بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ڈو مور کا پیغام دینے والوں کو نو مور کا پیغام دیتا ہوں ، احسن اقبال

ڈو مور کا پیغام دینے والوں کو نو مور کا پیغام دیتا ہوں ، احسن اقبال

اسلام آباد۔وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ مسلم لیگ نون نے پرویز مشرف کے دور 2002 کے کالے قانون کو پارٹی آئین سے نکال دیا ہے اور جس قانون کو ذوالفقار علی بھٹو نے منظور کیا پیپلزپارٹی نے اس کی مخالفت کی ۔ 20 کروڑ عوام کے فیصلے کو اب حق ملنا چاہئے اور ڈو مور کا پیغام دینے والوں کو نو مور کا پیغام دیتا ہوں ۔ ان خیالات کا اظہار وزیر داخلہ احسن اقبال نے کنونشن سینٹر میں تقریب کے دوران کیا ۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی جنرل کونسل کے اجلاس میں پارٹی صدر نواز شریف کو منتخب کیا ہے کیونکہ آمر نے سیاستدانوں کے گلے میں پھندا ڈالنے کے لئے کالا قانون بنایا تھا ۔ 1975 میں ذوالفقار علی بھٹو نے اس کالے قانون کو نکال دیا اور جس قانون کی ذوالفقار بھٹو نے منظوری دی ہم نے گزشتہ روز اسمبلی میں اسی قانون کو دوبارہ منظور کیا لیکن پرویز مشرف نے نواز شریف اور بے نظیر کی قیادت کو روکنے کے لئے 2002 میں یہ کالا قانون دوبارہ متعارف کرایا لیکن پیپلزپارٹی نے ذوالفقار علی بھٹو کے قانون کی مخالفت کی ۔

آخر پیپلزپارٹی نے ایسا کیوں کیا؟ احسن اقبال نے کہا کہ گزشتہ روز اسمبلی نے ترمیم کو منظور کر کے کالا قانون ختم کیا ہے حالانکہ نیب کا کالا قانون بھی سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنانے کے لئے مشرف نے لاگو کیا اور مشرف کی ہاں میں ہاں نہ ملانے والوں کو نیب کی تلوار سے زخمی کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا نواز شریف سے لگاؤ شخصیت کے بجائے نظریات کے باعث ہے اور اب ہم جنرل کونسل کے ذریعے ڈو مور کا مطالبہ کرنے والوں کو نو مور کا پیغام دیتے ہیں کیونکہ ملک میں اگر جمہوریت مضبوط نہیں ہو گی تو پھر ملکی دفاع بھی مضبوط نہیں ہو گا۔

ہمیں ملک کی مضبوط معیشت کے لئے جمہوریت کو مضبوط کرنا ہو گا ۔ پاکستان کو ایشیا ٹائیگر بنانے کے لئے نواز شریف کا نظریہ منفرد ہے اور اس وقت نون لیگ عوام کی نظر میں ترقی اور خوشحالی کا نظریہ ہے اور نواز شریف عوام کی نظر میں ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے کیونکہ گزشتہ تیس سال میں اس نواز شریف نے ہی ترقیاتی منصوبے شروع کئے ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ کسی چور دروازے کا قانون سیاسی کارکنوں اور جماعتوں کو اپنی قیادت سے الگ نہیں کر سکتا۔

اب پاکستان کے 20 کروڑ عوام کے فیصلے کو اس کا حق ملنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے اس فیصلے کو چیلنج کرنے والوں کو پیغام دیتا ہوں کہ سپریم کورٹ پاکستان کے آئین اور قانون کی محافظ ہے اپنی خواہشات کے لئے سپریم کورٹ کو سیاسی جماعت میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ پاکستان کا مقدر آئین کی حکمرانی اور ایشین ٹائیگر بننا ہے ۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور کابینہ ارکان نواز شریف کے وعدوں کی تکمیل کرتے ہوئے پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنائے گی ۔