کہ وزیر اعظم کو گھر کی خبر ضرور لینی چاہئے مگر دنیا میں ملک کو تماشا نہیں بناناچاہئے‘اسی طرح پنجاب کے وزیر قانون اور وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کو بھی نہ صرف گھر کی خبر لینے کے جملے نے نیند سے اٹھادیا بلکہ انہوں نے برملا کہا کہ لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ 120 کے ضمنی انتخابات میں نوتشکیل شدہ ملی مسلم لیگ سمیت 40کے لگ بھگ امیدواروں کو صرف اسلئے کھڑا کردیاگیاتھا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے ووٹ منتشرہوجائیں اور راناثناء اللہ نے بھی خواجہ آصف کے موقف کی تائیدکی۔ ویسے خواجہ محمد آصف نے جو کچھ کہاہے اس میں کچھ بھی نیا یا انہونا نہیں پچھلی کئی ایک دہائیوں سے اسی قسم کے خیالات کا اظہار ملک بھر کے قوم پرست‘ ترقی پسند اورجمہوریت پسند خیالات اور نظریات رکھنے والے سیاسی وسماجی رہنماء‘ انسانی حقوق کے تحفظ کرنیوالے اور لکھاری بھی کررہے ہیں ۔

حتیٰ کہ 9/11 کے بعد انتہا پسند ی‘ دہشت گردی اور افغانستان پر مکمل یوٹرن لینے والے فوجی آمر پرویز مشرف نے امریکی اتحاد کا حصہ بننے کے بعد خواجہ آصف جیسے خیالات کا اظہار نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرونی ممالک کے کئی ایک فورمز پر کیاتھا اسی طرح سابق صدرآصف علی زرداری اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو بھی احساس تھا کہ قومی سطح پر دہشت گردی اور انتہاپسندی کے بارے میں ٹھوس پالیسی کا فقدان ہے اور یہی وجہ ہے کہ فوجی کاروائیوں اور حکومتی اداروں کی کاوشوں کے باوجود دہشت گردی میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہاہے اور اسی وجہ سے امریکی اور افغان قیادت کے ساتھ گفت وشنید میں بلکہ عالمی سطح کے اجلاسوں میں بھی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے باعث پاکستان کی جگ ہنسائی اب معمول بن چکی ہے۔شکر ہے کہ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کو نہ صرف احساس ہوا بلکہ انھوں نے برملا اعتراف کیااور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر داخلہ احسن اقبال نے بھی وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کے موقف کی حمایت میں بخل سے کام نہیں لیا۔خواجہ آصف کے موقف کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہونا چاہئے کہ پاکستان کے آئینی اور قانونی ادارے دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کا قلع قمع کرنے میں منافقت سے کام لے رہے ہیں‘ کسی کو بھی قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہئے مگر بعض عناصر کے دہشت گردوں کے ساتھ رابطوں اور حمایتوں کی تصدیق وقتاً فوقتاً ہوئی ہے چوہدری نثار علی خان کا شمار ملک کے انتہائی اہم معزز اور با اثر سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے مگر پچھلے چار سال کے دوران بحیثیت وزیر داخلہ ان کے داعش ،افغان طالبان،یا حقانی نیٹ ورک کے بارے میں بیانات اور موقف نے بہت سے لوگوں کو حیران اور پریشان کر رکھا ہے۔

جب بھی انھوں نے داعش یا حقانی نیٹ ورک کے نہ ہونے کے بارے میں بیان دیاہے تو دوسرے دن ان ہی کے بیان کی نفی ہوئی ہے۔کوئی بھی اس حقیقت کو جھٹلانہیں سکتا کہ اب اس ملک کے کونے کونے میں نہ صرف ملکی عسکریت پسند تنظیموں بلکہ القاعدہ ،داعش،حزب اسلامی ترکستان ،تحریک طالبان افغانستان اور دیگرکی حمایت کرنے والے موجود ہیں‘حتیٰ کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی ایک کاروائی کے دوران لاہور کی قومی اسمبلی کی نشست پر ہونیوالے انتخابات میں کالعدم تنظیم کے امیدوار کے حصہ لینے پر تعجب کا اظہار کیاگیا ہے اس امیدوار کے حصہ لینے یا نہ لینے کے بارے میں بہت سے اداروں بالخصوص قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے ملحقہ جاسوس اداروں کی کارکردگی پر کئی ایک سوالات اٹھائے گئے ہیں جب تک غلطی یا کوتاہی کا اعتراف نہیں ہوتا تب تک اصلاح کیلئے کئے جانے والے اقدامات بارآور ثابت نہیں ہو سکتے خواجہ آصف کے موقف پر بیان بازی کے بجائے اس کے سیاق وسباق پر غور وفکر کرنیکی ضرورت ہے یہی وقت ہے۔نہ صرف سیاسی رہنما بلکہ تمام تر آئینی اور اور قانونی اداروں کے بڑے بڑے عہدیدار سر جوڑ کر بیٹھ جائیں اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کے نتیجے میں ملک و قوم کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لئے اقدامات اٹھائیں۔