بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / گردن مخلوق اور بازوئے قاتل

گردن مخلوق اور بازوئے قاتل

یہ صرف انسانوں کو ہلاک کرنیکا قصہ نہیں ہے یہ دیہاتوں کو نیست و نابود کرنے اور ہزاروں انسانوں کو لقمہء اجل بنانے کی خونچکاں داستان ہے یہ جلتے جسموں والے چیختے پکارتے اور بھاگتے لوگوں کو گولیوں سے بھون دینے کے دلخراش واقعات ہیںیہ ہزاروں خواتین سے درندہ صفت انسانوں کے بہیمانہ سلوک کے ہولناک حقائق ہیں وہ لوگ جو زندگی بھر قریہ قریہ گھوم کر نسل کشی کا شکار ہونے والوں کی مدد کرتے رہے ہیں انکا کہنا ہے کہ ایسی دہشت اور درندگی انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ بنگلہ دیش اور برما کی سرحدوں سے خبریں بھیجنے والی امریکی صحافی Hannah Beechنے لکھا ہے کہ انہوں نے کئی ممالک میں مہاجرین کی بے بسی اور کسمپرسی کے واقعات کی رپورٹنگ کی ہے لیکن ایسا ظلم و ستم انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر زیدالحسین نے کہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم ایک نسلی گروہ کو کچلنے اور ملیامیٹ کرنے کی بد ترین مثال ہے بعض مبصرین اسے Ethnic Cleansing یعنی نسلی صفائی کی بجائے Genocide یا نسل کشی کہہ رہے ہیں اسکا مفہوم ایک نسلی یا ثقافتی گروہ کو مکمل طور پر ختم کر دینا ہے یہ بربریت وہ لوگ کر رہے ہیں جنہیں بدھ مت کے پیروکار کہا جاتا ہے اس مذہبی فلسفے کے بانی گوتم بدھ نے پانچویں صدی میں اپنے پیروکاروں کو نفس کشی کرنے اور مادی خواہشات ترک کرنے کی تعلیم دی تھی اب پوچھا جا رہا ہے کہ یہ بدھ بھکشواتنے خونخوار کیسے ہو گئے ہیں اور اگر ان وحشیوں کے سر پر خون سوار ہو گیا ہے تو کیا دنیا میں کوئی ایسی طاقت نہیں جو انکا ہاتھ روک سکے سیکورٹی کونسل برما کی حکومت پراقتصادی پابندیاں کیوں نہیں لگا رہی اسکے جواب میں کہا گیا ہے کہ برما (میانمار) کی حکومت کو چین اور روس نے یقین دلایا ہے کہ وہ اسکے خلاف پیش ہونے والی ہر قرارداد کو ویٹو کر دیں گے۔

برما کے جنوب میں واقع ریاست رخائن میں ہونے والی نسل کشی کوئی مذہبی گروہ نہیں کر رہا بلکہ اس ملک کی فوج پوری منصوبہ بندی اور اپنی طاقت کے بھرپور استعمال سے یہ خون خرابہ کر رہی ہے میانمار کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق انکے ملک میں چین کے سفیر ہونگ لیانگ نے روہنگیا مسلمانوں پر برما کی فوج کے حملوں کو اس ملک کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے سیکورٹی فورسز پر کئے جانے والے حملوں کی سخت مخالفت کرتے ہیں امریکی اخبارات کے مطابق چین کی طرف سے برما کی حمایت کی اصل وجہ رخائن ریاست کے شمالی علاقے میں تیل کے وسیع ذخائر کو استعمال کرنے کے حقوق ہیں جو چین نے حال ہی میں حاصل کئے ہیں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی رخائن کے جنوبی حصے میں ہو رہی ہے اور چین کو خطرہ ہے کہ یہ فساد پھیل کر شمال تک نہ آ پہنچے۔برما میں یہ قتل و غارت پچیس اگست کو اس وقت شروع ہوئی جب روہنگیا عسکریت پسندوں نے رخائن میں ایک پولیس سٹیشن اور آرمی کیمپ پر حملہ کر کے سیکورٹی فورسز کے پندرہ افراد ہلاک کر دئے برما کی حکومت نے کہا ہے کہ اس حملے میں 370 جنگجو ہلاک کر دئے گئے اس حملے کے بعد برما کی فوج نے آگ اور خون کا جو کھیل کھیلا وہ اسوقت عالمی میڈیا کی سکرین پر آیا جب زخموں سے چور روہنگیا لوگ سرحد عبور کر کے بنگلہ دیش میں داخل ہونا شروع ہوئے گزشتہ ایک ماہ میں پانچ لاکھ سے زیادہ روہنگیا بنگلہ دیش کے گاؤں بالو خالی میں داخل ہو چکے ہیں۔

برما میں انکی کل آبادی دس لاکھ سے کچھ زیادہ ہے دونوں ملکوں کا یہ سرحدی علاقہ ایک بہت بڑے جنگل میں واقع ہے آجکل روہنگیا اس جنگل میں درخت کاٹ کر اپنے لئے کیمپ بنا رہے ہیں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس علاقے کے لوگوں اور بنگلہ دیش کی حکومت کی تعریف کرتے ہوے کہا ہے کہ انہوں نے فراخدلی کیساتھ لٹے پٹے لوگوں کو پناہ دی ہے روہنگیا اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ نقل مکانی کر نے پر مجبور ہوئے تھے بنگلہ دیش نے کبھی بھی انہیں مستقل طور پر رہنے کی اجازت نہیں د ی جن لوگوں کو اپنی زمین پناہ نہ دے انہیں کوئی بھی گلے نہیں لگاتا شائد ایسے ہی بے خانماں لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے
جد ا شجر سے ہوئے کیا کہ اب سر صحرا
بھٹک رہے ہیں گرفت ہوا میں آئے ہوئے
روہنگیا برما کی سرزمین پر بارہویں صدی سے آباد ہیں ہیومن رائٹس واچ کی دستاویزات کے مطابق 1948 میں برطانیہ کی حکمرانی کے خاتمے کے بعد برما کی حکومت نے کہا کہ یہ لوگ بنگال سے نقل مکانی کر کے آئے تھے اسلئے انہیں شہریت نہیں دی جا سکتی حکومت برطانیہ نے آج تک اس تنازعے کو حل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی بعض ماہرین کے مطابق روہنگیا مسلمان گزشتہ ستر برسوں سے فلسطینیوں سے بھی زیادہ بد ترحالات میں رہ رہے ہیں انہیں انکی اپنی سرزمین پر اجنبی بنا دیا گیا ہے میانمارنے 1982میں ایک قانون پاس کر کے روہنگیا کی شہریت کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دیاتھا اب برطانیہ اور امریکہ سمیت کسی بھی ملک کے پاس اتنی فرصت نہیں کہ وہ میانمار حکومت کو مجبور کر سکے کہ وہ اس اقلیت کو اپنی سرزمین پر رہنے کی اجازت دے انہیں انکی اپنی سرزمین پر اپنے گھروں میں رہنے کی اجازت دینا تو دور کی بات ہے انکے قتل عام کو روکنے کی ہمت بھی کسی میں نہیں انڈیا اور اسرائیل جیسی سفاک حکومتوں کو امریکہ کی آشیر باد حاصل ہے اور میانمار کو بھی چین کی سرپرستی میسر آگئی ہے آجکی دنیا میں ظالموں کا ہاتھ روکنے والے اور مظلوموں کی داد رسی کرنے والے عنقا ہو گئے ہیں
اک گردن مخلوق جو ہر حال میں خم ہے
اک بازوئے قاتل ہے کہ خون ریز بہت ہے