بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سیاسی تناؤ اور پٹرولیم مصنوعات

سیاسی تناؤ اور پٹرولیم مصنوعات

پانامہ پیپرز کی رپورٹ سے شروع ہونے والے سیاسی تناؤ کا گراف اَپ اور ڈاؤن ہوتا رہتا ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کو بھی کورٹ جانے سے روک دیاگیا جس پر وزیرداخلہ اور دیگر لیگی رہنماؤں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ جس نے بھی یہ کام کیا ہے اس کے خلاف انضباطی کاروائی ہوگی ان کا کہنا ہے کہ میں کٹھ پتلی وزیر داخلہ نہیں بن سکتا۔ معاملہ حل نہ ہوا تو استعفیٰ دے دوں گا اُن کا کہنا ہے کہ نوازشریف کا حق ہے کہ ان کے ساتھ وکلاء اور ساتھی عدالت جاسکیں۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق واقعے کی انکوائری کیلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کا عندیہ ملتے ہی سیاسی گرما گرمی میں اضافہ ہوا اور رابطوں کا سلسلہ چل پڑا سیاسی رابطوں اور گرما گرمی کے ماحول میں عوام پر ایک اور پٹرول بم گر گیا ہے حکومت کی جانب سے ماہ اکتوبر کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی نئی اضافی قیمتوں کا اعلان کر دیاگیا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل 2 جبکہ مٹی کا تیل 4 روپے لٹر مہنگا کرنے کا اعلامیہ جاری ہونے پر عملدرآمد بھی شروع کر دیاگیا ہے۔

نئے نرخنامے کے مطابق پٹرول73.50 جبکہ ڈیزل79.40 روپے لٹر ہوچکا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخ ایک ایسے وقت میں بڑھائے گئے ہیں جبکہ لوگ دیگر اشیاء کے ساتھ ٹماٹر، پیاز اور دوسری سبزیوں کے نرخوں میں اضافے کے باعث سخت مشکلات کا سامنا کرر ہے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ فارم ٹو مارکیٹ فارورڈنگ چارجز کی شرح بھی بڑھائے گا جس سے مہنگائی کے ریلے میں شدت کا امکان ہے۔ بجلی، گیس کے نرخوں میں اضافے سے مشکلات کا سامنا کرنے والے شہری اب پٹرولیم مصنوعات کے ہاتھوں نئی پریشانی کا شکار ہوگئے ہیں۔وطن عزیز کی معیشت کو پہلے بھی بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے۔ کھربوں روپے کے بیرونی قرضے اکانومی پر بہت بڑا بوجھ ہیں۔ تجارتی خسارہ چیلنج کی حیثیت اختیار کرچکا ہے جس کا اقرار بینک دولت پاکستان بھی کر رہا ہے۔ سیاسی گرما گرمی کے ساتھ ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی قیادت مرکز اور صوبوں کی سطح پر معیشت کے استحکام صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے مزید موثر اقدامات کیساتھ مارکیٹ کنٹرول یقینی بنائے بصورت دیگر گرانی کے ہاتھوں عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا اور لوگوں میں مایوسی بڑھے گی۔

بریسٹ کینسر میں اضافہ

غیر سرکاری تنظیم کا دعویٰ ہے کہ وطن عزیز میں چھاتی کے سرطان کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہور ہاہے۔ بریسٹ کینسر سے متعلق یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس کی تشخیص اگر ابتداء ہی میں ہوجائے تو بچاؤ کے امکانات90 فیصد سے بھی زیادہ ہیں دوسری جانب اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ پاکستان میں محض آگاہی نہ ہونے کے باعث بریسٹ کینسر کی شکار بیشتر خواتین بہت ساقیمتی وقت ضائع کرنے کے بعد ڈاکٹر سے رجوع کرتی ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں اور دیہات کی سطح پر علاج گاہوں میں کم از کم تشخیص کی سہولت ضرور فراہم کی جائے اور اس مقصد کیلئے کام کرنیوالے عملے کو خصوصی اضافی الاؤنس دیاجائے۔ اگر بیماری کی صرف بروقت تشخیص بھی ہوجائے اور مریض متعلقہ علاج گاہ پہنچ جائے تو یہ بھی کافی ہوگا۔