بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / فنڈز بندش ٗ پرویز خٹک نے اسلام آباد میں دھرنے کی دھمکی دیدی

فنڈز بندش ٗ پرویز خٹک نے اسلام آباد میں دھرنے کی دھمکی دیدی

پشاور۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے اپنی روایتی ہٹ دھرمی اور بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے فنڈزاچانک روک لئے ہیں جس کی وجہ سے صوبے بھر میں ترقیاتی سکیموں پر کام بھی جمود کا شکار ہوا ہے اور عوامی اہمیت کے بیشتر منصوبے ادھورے رہ گئے ہیں طویل عرصہ سے دہشت گردی اور غربت و پسماندگی سے دو چار صوبے کے ساتھ اس طرح کا طرز عمل وفاق کو زیب نہیں دیتا بلکہ ہمیں اپنے وسائل پوری فراخدلی کے ساتھ اور وقت سے پہلے ملنے چاہئیں اس لئے وفا ق کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر آئندہ ایک دو ہفتوں میں ہمارے فنڈ واگزار نہ کئے تو ہم مجبوراً اسلام آباد میں دھرنا دینے پر مجبور ہونگے۔

جس کے لئے اگر چہ وہ اکیلے ہی کافی ہیں مگر صوبے کی دوسری سیاسی قوتوں سے بھی یکجہتی کی اپیل کریں گے۔وہ ضلع دیر بالا سے 200 رکنی نمائندہ وفد سے خطاب کر رہے تھے جس نے پی ٹی آئی ملاکنڈ ڈویڑن کے صدر اور صوبائی وزیر کھیل و ثقافت محمود خان اور وزیراعلیٰ کے پارلیمانی سیکرٹری برائے ماحولیات و رکن صوبائی اسمبلی حاجی فضل الٰہی کی زیرقیادت اْن سے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ملاقات کی اور دیر بالا کی انتہائی پسماندگی کے پیش نظر مواصلات سمیت مختلف شعبوں میں خصوصی ترقیاتی سکیموں کے اجراء اوراس وسیع و عریض ضلع میں آمدورفت کی مشکلات کے پیش نظرتار پہ تار ، بی بی واڑہ، داروڑہ، جبر اور پالام کی یونین کونسلوں پر مشتمل نئی تحصیل لرجم کے قیام کا مطالبہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے اعتراف کیا کہ ضلع دیر کو شروع دن سے پسماندہ رکھا گیا اور وہاں کے عوام جدید دور میں بھی مواصلات اور آبنوشی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

ہم اپنے تمام وسائل وہاں کے عوام کی خوشحالی پر قربان کرنے کیلئے تیار ہیں تاہم ہمارا بڑا مسئلہ وسائل کی کمی کا ہے کیونکہ ہم اپنے 90 فیصد وسائل کیلئے وفاق کے محتاج بنائے گئے حالانکہ یہ ہمارا ہی اپنا حق ہے جبکہ باقی 10 فیصد وسائل اتنے بڑے صوبے کے لئے کافی نہیں کیونکہ بد قسمتی سے صوبے کے بیشتر علاقے اور عوام پسماندگی کا شکار ہیں دوسری طرف حالت یہ ہے کہ صوبے کے 550 ارب روپے میں 450 ارب روپے حکومتی انتظامات اور تنخواہوں پر خرچ ہوتے ہیں اور باقی 110 ارب روپے کا اے ڈی پی بنتا ہے۔ہم نے ان وسائل میں بھی 30 ارب روپے سے زائد کے فنڈ بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کئے جبکہ باقی 80 ارب روپے سے تعلیم و صحت، مواصلات اور تعمیرات، توانائی، زراعت ، آبپاشی، صنعت و تجارت ، سیاحت و آبنوشی اور کھیل وثقافت سمیت دوسرے تمام محکموں اور اداروں کے ترقیاتی اخراجات پورے کئے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی ترقیاتی فنڈز کی کمی کی وجہ سے صوبے کی 500 ارب روپے کی سینکڑوں بالکل تیار سکیمیں معرض التواء4 میں پڑی ہیں تاہم وزیراعلیٰ نے فنڈز کی دستیابی کی شرط پر نہاگ درہ شاہراہ کی ایک مہینے کے اندر جلد تعمیر کا اعلان کیا۔انہوں نے اہل علاقہ کے مطالبہ پر شیرینگل روڈ کی تعمیر میں گھپلوں کی شکایات پر انکوائری کا حکم بھی جاری کیا۔ وزیراعلیٰ نے انکشاف کیا کہ وہ 8 اکتوبر کو پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کے ہمراہ دورہ بونیر کے فوراً بعد دیر بالا کا دورہ بھی کریں گے جس میں لرجم تحصیل کا اعلان بھی متوقع ہے۔وزیراعلیٰ نے اہلیان دیر پر زور دیا کہ وہ حب الوطنی کے روایتی جذبے کے ساتھ اپنے علاقے اور پورے صوبے کی تعمیر و ترقی کیلئے صوبائی حکومت سے بھر پور تعاون کریں بالخصوص ٹیکس کلچر کو فروغ دیں۔