بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / انتہائی اقدام سے قبل پاکستان سے بات کرینگے،امریکہ

انتہائی اقدام سے قبل پاکستان سے بات کرینگے،امریکہ

واشنگٹن۔امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سے دہشت گردانہ گروپوں کے خاتمے کیلئے بات کرینگے اگر اس میں پیشرفت نہ ہوئی تو ٹرمپ انتظامیہ انتہائی اقدام اٹھائے گی ۔ہاؤس کی آرمڈ سروس کمیٹی کے اجلاس میں وزیر دفاع نے کہا کہ ضروری ہے کہ ہم ایک بار پاکستان کے ساتھ مل کر حکمت عملی پر کام کرنے کی کوشش کریں اور اگر اس کے باوجود بھی ہم کامیاب نہیں ہوئے تو صدر ٹرمپ ہر ضروری اقدام اْٹھانے کے لیے تیار ہیں۔انھوں نے بتایا کہ پاکستان حکام سے بات چیت کے لیے وہ جلد پاکستان کا دورہ کرینگے ۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ افغانستان میں شدت پسند گروہوں کی مبینہ پاکستانی معاونت کے ردعمل کے طور پر پاکستان میں ڈرون حملوں کا دائرہ کار وسیع کر سکتا اور پاکستان کے غیر نیٹو اتحادی کا درجہ کم کر سکتا ہے۔ سینیٹ کی آرمڈ سروس کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کا کہنا تھا کہ اس بارے میں مجھے کوئی شک نہیں ہے کہ آئی ایس ائی کے دہشت گرد گروہوں سے رابطے ہیں۔۔واضح رہے کہ امریکہ کے وزیر دفاع جم میٹس کا بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب افغانستان کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کی نئی حکمت عملی سامنے آنے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہیں۔

اس سے قبل بھی امریکہ دھمکی دے چکا ہے کہ ’دہشت گردوں کو پناہ دینا پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوگا‘’حقانی نیٹ ورک نہ ہمارے دوست ہیں اور نہ پراکسی‘امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی افغانستان میں شدت پسند گروہوں کی مبینہ معاونت کے بارے میں کوئی بھی اقدام اْٹھانے سے پہلے سے پاکستان سے ‘ایک بار پھر’ اس مسئلے پر بات کرے گا۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف واشنگٹن کے دورے پر ہیں، جہاں وہ بدھ کو امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن سے ملاقات کریں گے۔یاد رہے کہ امریکہ نے حال میں 3500 اضافی فوج افغانستان بھیجی ہے اور ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں امریکی آپریشن پر سالانہ ساڑھے ارب ڈالر خرچ آتا ہے اور نئی حکمت عملی سے اضافی ایک ارب ڈالر سے زیادہ خرچ آئے۔