بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / بھارت کے سرحدی علاقوں میں خوف کی فضاء

بھارت کے سرحدی علاقوں میں خوف کی فضاء


نئی دہلی۔بھارتی سیاستدانوں، میڈیا اور انتہا پسند ہندووں کا جنگی جنون تو آخری حد تک نظر آ رہا ہے مگر ابھی تک بھارتی عوام کی طرف سے اپنی فوج کی حمایت کا کوئی ایک مظاہرہ بھی نظرنہیں آیا ، بلکہ بھارت کے سرحدی علاقوں میں اس قدر خوف کی فضا ہے کہ واہگہ،قصور ، چک امرواورسیالکوٹ کے بارڈر ایریاز میں ہندوستانی دیہاتیوں نے جنگ کے خوف سے گھروں کو خالی کرنا شروع کر دیا ۔

بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ میں بتایاگیاکہ بھارت کے پاکستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں کی 65 فیصد آ بادی اپنے گھربارچھوڑکرنقل مکانی کرچکی ہے ۔علاوہ ازیں بھارتی شہری اس درجہ خوفزدہ ہیں کہ واہگہ بارڈرپرپرچم کشائی کی تقریب میں بھی نہ ہونے کے برابرآ رہے ہیں،چنانچہ مجبورا انہیں اپنا پویلین بھرنے کیلئے سول کپڑوں میں ملبوس اپنے فوجیوں کو بٹھانا پڑ رہا ہے ۔

ادھرامرتسر، گورداس پور اور رابڑی کے علاقوں میں سکھوں کی بڑی تعداد نے بھی بھارتی حکومت کیخلاف تحریک تیز کر کے ایک نیا مسئلہ کھڑا کر دیا ۔ دریں اثنا جنگ کے خوف سے بھارتی فوجیوں نے چھٹیوں کیلئے درخواستیں دینا شروع کر دیں جبکہ اگلے مورچوں پر تعینات 9 ہزار سے زائد بھارتی فوجیوں کی طرف سے بیمار ہونے کی درخواستیں آنے پر نئی دہلی حکومت کو ایک نئی پریشانی لاحق ہو گئی ۔نیز بھارت کے اندر ہی یہ کہا جا رہا ہے کہ جنگ نہیں ہونی چاہئے ۔

ادھرپاکستان کی طرف سے اسکے برعکس اپوزیشن سمیت تمام مذہبی جماعتوں نے کھل کر جنگ کی صورت میں متحد ہو کر لڑنے کا اعلان کر دیا جبکہ پاکستان کی طرف سرحدی علاقوں میں نہ صرف جنگی ترانے گونج رہے ہیں بلکہ پاکستان کے اندر بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی کیا جا رہا ہے اور پرچم کشائی تقریب میں بھی شہریوں کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے ۔