بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / تجاوزات کا خاتمہ

تجاوزات کا خاتمہ

خیبر پختونخوا میں2015 کے اوائل میں تجاوزات کے خلاف جو بھر پور مہم شروع ہوئی تھی اس نے شہریوں کو تجاوزات سے ہمیشہ کیلئے نجات کی امیددلائی تھی لیکن آج جب ہم اکتوبر 2017 میں ہیں اور اس مہم کوبرپا ہوئے تقریباًپونے تین سال ہورہے ہیں تجاوزات کی بھرمار کا مسئلہ حل کی منزل کے قریب ہونے کے بجائے مخالف سمت میں پیش قدمی کرتا دکھائی دے رہا ہے ،بات آگے بڑھانے سے پہلے یہ ذکر ضروری ہے کہ 2015 کے اوائل میں جب انسداد تجاوزات مہم شروع ہوئی تھی تو صوبائی حکومت کے سیاسی مخالفین نے الزام عائد کیا تھا کہ’’یہ مہم آنے والے بلدیاتی انتخابات (جو مئی 2015ء میں منعقد ہونے تھے اور ہوئے بھی ) کیلئے عوامی حمایت کے حصول کی کوشش ہے اور بلدیاتی انتخابات کے بعد انسداد تجاوزات مہم کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی‘‘لیکن پشاور کے شہریوں نے اس الزام پر کان نہیں دھرا تھا کیونکہ انھیں تجاوزات کے خاتمے کیلئے جو عملی اقدامات اٹھتے نظر آئے تھے وہ ماضی کی کاروائیوں سے بہت مختلف اور نتیجہ خیز تھے اور ان اقدامات نے شہریوں کو مسحور کر کے رکھ دیا تھا‘ وہ مسحورہوتے بھی کیوں نہ مذکورہ انسداد تجاوزات مہم نے تجاوزات مافیا کو ہلا کر جو رکھ دیا تھا‘متعلقہ اداروں نے اس مہم کے حوالے سے بھر پور انداز میں اپنے وجود کا احسا س دلایاتھا‘ سڑکوں اور گلیوں کے دونوں اطراف واقع دکانوں کے تھڑے تھے یا چھجے‘ دکانوں کے سامان کی دکانوں سے باہر گذر گاہوں پرسجاوٹ تھی یا ٹھیلے اور ہتھ ریڑھیاں ان سب عوامل کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا گیاتھا‘ شہر کے متعدد علاقوں میں تجاوزات کے خلاف کامیاب کاروائی کے نتیجے میں تجاوزات مافیاکی حوصلہ شکنی ہوئی تھی اور اسے یہ پیغام ملا تھا کہ یا تو وہ اس مہم میں تعاون کرتے ہوئے رضاکارانہ بنیادوں پر تجاوزات کا خاتمہ کر دے یا قانونی کاروائی کیلئے تیار ہو جائے‘ مہم اس لحاظ سے بھی سابقہ مہمات سے مختلف و منفرد تھی کہ اس کے دوران نہ صرف ایک جامع حکمت عملی کے تحت بلا رو رعایت شہر کے تمام حصوں کو ٹارگٹ کیا گیاتھا بلکہ تاجروں کی جانب سے بھی جو تعاون دیکھنے میں آیا وہ اس سے پہلے انتظامیہ کے شامل حال نہیں رہاتھا‘ یہ تعاون حکومت اور انتظامیہ کے دباؤ کا نتیجہ تھا یا تاجر برادری کے اخلاص کا اس طرز عمل کی بدولت تجاوزات کے خاتمے کیلئے سرکاری کوششوں کو تقویت ملی تھی ‘الغرض یہ کہنا غلط نہ ہو گاکہ مذکورہ انسداد تجاوزات مہم کے دوران شہر کے بہت سے علاقوں میں حقیقی معنوں میں تجاوزات کا خاتمہ ممکن بنایاگیاتھا تاہم یہ مہم جس شد و مد سے شروع کی گئی تھی۔

اتنی یکسوئی کے ساتھ اس کی رفتار کو برقرار نہیں رکھاگیا‘ ستمبر2015ء میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے اس مہم کوچھ ماہ یعنی مارچ 2016ء تک مکمل کرنے کا حکم دیاتھا،باالفاظ دیگر انہوں نے متعلقہ حکام کو صوبائی دارالحکومت سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے چھ ماہ کی ڈیڈ لائن دی تھی،آج جب اس ڈیڈ لائن کو ختم ہوئے بھی ڈیڑھ سال ہونے کو ہے نہ صرف یہ کہ پشاور میں تجاوزات کے مکمل خاتمے کا ہدف حاصل نہیں ہو سکا بلکہ ان مقامات پر جنہیں مذکورہ مہم کے دوران تجاوزات سے پاک کیا گیا تھا پھر سے تجاوزات اپنا وجود پھیلاچکی ہیں‘شہر کے متعدد وہ بازار جو تجاوزات کے خاتمے کے بعد اتنے کھل گئے تھے کہ ان میں سے گاڑیاں بھی با آسانی گزرنے لگی تھیں اب پھر اتنے سکڑ گئے ہیں کہ شہریوں کی آزادانہ آمد ورفت بھی مشکل ہوتی جارہی ہے ،شہر کے جس جس تجارتی مرکز سے انسداد تجاوزات مہم کے دوران تجاوزات کا مکمل صفایا کر دیا گیا تھاوہاں نہ صرف تاجر حضرات پھر سے اپنی حدود سے متجاوز ہو چکے ہیں بلکہ تہہ بازاری بھی زور پکڑتی جارہی ہے،۔

یوں اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پشاور کو تجاوزات سے پاک کرنے کی مہم تکمیل کی جانب اپنا سفر کامیابی سے طے کرنے میں ناکام رہی ہے‘یہ ساری صورتحال شہریوں کیلئے پریشان کن ہے اورشہری اس الزام کو جس کا اس تحریر کی ابتداء میں ذکر کیا گیاہے بتدریج حقیقت ماننے لگے ہیں۔اب چونکہ انسداد تجاوزات مہم کا کریڈٹ عوام نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو دیا تھا لہٰذا مہم کا مطلوبہ نتائج سے ہمکنار نہ ہونا اورتجاوزات کے مسئلے کا پھر سے گھمبیر شکل اختیار کرنا صوبائی حکومت کیلئے ہی ڈس کریڈٹ کا باعث ہوگا،عام انتخابات میں ایک سال سے کم عرصہ رہ گیا ہے اور اگر اس دوران پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اپنی ضلعی حکومت کی وساطت سے اہل پشاور کی توقعات کے مطابق انسداد تجاوزات مہم کی کامیاب و نتیجہ خیز تکمیل یقینی نہ بنا پائی تو یہ امر انتخابات کے حوالے سے پی ٹی آئی کی عوامی حمایت پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