بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / وزیر بلدیات کا محکمہ اب وزیر اعلی کے پاس ۔۔۔۔۔ کیسے؟

وزیر بلدیات کا محکمہ اب وزیر اعلی کے پاس ۔۔۔۔۔ کیسے؟

پشاور۔خیبر پختونخوا حکومت نے پی ڈی اے اور بلدیاتی اداروں سے محروم علاقوں میں ترقیاتی فنڈز خرچ کرنے کے متعلق طریقہ کار طے کرنے کے حوالہ سے اہم قانون سازی کے لیے بل صوبائی اسمبلی میں پیش کردیئے ہیں پہلے بل کے مطابق اتھارٹی اب وزیر اعلیٰ کے براہ راست ماتحت ہوجائے گی اتھارٹی پشاورکی ترقی کے لیے جامع منصوبہ تیارکرسکے گی۔

جبک ماسٹر پلان پر عملدرآمدبھی اسی کی ذمہ داری ہوگی صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیربلدیات عنایت اللہ نے پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی بل 2017ء پیش کیابل کے مطابق وزیر اعلیٰ اتھارٹی کے چیئر مین اوروزیر بلدیات وائس چیئر مین ہونگے پشاور سے ایک ایم پی اے ،ضلع ناظم ،سیکرٹر ی پی اینڈ ڈی ،سیکرٹری خزانہ ،سیکرٹر ی بلدیات ،سیکرٹری ماحولیات ،کمشنر پشاور اور ڈی جی پی ڈی اے اتھارٹی کے ممبران ہونگے اتھارٹی اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے علاقوں میں ہر قسم کی غیر قانونی تعمیرات پرپابندی عائد کرسکے گی۔

جبکہ صاف پانی کی فراہمی ،نکاسی آب ماحولیاتی مسائل پرقابو پانے سمیت دیگر اختیاربھی اسے حاصل ہونگے اپنے وسائل اور آمدن میں اضافہ کے لیے بھی اتھارٹی کو اقدامات کے اختیارات حاصل ہونگے اپنی حدودمیں تجاوزات قائم کرنے والوں کو اتھارٹی تین سا ل قید اور بیس لاکھ جرمانہ کی سزا دلوا سکے گی جبکہ غیر قانونی سکیموں پر تین سال قید اور پچاس لاکھ جرمانہ کااختیار ہوگا ۔

ایوان میں سینئر وزیر عنایت اللہ خان کی جانب سے لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل بھی پیش کیاجائیگا جس کی روسے ایسے اضلاع ،تحصیلیں یا ویلیج ونیبرہڈ کونسلیں جہاں بلدیاتی نمائندے اورمنتخب ادارے موجود نہیں ہیں وہاں ترقیاتی فنڈز کا استعمال ڈپٹی کمشنر،اسسٹنٹ کمشنراورڈپٹی ڈائریکٹر لوکل کونسل بورڈکرینگے جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے متعلق ترمیمی بل بھی پیش کردیاگیا۔دریں اثناء صوبائی وزیر قانون امتیاز شاہد قریشی نے پبلک سروس کمیشن خیبرپختونخوا کی سالانہ رپورٹ برائے سال 2015ء بھی ایوان میں پیش کی ۔