بریکنگ نیوز
Home / کالم / احتساب بمقابلہ احتساب

احتساب بمقابلہ احتساب

یہ مقدمہ ریاست اور نوازشریف کے درمیان ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ وفاقی کابینہ کے اراکین ’نوازشریف‘ کی حمایت میں عدالتوں کے روبرو بھی پیش ہو رہے ہیں اور نوازشریف کا ذرائع ابلاغ میں دفاع کرتے ہوئے اُن عدالتی فیصلوں پر کھلم کھلا تنقید بھی کر رہے ۔‘ تو سوال یہ ہے کہ آخر سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے خلاف مقدمے کا دوسرا فریق کون ہے؟ نوازشریف اپنے خلاف دائر لندن فلیٹس‘ العزیزیہ سٹیل ملز اور آف شور کمپنیوں سے متعلق تین ریفرنسوں میں اب تک ’دو مرتبہ‘ احتساب عدالت اسلام آباد کے روبرو پیش ہو چکے ہیں تاہم ان پر فرد جرم اِس لئے عائد نہیں ہوسکی ہے کیونکہ اُن کے ساتھ ’شریک جرم‘ اہل خانہ عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے۔ فی الوقت احتساب عدالت نے نوازشریف مقدمے کی مزید سماعت نو اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔ فاضل عدالت نے میاں نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز‘ صاحبزادوں حسن نواز‘ حسین نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کی عدم پیشی پر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے ہیں جو ایک رسمی بات ہے اور عدالت جانتی ہے کہ اِس طرح کی کاروائیوں سے سوائے وقت ضائع کرنے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ وفاقی وزیر داخلہ کو ’نوازشریف‘ کی پیشی کے موقع پر احتساب عدالت میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

جس پر برہم ہو کر اُنہوں نے شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا اور رینجرز کی جانب سے احتساب عدالت کے حفاظتی انتظامات سنبھالنے اور میاں نوازشریف اور ان کے وکلاء کے سوا کسی کو بھی کمرہ عدالت میں جانے کی اجازت نہ دینے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے مقامی رینجرز حکام کو وضاحت کیلئے طلب کرلیا کیونکہ رینجرزنے وفاقی وزارت داخلہ کے ماتحت ہی اپنے فرائض سرانجام دینا ہوتے ہیں۔ لیکن کیا وہ نہیں جانتے کہ رینجرز کی تعیناتی اور غیرمتعلقہ افراد بشمول وزرا کے داخلے پر عائد پابندی سے متعلق اخبارات میں خبریں شائع ہو چکی تھیں!؟ احتساب عدالت کے روبرو شریف فیملی کے ارکان کیخلاف زیرسماعت ریفرنسز یقیناًہائی پروفائل ہیں اور ان کی سماعت کے دوران مسلم لیگ کے عہدیداروں اور کارکنوں کا عدالت میں آنا بھی فطری امر ہے جس سے یقیناًسکیورٹی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جیسا کہ گزشتہ تاریخ سماعت پر رش کے باعث بعض وکلاء کو دیواریں پھلانگ کر کمرہ عدالت میں جانا پڑا تھا۔ اس حوالے سے سکیورٹی انتظامات اور کاروائی کے قواعد و ضوابط مرتب کرنا متعلقہ احتساب عدالت کی ذمہ داری ہے۔

سکیورٹی کے لئے عدالت ہی کسی سکیورٹی ایجنسی کی خدمات حاصل کرنے کی مجاز ہوتی ہے جبکہ کمرہ عدالت میں محدود نشستوں کے باعث عدالت ہی کی جانب سے میڈیا اور فریقین کے وکلاء اور دوسرے متعلقین کو خصوصی پاس جاری کئے جاتے ہیں ۔ اگر کسی کیس کی بند کمرے میں سماعت مقصود ہو تو اس کیلئے بھی متعلقہ عدالت کی جانب سے ہی احکام جاری کئے جاتے ہیں ۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف نواب احمد خان کے قتل کے مقدمہ کی سماعت لاہور ہائیکورٹ میں ہوئی جو تقریباً تین ماہ تک روزانہ کی بنیاد پر جاری رہیں مگر کبھی ایسا نہیں ہوا تھا ‘ہائی کورٹ کی جانب سے میڈیا اور وکلاء کو کمرہ عدالت میں آنے کے لئے خصوصی پاس جاری کئے گئے جنہیں کمرہ عدالت کے باہر سکیورٹی حکام کی جانب سے روکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اسی طرح سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو‘ سابق صدر آصف علی زرداری اور متعدد سابق وفاقی وزراء کے خلاف قومی احتساب بیورو کے دائر کردہ ریفرنسوں کی سماعت بھی لاہور ہائی کورٹ میں قائم احتساب عدالتوں میں ہوتی رہی۔

بے نظیر بھٹو کی پہلی پیشی پر پیپلزپارٹی کے ہزاروں کارکنوں نے لاہور ہائی کورٹ پر ہلہ بول دیا تھا اور متعلقہ عدالت کے دروازے بھی ٹوٹ گئے جبکہ احتساب عدالت کے سربراہ جسٹس راشد عزیز خان کو بمشکل عقبی دروازے سے باہر نکالا گیا مگر سخت سکیورٹی کے انتظامات کے ذریعے کسی کو اندر آنے سے روکنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ کھلی عدالت کے تصور کے تحت میڈیا کو آج تک کسی کیس کی کوریج سے جبراً روکنے کی کوشش نہیں ہوئی۔ ہمارے ملک میں عدالتی کاروائی کی براہ راست کوریج کی روایت موجود نہیں تاہم معروضی حالات میں خصوصی عدالتی اختیار کے تحت موجودہ ریفرنسوں میں عدالتی کاروائی کی براہ راست کوریج کرائی جا سکتی ہے جیسا کہ پارلیمنٹ کی کاروائی کی بعض مواقع پر براہ راست کوریج ہوتی رہتی ہے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ان ریفرنسوں میں میرٹ اور انصاف کی شفافیت فاضل عدالت عظمیٰ کا مطلوب ہے جس کیلئے نگران جج سمیت خصوصی اقدامات اٹھائے گئے ہیں‘ ضروری ہے کہ احتساب عدالت اسلام آباد میں متعلقہ ریفرنسوں کی سماعت کے دوران بالخصوص عدلیہ اور میڈیا کی آزادی پر کوئی حرف نہ آنے دیا جائے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر عمر فاروق۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)