بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / انسانی صحت اور ہمارا رویہ

انسانی صحت اور ہمارا رویہ

احمد دین اچھے خاصے سلجھے ہوئے اور تعلیم یافتہ مریض تھے۔ ان کو ذیابیطس نے گزشتہ پندر ہ بیس سال تک امتحان میں ڈالا ہوا تھا۔ سرکاری افسر تھے اور اوپر سے دیانتدار ۔ اس لئے ڈاکٹر کے پاس جانے کیلئے بھی چھٹی نہ لی اور یوں ان پندرہ سالوں میں کسی ڈاکٹر سے مستقل علاج جاری نہ رکھ سکے۔ جہاں کسی ڈاکٹر کا بورڈ نظر آیا۔ انہوں نے اسی وقت شوگر کا ٹیسٹ کیا جو کبھی نارمل اور کبھی بہت زیادہ ہوتا تھا۔ زیادہ ہوتا تو دوا بڑھا دیتے اور کم ہوتا تو ڈاکٹر کو شک ہوجاتا کہ شاید شوگر ہے ہی نہیں۔ یاد رہے کہ شوگر یا ذیابیطس کی تشخیص محض خون میں شوگر کی مقدار پر منحصر نہیں ہوتی۔ اسکے لئے سب سے معتبر ٹیسٹ HbA1C ہے جو گزشتہ تین ماہ کا شوگر کنٹرول بتاتا ہے۔ شوگر کے ماہرین کے علاوہ میں نے کم ہی ڈاکٹروں کو یہ ٹیسٹ کرواتے دیکھا ہے۔ خیر ، احمد دین بالآخر میرے قابو میں تب آئے جب ان کے پاؤں کے زخم نے سڑاند شروع کی۔ میں نے معائنے کیلئے ان کو ڈریسنگ روم بھیجا۔نرس نے ان کی پٹی اُتاری تو مجھے بلایا۔ پاؤں کا انگوٹھا سیاہ پڑ چکا تھا، لیکن اسکے ساتھ میری نظر ٹخنے پر پڑی تو دیکھا کہ ایک گھونگھا دھاگے میں پِرویا ہوا تھا۔ دھاگہ بھی میل کچیل سے سیاہ پڑ چکا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو وہ بولے کہ یہ گھر پرخواتین نے کسی ٹوٹکے کے طور پر باندھا تھا۔ میں ہنس پڑا کہ بھلا اس پاؤں کو کون نظر لگائے گا۔ ویسے تو ہم خواتین کو عام زندگی میں کوئی اہمیت نہیں دیتے لیکن جہاں توہم اور بے جا رسوم و رواج کا سلسلہ چل نکلے تو مرد چوں بھی نہیں کرتے۔

مجھے بسا اوقات حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح اچھے خاصے تعلیم یافتہ لوگ ان توہمات میں پڑ جاتے ہیں۔ اچھی خاصی مہنگی گاڑی خریدیں گے لیکن اسکے پیچھے ایک سیاہ کپڑے کی لیر باندھ لیتے ہیں۔ محل نما گھر بنا کر اسکے اوپر مٹی کی پتیلی اُلٹی رکھ دیتے ہیں۔ علاج تو مہنگے ہسپتال میں کریں گے لیکن پرہیز ماں اور بہن سے پوچھ کر کریں گے۔ اکثر مریض جب کسی بیماری سے شفایاب ہوتے ہیں تو ان کو بیمار اعضاء کیلئے لحمیات کی ضرورت پڑتی ہے لیکن لحمیات کے سب سے بڑے ذریعے سے پرہیز کریں گے۔ مثال کے طور پر دہی‘ دودھ اور انڈے یا ذائقہ دار گوشت۔ بے ذائقہ یخنی پلا پلا کر مریض کی رہی سہی بھوک بھی ماردی جاتی ہے۔ مختلف کھانوں اور پھلوں کی طبیعت کے بارے میں کافی لے دے ہوتی رہتی ہے کہ فلاں خشک گرم ہے اور فلاں کی طبیعت تر اور سرد ہے۔ یہ ساری کہانیاں اب ماننے والی نہیں رہیں۔ دہی کھانے سے کھانسی لگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ دہی کے پروٹین معدے اور چھوٹی آنت میں ہضم ہوتے ہیں جو کسی بھی طرح سے پھیپھڑوں کے ساتھ منسلک نہیں ہوتے۔

