بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / نوازشریف اداروں پر حملہ کر رہے ہیں ٗ عمران خان

نوازشریف اداروں پر حملہ کر رہے ہیں ٗ عمران خان

پشاور۔چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ نوازشریف اداروں پر حملہ کر رہے ہیں ، شریف خاندان کی بیرون ملک اربوں روپے کی جائیداد ہے ، نوازشریف میمو گیٹ سکینڈل پر کالا کوٹ پہن کر عدالت پہنچ گئے تھے ، نوازشریف اب الیکشن نہیں لڑ سکتے وہ منی لانڈرنگ کا پیسہ بچانے کیلئے لڑ رہے ہیں ، نوازشریف اداروں پر حملہ کیلئے (ن) لیگ کو استعمال کر رہے ہیں ، (ن) لیگ کے وزراء عدلیہ پر حملہ کر رہے ہیں ، اچکزئی افغانستان کے مفاد کی بات کرتے ہیں۔

، انضمام کے بعد فاٹا کے نمائندے صوبائی اسمبلی میں آسکیں گے ،آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے دہشت گردی میں کمی آئی فاٹا کا انضمام نہ کر کے ہم دہشت گردی کو دوبارہ موقع دیں گے ، قبائلی علاقے کے عوام بھی چاہتے ہیں کہ ان کی آواز بھی بلند ہو۔ وہ جمعہ کو پریس کانفرنس کر رہے تھے ۔ عمران خان نے کہا کہ میں پہلی دفعہ سن رہا ہوں کہ صحافیوں کی ڈیمانڈ پوری نہیں ہوئی ، میں پرویز خٹک سے خود بات کروں گا ، آپ سے جو وعدے کئے گئے وہ پورے کئے جائیں ، شاہ فرمان میرا بھی فون نہیں اٹھاتا، آپ کی ڈیمانڈ ایک گھنٹے میں پرویز خٹک تک پہنچاؤں گا ، فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کا موقع ملا ہے ، وفاقی حکومت اس موقع کو ضائع کر رہی ہے ، وزیرستان میں ہر چیز تباہ ہوچکی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اب وفاقی حکومت کے پاس فاٹو کو پختونخوا کے ساتھ ضمن کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ، انتظامی سطح پر بھی فاٹا کو پختونخوا میں ضم کرنا ہی درست ہے ، فاٹا میں صورتحال ضلعی حکومتوں کے ذریعے ہی بہتر ہوسکتی ہے ، یہاں اربوں روپیہ سمگلنگ کے ذریعے بنتا ہے ، لوگ کروڑوں روپیہ پولیٹیکل ایجنٹ پر لگا دیتے ہیں ، یہ پوسٹ بکتی ہے ، اس وجہ سے کرپشن کا اڈا بن گیا ہے جس کی وجہ سے قبائلی علاقے کے لوگ پیچھے رہ گئے ہیں ۔ عمران خان نے کہا کہ قبائلی لوگوں کی کوئی ترقی نہیں ہورہی، صرف سٹیٹس کو بچانے کیلئے یہ پورا نظام چل رہا ہے ، میں وفاقی حکومت سے ڈیمانڈ کرتا ہوں کہ فاٹا کو ایسے نہ چھوڑیں ، یہ جس طرح کہہ رہے ہیں 2023تک فاٹا کو ایسے ہی چھوڑ دیں گے تو اس طرح تو فاٹا کے لوگ اور پیچھے چلے جائیں گے ، وہاں کوئی طریقہ نہیں ہے ، بہتری لانے کا ۔انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقے کے لوگوں کے پاس کوئی فورم ہی نہیں ہے جہاں وہ بول سکیں ، یہ ضم 2018تک ہو تاکہ قبائلی علاقے کے لوگ صوبائی اسمبلی میں آئیں ، 2004کے بعد جو قبائلی علاقے کے لوگوں کے ساتھ ہوا ہے وہ بہت مشکل میں ہیں ، اپنے ہی ملک میں یہ لوگ مہاجرین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ، ایک طرف ان پر ڈرون حملے ہورہے تھے دوسری طرف ملٹری آپریشن ہورہا تھا ،ان کی کوئی سننے والا نہیں تھا ، لوگ درمیان میں پھنسے ہوئے تھے ، ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں تھا ۔ عمران خان نے کہ اکہ اگر فاٹا انضمام کو 2023موخر کیا گیا تو اس کا نقصان قبائلی علاقے کے لوگوں کو ہوگا اور اس کا فائدہ کرپٹ مافیا کوہوگا ، فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کا فائدہ عوام کو ہوگا کیونکہ ان کی روایات اور کچلر ملتا جلتا ہے ۔ عمران خان نے کہا کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو دہشت گرد ی بڑھنے کا خدشہ ہے جو کہ ضرب عضب کے نتیجے میں کم ہوئی ہے ۔

ہم چاہتے ہیں کہ قبائلی علاقے میں ترقی ہو اور نیا نظام آئے ، ہم قبائلی علاقے کے لوگوں کے ساتھ مل کر اس معاملے کو آگے بڑھائیں گے ، مولانا فضل الرحمان اور محمود اچکزئی نے اس مسئلے کو خراب کیا ہے اور محمود اچکزئی کا تو اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ تو افغانستان کے نقطہ نظر سے بات کرتے ہیں ۔عمران خان نے کہ اکہ وفاقی حکومت کو اس پر ایکشن لینا چاہیے مگر وہ تو پوری طرح مفلوج ہے ، انہوں نے جو قانون اسمبلی سے پاس کرایا ہے وہ کسی بھی جمہوریت میں ممکن نہیں ہے ، اس طرح تو کوئی چور، ڈاکو بھی پارٹی کا سربراہ بن سکت اہے ، وفاقی حکومت کی ساری توجہ اس وقت نااہل وزیراعظم کو بچانے کیلئے ہے ، نوازشریف (ن) لیگ کو عدلیہ اور فوج پر حملہ کرنے کیلئے استعمال کر ہرے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر یہ ثابت ہوگیا کہ انہوں نے کرپشن کی ہے تو وہ سارا پیسہ باہر سے پاکستان واپس جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کسی اصولوں کیلئے نہیں لڑ رہا ، ہم قبائلی عوام کے ساتھ ہر فورم پر کھڑے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مجھے مارشل لاء کی کوئی آواز نہیں آرہی ، آرمی چیف کی اس بارے میں سٹیٹمنٹ بھی موجود ہے ، جب یوسف رضا گیلانی کو سزائی ہوئی تھی اور میمو گیٹ سکینڈل ہوا تھا تو اس وقت یہ سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے تھے ، فوج کو بچانے کیلئے کوٹ پہن کر عدالت پہنچ گئے اب نوازشریف کو اور جمہوریت پر حملہ کررہا ہے ، نوازشریف ، آصف زرداری اور خورشید شاہ پر کرپشن کے کسیز ہیں ۔