بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / معاملات سلجھانے کی ضرورت

معاملات سلجھانے کی ضرورت

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ نے بالآخر اپنے مطالبات کے حق میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دے دیا۔ خبررساں ایجنسی کے مطابق رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی کا کہنا ہے کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ فاٹا ریفارمز کمیٹی کی سفارشات کے مطابق قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کیاجائے اور فاٹا کے شہریوں کو بھی ہائیکورٹ وسپریم کورٹ تک رسائی دی جائے۔ وہ یہ بھی گلہ کرتے ہیں کہ ہماری آواز کو پارلیمنٹ کے اندر نہیں سناگیا اور اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو9 اکتوبر کواسلام آباد میں بڑا دھرنا دیں گے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ فاٹا کے عوام سے وعدہ ہے کہ انہیں وہ حیثیت ملے گی جو باقی پاکستانیوں کو حاصل ہے۔ دھرنا دینے والے فاٹا اراکین پارلیمنٹ سے بات چیت میں ان کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں کو ستر سال پیچھے دھکیل دیاگیا ہے۔ دریں اثناء وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے فنڈز اچانک روک دئیے ہیں۔ جس سے صوبے میں ترقیاتی سکیموں پر کام جمود کا شکار ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ صوبے کے فنڈز واگزار نہ کئے گئے تو دھرنا دینے کیلئے اکیلے ہی کافی ہیں تاہم دوسری قوتوں سے بھی اپیل کرینگے۔

قبائلی علاقوں میں اصلاحات کیلئے اقدامات حکومتی سطح پر صورتحال کے احساس و ادراک کی عکاسی کرتے ہیں اس مقصد کیلئے کمیٹی کی تشکیل اور رابطے اچھی رفتار سے ہوئے بعد میں اصلاحات کیلئے دیاجانے والا ٹائم شیڈول طویل آیا۔ دوسری جانب ہمارے سرکاری دفاتر کی سست رفتار دفتری کاروائی بھی ایک طویل وقت لیتی ہے۔ معاملہ فاٹا میں اصلاحات کا ہو یا خیبر پختونخوا کے فنڈز کا اس میں پہلی ضرورت باہمی مشاورت اور تحفظات و خدشات دور کرنے کی ہے اس کے بعد ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے موثر نگرانی کے انتظام کی ہے۔ فاٹا ارکان ہوں یا خیبرپختونخوا حکومت ضرورت سب کے ساتھ بات چیت کی میز پر معاملات سنوارنے اور متعلقہ حکام کو طے پاجانے والے امور پر عملدرآمد سے متعلق باقاعدہ رپورٹ کا پابند بنانے کی ہے۔ سیاسی حکومتوں میں اہم امور بات چیت کی میز پر ہی نمٹانے چاہئیں۔ اہم معاملات کے سلجھاؤ ہی سے حکومتی اقدامات لوگوں کیلئے ثمر آور ثابت ہوسکتے ہیں بصورت دیگر تاخیر کا شکار الجھے ہوئے امور تبدیلی کا کوئی احساس نہیں دے سکتے۔

معاملات سلجھانے کی ضرورت

ذمہ دار محکموں بلدیاتی اداروں اور پشاور کی تعمیر وترقی کے حوالے سے کام کرنے والے دفاتر کیلئے صوبائی دارالحکومت کے پھیلتے جغرافیے میں معیاری خدمات یقینی بنانا موثر منصوبہ بندی سے مشروط ہے۔ پشاور کی سڑکوں پر ٹریفک کا اژدھام،صفائی کی ناقص صورتحال، سیوریج کا بلاک نظام، پینے کا آلودہ پانی اور چیک اینڈ بیلنس سے آزاد مارکیٹ میں گرانی فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ پشاور میں کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کا معاملہ ابھی طے ہونا ہے۔رہائشی مکانات کی قلت نئی رہائشی بستیوں کا تقاضہ کرتی ہے۔ تعلیم اور علاج کے اداروں پر رَش اور یہاں خدمات کے معیار کو یقینی بنانا کسی چیلنج سے کم نہیں۔ صوبائی دارالحکومت کا حلیہ درست کرنے کا عزم اسی صورت پورا ہوسکتاہے جب تمام سٹیک ہولڈرز اداروں کے وسائل اور افرادی قوت کو یکجا کرکے ایک ٹھوس اور مربوط حکمت عملی ترتیب دی جائے۔