بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سوشل میڈیا پر فتوے جاری کرنیوالوں کیخلاف کاروائی کا فیصلہ

سوشل میڈیا پر فتوے جاری کرنیوالوں کیخلاف کاروائی کا فیصلہ

اسلام آباد۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ اسلامی مملکت میں جہاد کا اعلان کرنا ریاست کا حق ہے،کوئی حب اللہ اور حب رسول ؑ کا ٹھیکیدار نہیں ہے جس سے یہ سرٹیفکیٹ لیا جائے،محلے کے کسی مولوی کو مسلم اور غیر مسلم قرار دینے کا حق نہیں،ہمیں ملک میں ان رجحانات کی بیخ کنی کرنا ہوگی جس سے ہماری داخلی سلامتی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہوں، وزیر داخلہ نے واضح کیا ہے کہ عقیدہ ختم نبوت ﷺ کے قانون میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ جو غلط فہمی پیدا ہو گئی تھی تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے سے اس مسئلہ کو حل کر لیا ہے ۔ اب دینی طبقات کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ملک میں مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیں ۔

بلوچستان میں غیر ملکی فنڈز لینے والے عناصر حالات خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ دہشت گردی کے ناسور سے نمٹنے کے لیے ساری قوم پرعزم ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران کیا ۔ سانحہ جھل مگسی کے حوالے سے وزیر داخلہ نے کہا کہ صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کر لی گئی ہے ۔ بزدل دہشت گرد سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ سانحہ میں جاں بحق افراد کے خاندانوں کو معاوضہ ملے گا ۔ سافٹ ٹارگٹ تلاش کرنے والوں کا مقصد خوف و ہراس کی فضا قائم کرنا ہے وہ اپنے مکروہ عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ اس قسم کے واقعات کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری قوم کا عزم مضبوط ہے اور وہ متحد ہے ۔ 4 سالوں کے دوران کارروائیوں کے نتیجہ میں دہشت گردی پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی مالی وسائل لینے والے عناصر بلوچستان کے حالات خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔فاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ جہاد کے فتوے محلے یا مساجد سے جاری نہیں ہوسکتے۔انہوں نے کہا کہ دشمن مسلمانوں کو آپس میں لڑانا چاہتے ہیں، ہم نے آپس میں یکجہتی کا راستہ اختیار نہیں کیا تو ہمیں دشمن کی ضرورت نہیں ہے، مذہبی قیادت آ گے بڑھے اور ان رجحانات کی بیخ کنی کرے۔وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر جس کا دل چاہتا ہے فتوے دیتا ہے، آئین و قانون میں اس کی گنجائش نہیں ہے، اگر ایسی کوئی کارروائی کرے گا تو اس کے خلاف سائبر کرائم کے تحت کارروائی کریں گے۔ وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ انتخابی کاغذات نامزدگی سے مسئلہ کو تمام جماعتوں نے خوش اسلوبی سے حل کر لیا ہے ۔ کوئی عقیدہ ختم نبوت ﷺ کے قانون میں تبدیلی کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ متفقہ طور پر مسئلہ حل کر لیا گیا ہے ۔

اب علماء کرام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کردار ادا کریں ۔ نفرت اور اشتعال انگیز تقاریر سے گریز کیا جائے اتحاد و اتفاق کی فضاء کو برقرار رکھا جائے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء عامر مگسی نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات پہلے بڑے شہروں میں ہوتے تھے وہ اب قصبوں میں ہو رہے ہیں ان دہشتگردوں کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے کیونکہ کوئی بھی دہشت گردی کی کارروائی مقامی سہولت کاروں کے بغیر نہیں ہو سکتی متاثرین کے لیے امداد کا اعلان کیا جانا چاہیے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء میر منورتالپور نے کہا کہ یہ واقعہ سیکیورٹی ناکامی ہے۔فورسز پر اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں پھر بھی ایسے واقعات ہو رہے ہیں۔