بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / رنگساز سے ہیرونچی بننے والے شخص کی داستان

رنگساز سے ہیرونچی بننے والے شخص کی داستان

پشاور۔محبت میں ناکامی پر 30 سالہ رنگساز کو ہیرونچی بنادیا چارسدہ کے علاقہ نستہ کا رہائشی اپنی محبوبہ کی یاد میں گزشتہ 14 سال سے ہیروئن پی رہا ہے عشق میں ناکام جوانسال آج بھی اپنی محبوبہ کی رہ تک رہا ہے ’’آج ‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے چارسدہ نستہ کا رہائشی 30 سالہ کامران ولد ممتاز خان نے بتایاکہ اسے اپنی خالہ زاد سے محبت تھا اور اسے بھی یہ بہت اچھا لگتا تھا ایک ہی محلے میں رہائش ہونے پر دونوں روزانہ ایک دوسرے کے ساتھ ملتے تھے دونوں نے ساتھ جینے اور مرنے کی قسمیں بھی کھائیں پھر ایک دن اپنی والدہ کو محبت کی داستان سنانے ہوئے خالہ زاد سے شادی کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔

شروع میں والدہ انکاری تھی لیکن بعد میں راضی ہوگئی اور پھر خالہ سے اس کی بیٹی کا ہاتھ مانگا رنگساز تھا خالہ نے بیٹی دینے پر رضا مندی ظاہر کردی جس پر اس نے شادی کیلئے پیسے جمع کرنے شروع کردےئے اور تقریباً 5 لاکھ روپے بھی جمع ہوگئے پھر ایک دن اچانک والدہ کا انتقا ل ہوگیا اور پھر والد نے دوسری شادی کرلی اتنے میں خالہ نے بھی بیٹی دینے سے انکار کردیا کافی جرگے کئے لیکن وہ راضی نہ ہوئی اور بہانے سے والد نے اس سے 5 لاکھ روپے بھی ہتھیا لئے اب والد نے تیسری شادی بھی کی ہے لیکن والدہ کے انتقال کے بعد وہ در بدر کی ٹھوکریں کھانے پرمجبور ہوگیا۔

ساتھ جینے اور مرنے کی قسمیں کھانے والی خالہ زاد کی کئی اور شادی ہوگئی جس کے غم میں 14 سالہ سے وہ ہیروئن پی رہا ہے آج بھی وہ اپنی محبوبہ کی رہ تک رہا ہے کیونکہ اس نے سچی محبت کی تھی اسی کی خاطر اپنی جوانی برباد کردی ہے آج بھی اس کی تصویر سامنے رکھ کر نشہ کرتا ہوں تاکہ ایک نہ دن وہ آواز دے ہی دے کہ میں آگئی ہوں اب نشہ کرنا چھوڑ دوکاش کہ میری والدہ کا انتقال نہ ہوتا میں خود کو ہر قسم کی سزا دینے کیلئے تیار ہوں ۔