بریکنگ نیوز
Home / کالم / ہمارے مسائل کا حل

ہمارے مسائل کا حل

شنید ہے کہ ملک کی مذہبی جماعتوں کی قیادت اس حقیقت پرمشوش ہے کہ الیکشن میں ان کی پارٹیوں کو اتنی نشستیں کیوں نہیں ملتیں جو دوسری سیاسی جماعتوں کو ملتی ہیں اور 2018ء کے انتخابات میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیتنے کے لئے کونسی حکمت عملی اپنائی جائے؟ بعض مذہبی رہنماؤں کی دانست میں جب تک تمام مذہبی جماعتیں آپس میں اختلافات بالائے طاق رکھ کر ایک سیاسی پلیٹ فارم سے الیکشن کے اکھاڑے میں نہیں اتریں گی کامیابی کبھی بھی ان کو اپنا منہ نہیں دکھائے گی 2000کے اوائل میں جب کچھ عرصے کے لئے مدہبی جماعتیں ایم ایم اے کی شکل میں اکٹھی ہوئیں تو اس کا پھل انہوں نے کھایا اس کے نتیجے میں انہوں نے خیبر پختونخوا میں اتنی سیٹیں ضرور جیت لیں کہ وہاں وہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئیں ایم ایم اے ہی کی طرح کا اتحاد بنانے کے لئے پس پردہ کوشش ہورہی ہے اور عین ممکن ہے کہ آئندہ چند روز میں مذہبی جماعتوں کے رہنما آپس میں سرجوڑ کر بیٹھیں یہ معلوم کرنے کے لئے کہ کیا اب بھی یہ ممکن ہے کہ ماضی کی طرح وہ یک جان دو قالب ہوجائیں سردست جماعت اسلامی اور جے یو آئی (س) دونوں جماعتیں پاکستان تحریک انصاف سے دل لگا بیٹھی ہیں اگر وہ جے یو آئی (ف) کی تجویز پر ایم ایم اے کی طرح کا کوئی انتخابی اتحاد بناکر آپس میں یکجا ہوتی ہیں تو ان کو پی ٹی آئی سے اپنی راہیں جدا کرنا ہوں گی ویسے سیاست میں تو کوئی حرف آخر نہیں ہوتا یہ تو ممکنات کا کھیل ہے اس میں ساتھی سنگھی بدلائے جاتے ہیں ۔

کم ازکم ہمارے معاشرے میں تو اکثر ہم نے دیکھا کہ جو کل تک سیاسی حریف تھا وہ آج سیاسی حلیف بن گیا صرف جماعت اسلامی کو ہی نہیں بلکہ تمام مذہبی جماعتوں کیلئے یہ لمحہ فکریہ ہے اور وہ اپنے تھنک ٹینک کی ٹیم یا اپنے ریسرچ سکالرز کے ذریعے یہ ریسرچ کرائے کہ آخر کیا بات ہے کہ سٹریٹ پاور تو ان کی کافی نظر آتی ہے پر الیکشن کے دن ان کو ووٹ زیادہ نہیں پڑتے ؟ اس بات کی تہہ میں جاکر وجہ کا کھوج لگانا ضروری ہوگا اس میں کوئی شک نہیں کہ تقریباً ہر مذہبی جماعت میں نہایت ہی پڑھے لکھے جید عالم دین موجود تھے اور اب بھی ہیں جن کی انفرادی طور معاشرے میں بڑی عزت و توقیر بھی ہے ان ریسرچ سکالرز کو کئی امور پر ریسرچ کرنی چاہئے علامہ اقبال کے درج ذیل اردو اور فارسی زبان کے اشعار کی آسان زبان میں عوام کو وضاحت کرنی چاہئے

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولانہیں کرتے
گربزاز طرز جمہوری‘غلام پختہ کار شو
کہ ازمغز دو صدخر فکر انسانے نمی آید
ان سوالات کا جواب بھی تلاش کرنا ضروری ہے کہ کیا اخلاقیات جمہوریت میں فروغ پاسکتی ہیں؟ جن جن ممالک میں جمہوریت ہے وہاں کیا اخلاقیات نام کی کوئی چیز ہے؟ کیا اسلامی سیاست میں ایک غیر مطبوعہ معاہدہ موجود نہیں جس کی موجودگی کی وجہ سے کوئی مطلق العنان عوام کو ان کے اسلامی حقوق سے محروم نہیں رکھ سکتا؟ کیا یہ درست ہے کہ عقیدت علم کی دشمن ہے کیونکہ علم سوال سے ہے اور عقیدت میں کوئی سوال نہیں ہوتا؟ علامہ اقبال کے اس شعر کا مطلب کیا ہے؟ میراث میں آئی ہے انہیں مسند ارشاد
زاغوں کے تصرف میں ہے عقابوں کے نشیمن
جب مہاجن استاد بن جائیں تو پھر کیا علم و حقیقت کا کوئی جواز باقی رہتا ہے؟ اس ملک کے مسائل کا حل نہ تو سرمایہ دارانہ نظام میں ہے اور نہ سوشلزم میں اگر وہ ہے تو صرف اسلامی نظام میں‘ پر خداوند کریم کے نظام کو ٹکڑوں میں اختیار نہ کرو یعنی نماز پڑھ لی‘صدقات غائب‘ روزے رکھ لئے زکوٰۃ چھوڑ دی ایک قانون رکھ لیا دوسرا غائب‘اسلام میں پورے کے پورے داخل ہونا ضروری ہے۔