اسی طرح سے وہ بیماریاں جن کی نہ صرف وجوہات معلوم ہوچکی ہیں بلکہ ان کے علاج بھی اب کسی شک و شبہ کے بغیر دہائیوں سے لاکھوں کروڑوں لوگوں کو شفایا ب کرچکے ہیں، ان کیلئے بھی زبیدہ آپا کے ٹوٹکے ہی استعمال کئے جاتے ہیں۔ بسا اوقات جدید علاج کیساتھ ساتھ حکیم صاحب کے کشتے بھی کھائے جاتے ہیں اور ہومیوپیتھک کی پھکیاں بھی چاٹی جاتی ہیں۔ اور اب یہ تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ ہربل اور ہومیوپیتھک کی کئی ادویات انگریزی یعنی ایلوپیتھک دواؤں کے ساتھ مل کر اُلٹا اثر ڈال سکتی ہیں۔ ایلوپیتھک دوائیاں برسوں کی تحقیق کے بعد ہی انسانوں کیلئے قابل استعمال قرار دی جاتی ہیں۔ بلاشبہ انسان بہت حریص واقع ہوا ہے اور ان تحقیقات میں بھی کئی بار جھوٹ کے اعداد و شمار ڈال کر ڈاکٹروں کو باور کرایا جاتا ہے کہ واقعی یہ نئی دوا زیادہ زود اثر ہے ۔ تاہم یہ سارے فارمولے خفیہ نہیں ہوتے اور ہر دوا کی رجسٹریشن کے بعد بھی اس پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان فارما سیوٹیکل کمپنیوں کو اربوں ڈالرز کے جرمانے ہوئے ہیں۔ سن 2012ء میں ایک کمپنی کو ساڑھے تین ارب ڈالر کا جرمانہ ہوا تھا اور اسکے بعد بھی کئی ایک کمپنیاں اس منفی فہرست کا حصہ بنی ہیں۔ یہ درست ہے کہ زیادہ تر ادویات انہی جڑی بوٹیوں سے حاصل ہوتی ہیں جو حکماء استعمال کرتے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ ایلوپیتھک ادویات میں ہر جزو خالص اور معلوم مقدار میں ہوتاہے۔ جبکہ جڑی بوٹیوں کو سالم استعمال کرتے وقت اسکے ساتھ دوسری اجزاء بھی شامل ہوتی ہیں جن میں سے زیادہ تر نامعلوم ہی ہوتی ہیں۔ اسی طرح سے ان اجزاء کی صحیح مقدار بھی معلوم نہیں ہوتی۔ ہمارے حکماء اب بھی باپ دادا کے نسخے سینے سے لگائے ہوتے ہیں۔ چنانچہ نہ ان پر تحقیق ہوسکتی ہے اور نہ ہی ان کا اثر بڑھایاجاسکتا ہے۔ اسی طرح سے ہومیوپیتھی پر گزشتہ بیس برس سے کافی تحقیق ہوئی ہے اور اب آسٹریلیا میں ہومیوپیتھی پر اٹھارہ سو تحقیقی مقالوں کا نچوڑ نکالا گیا تو معلوم ہوا کہ ان میں سے کوئی دوا کارگر نہیں۔

جس جرمن ڈاکٹر نے دوسوبرس قبل اسکا فلسفہ پیش کیا تھا کہ کسی مضر شے کا تریاق اسی مضر شے کو بہت ہلکی مقدار میں لینے میں ہے ۔ اس ڈاکٹر کے اسکے اپنے بیان کے مطابق کسی بیماری کی تفصیلی وجوہات، سائینسی توجیہہ، تشخیص اور جدید علاج کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ چنانچہ ہومیوپیتھک ذریعہ علاج کو سائنس کے طور پر نہیں بلکہ ایک فلسفے کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، ورنہ سائنس اور جدید تحقیقات کے مطابق اسکا بنیادی اصول ہی ناقابل یقین ہے۔ بدقسمتی سے اب جگہ جگہ ایک دوسرے طریقہ علاج کے کالج بھی قائم ہوگئے ہیں جو کہ ایک مختصر سے تعارف کے بعد آپ کو ڈاکٹربنا دیتے ہیں۔ وکیل صاحب کی پریکٹس نہ چلی تو ایک آسان طریقہ علاج کا کلینک کھول لیا۔ سرکاری افسر ریٹائر ہوئے تو میٹھی گولیاں بانٹنے لگے۔ اب تک ان کو سائنسی دنیا میں اسلئے برداشت کیا جارہا تھا کہ ان کی دواؤں سے کسی نقصان کا اندیشہ نہ تھا لیکن اب نہ صرف آسٹریلین بلکہ برٹش ، امریکی اور یورپین ماہرین صحت عوام کو تنبیہ کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ اس علاج کی وجہ سے کئی امراض کی تشخیص میں دیر ہوجاتی ہے اور بسا اوقات علاج کا بہترین وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ مجھے علم ہے کہ ہمارے کئی کرم فرما میٹھی گولیوں کے خلاف پڑھ یا سن کر بھڑک اُٹھتے ہیں لیکن جہاں اب سائنس مالیکیول اور ایٹم تک پہنچ چکی ہے، فلسفوں سے علاج کا وقت گزر چکا ہے۔ ہاں یہ بھی درست ہے کہ کئی بیماریوں کا علاج تا حال ایلوپیتھک میڈیسن میں بھی دریافت نہیں ہوا۔ تاہم جس قدر تحقیق ان بیماریوں پر ہورہی ہے، ان سے ڈاکٹروں کو حوصلہ ملتا ہے کہ علاج اتنا دور نہیں۔