بریکنگ نیوز
Home / کالم / بارڈر مینجمنٹ

بارڈر مینجمنٹ

نظر یہ آ رہا ہے کہ فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے فوری انضمام کے بجائے انضمام پانچ سالوں کے اندر کرنے کے فیصلے کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ مسئلہ اب 2018ء کے عام انتخابت کے نتیجے میں کامیاب ہونے والی سیاسی پارٹی کو ورثے میں ملے گا ویسے یہ معاملہ اتنا سہل بھی نہیں ہے کہ جیسے بادی النظر میں دکھائی دیتا ہے خدا لگتی یہ ہے کہ ہمارے قبائلی بھائی جب فاٹا سے ملحقہ بندوبستی علاقے میں کام کرنے والی پولیس ضلع کچہری ‘ ریونیو تحصیلوں میں روزمرہ کے معمولات دیکھے ہیں تو وہ سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ فاٹا کے بندوبستی علاقوں کے ساتھ انضمام کے بعد کہیں ان کا بھی وہی انجام نہ ہو کہ جو بندوبستی علاقے میں بسنے والوں کا مقدر بن چکا ہے کہ جہاں پولیس تھانوں‘ محکمہ مال وغیرہ وغیرہ میں بغیر متعلقہ حکام کی مٹھی گرم کئے کسی کا کوئی جائز کام بھی نہیں ہو سکتا وہ دیکھتے ہیں کہ کس طرح سالوں سال تک بندوبستی علاقوں کی عدالتوں میں فوجداری اور دیوانی مقدمات لٹکتے رہتے ہیں بقول کسی دیوانی مقدمات انسان کو دیوانہ کر دیتے ہیں اور پھر وکلاء حضرات کی موٹی موٹی نہ ختم والی فیس ایک علیحدہ بوجھ ہر انسان کی یہ فطرت ہے کہ اگر وہ اپنا نظام زندگی بدلنا چاہے تو اس نظام کی طرف دیکھتا ہے اس سسٹم کو اپنانا چاہتا ہے جو اس کے ہاں رائج نظام سے بہتر ہو فاٹا کے اندر جو قبائلی رہائش پذیر ہیں وہ اپنے فوجداری اور دیوانی مقدمات آپس میں جرگوں کے ذریعے حل کراتے ہیں۔

ان کے ہاں فیصلے جلد بھی ہو جاتے ہیں اور جرگوں پر ان کا اتنا خرچہ نہیں اٹھتا کہ جو بندوبستی علاقے میں انصاف کے حصول کی عدالتی اور پولیس کاروائی پر خرچ ہوتا ہے یہ تو خیر مسئلے کا ایک پہلو ہے دوسرا اہم پہلو ایڈمنسٹریشن سے تعلق رکھتا ہے اور وہ غور طلب ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ فاٹا کا جغرافیائی محل وقوع دنیا میں اپنی نوعیت کا منفرد محل وقوع ہے فاٹا میں نائن الیون سے پہلے تک تو اجتماعی مشترکہ علاقائی جغرافیائی قبائلی ذمہ داری کے اصول کے نیچے فاٹا کے روزمرہ کے نظام کو پولٹیکل ایجنٹ ایف سی آر کے سائے تلے چلا رہے تھے جو وہاں ملٹری آپریشن سے کچھ حد تک متاثر ہوا اب اگر فاٹا کا آئینی طور پر بندوبستی علاقے کے ساتھ انضمام کر دیا جاتا ہے تو کیا پولیس امن خلا کو پر کر سکے گی کہ جومندرجہ بالا اجتماعی ذمہ داری نظام کے خاتمے کے بعد وہاں پیدا ہو گا؟ اور اگر کر سکے گی تو حکومت نے کیا اس نئے نظام کے خدوخال وضع کئے ہیں کوئی نقشہ بنایا ہے اور کیا ان قبائلیوں سے پوچھا گیا ہے کہ چوبیس گھنٹے فاٹا کے اندر رہتے ہیں جن کا اوڑھنا بچھونا اجتماعی ذمہ داری کے نظام کے ساتھ ہے ہمارے نزدیک فاٹا کے اندر بسنے والے قبائلیوں کی رائے اس معاملے میں زیادہ مقدم ہو گی ۔

بہ نسبت ان قبائلیوں کے کہ جن کی جم پل بندوبستی علاقوں میں ہوئی اور جن میں سے کئی لوگوں نے تو فاٹا کے اندر اپنے گاؤں کا منہ بھی نہیں دیکھا کہ جہاں ان کے آباؤاجداد کی پیدائش ہوئی تھی اسلئے اگر بعض بنیادی سوالات کے جوابات حاصل کرنے کیلئے فاٹا میں ریفرنڈم کر دیا جاتا تو بہتر تھا تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا ۔رہا مسئلہ کراس بارڈرٹیرارزم کا تو جتنا زور وزیر خارجہ کو امریکہ میں اس بات پر لگانا چاہئے تھا کہ عالمی برادری پاکستان کی مالی امداد کرے تاکہ باجوڑ سے لیکر جنوبی وزیرستان تک بارڈر پر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار اور جگہ جگہ قلعے اور فوجی چوکیاں قائم ہو جائیں اتنا زور انہوں نے لگایا ہی نہیں کیونکہ اس روزانہ کی بک بک کا یہی واحد حل ہے ورنہ اس کھلے Porousبارڈر سے ہمارے دشمن ہر وقت پاکستان کے خلاف شیطانی عمل جاری رکھیں گے‘اسلئے بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے اقدامات جتنے جلد اور تیزی کیساتھ اٹھائے جائیں اتنا ہی اس میں دونوں ممالک کی بہتری ہے،کیونکہ افغانستان اور پاکستان دونوں کا امن ایک دوسرے سے وابستہ ہے،اسی طرح خطے میں اقتصادی ترقی بھی تیز ہوسکتی ہے۔