بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / تعلیم: بیزاری سی بیزاری

تعلیم: بیزاری سی بیزاری

تیس ستمبر کی تحریر بعنوان ’تعلیم: واجبات اور بوجھ!‘ کے حوالے سے خواندگی کے فروغ کے لئے جاری کوششیں اور نتائج کا تذکرہ دراصل مرثیہ تھا کہ ’’محکمۂ اِبتدائی و ثانوی تعلیم کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے بقول خیبرپختونخوا میں سات لاکھ پچاس ہزار بچے سکولوں سے اِستفادہ نہیں کر رہے اور اسکی دو بنیادی وجوہات میں ’غربت‘ اور والدین کی عدم دلچسپی شامل ہے۔‘ لیکن غربت و والدین کی عدم دلچسپی کے علاوہ بھی دیگر ایسے محرکات ہیں‘ جس کے باعث لاکھوں بچے تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے اور یہ قطعی ان بچوں کا قصور نہیں۔ ہر مرتبہ شعبۂ تعلیم سے متعلق فیصلہ سازی کے عمل میں پائے جانے والے نقائص کی نشاندہی کا مقصد تنقید برائے تنقید نہیں ہوتا لیکن عام آدمی کے نکتہ نظر سے فیصلہ سازوں کو آگاہ کرنے کی سعی کی جاتی ہے کہ ۔۔۔ ’’حضور توجہ فرمائیں عوام کی اکثریت صوبائی حکومت اور بالخصوص محکمہ تعلیم کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے ۔تعلیم آج کا ضمنی نہیں بلکہ ’کلیدی‘ موضوع ہے۔ اگر خیبرپختونخوا کی بات کی جائے تو پانچ سے سولہ سال کی عمروں کے پندرہ لاکھ سے زیادہ بچے بچیاں تعلیم حاصل نہیں کر رہے۔ تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کے دعویدار صوبائی حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے کہ خیبرپختونخوا میں 10 لاکھ 14 ہزار 419 بچیاں اور 5لاکھ 4 ہزار 952 بچے آؤٹ آف سکول‘ ہیں! یہ اَعدادوشمار محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے مرتب کردہ ہیں جو سال 2016ء میں کئے گئے ایک سروے سے معلوم ہوئے۔ یہ سروے پچیس اضلاع میں چالیس لاکھ سے زیادہ گھرانوں سے پوچھے گئے سوالات کی بنیاد پر مرتب کیا گیا اور اِس کے نتائج رواں ہفتے جاری ہوئے ہیں۔

اِسی قسم کے جائزے کے مطابق قبائلی علاقوں میں باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کرنے والی طالبات کی تعداد ’پانچ لاکھ‘ سے زیادہ ہے! چونکہ فیصلہ سازوں کے اپنے بچے اندرون و بیرون ملک اعلیٰ تعلیم اداروں سے استفادہ کر رہے ہیں‘ اِس لئے کسی کو پریشانی لاحق نہیں اور نہ ہی تشویش ہے کہ خیبرپختونخوا اُور ملحقہ قبائلی علاقوں میں بیس لاکھ سے زیادہ ’آؤٹ آف سکول‘ بچے بچیوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ ایسے ’’بیس لاکھ‘‘ بچوں سے کس طرح توقع کی جا سکتی ہے کہ عام انتخابات میں وہ اپنا حق رائے دہی کا دانشمندی‘ بصیرت اور ملکی سیاسی تاریخ مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کریں گے! جمہوریت شعوری اور دانستہ طرزفکروعمل کا مجموعہ ہوتی ہے۔ یہ کسی ازخود آسمانی نعمت کے طور پر کہیں بھی نازل نہیں ہوئی اور نہ ہی ہوگی بلکہ جمہوریت کسی ایسے معاشرے کے لئے مفید ہو ہی نہیں سکتی جہاں شرح خواندگی نہ صرف خطرناک حد تک کم ہو بلکہ وہاں لاکھوں کی تعداد میں بچے بچیاں تعلیم سے بھی محروم ہوں اگر یہ تلخ حقیقت معلوم نہ ہوتی تو بات الگ تھی لیکن اگر ایک حکومتی ادارہ ہی نشاندہی کر رہا ہے تواسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے‘ یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں آؤٹ آف سکول بچے بچیوں کی تعداد معلوم کرنے کے لئے صوبائی خزانے سے 22 کروڑ 70 لاکھ روپے جیسی خطیر رقم مالی سال 2015-16ء میں مختص کی گئی لیکن مالی وسائل فراہم نہ کرنے کی وجہ سے یہ کام ملتوی ہوتا رہا۔ رواں سال مکمل ہونیوالی اس کوشش میں 40 ہزار پرائمری اساتذہ کی خدمات سے استفادہ کیا گیا جن میں ساڑھے سات ہزار اعدادوشمار جمع کرنے کے نگران مقرر تھے۔

ہر ایک معلم کو ایک سو گھروں کے اعدادوشمار اکٹھا کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی! اِن تفصیلات کے بیان کرنے کا مقصد اس سنجیدہ کوشش کی اہمیت بیان کرنا ہے‘ جس سے حاصل ہونے والے نتائج صرف اس وجہ سے رد نہیں کئے جاسکتے کہ تحریک انصاف کی قیادت میں موجودہ سیاسی قیادت کو جب خیبرپختونخوا حکومت ملی تو اس وقت تعلیمی اداروں سے استفادہ نہ کرنے والے بچے بچیوں کی کل تعداد 25 لاکھ سے زیادہ تھی جو کم ہو کر پندرہ لاکھ رہ گئی ہے!حسب وعدہ تبدیلی ضروری ہے ہر سال دو مرتبہ داخلہ مہمات کے باوجود بھی اگر سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد غیرمعمولی ہے‘ تو حکمت عملی وضع اور ا س حکمت عملی کا اطلاق کرنیوالے انتظامی نگرانوں کو تبدیل کرنا ہوگا ۔