بریکنگ نیوز
Home / کالم / جنگ‘ایک کھیل

جنگ‘ایک کھیل

اس کھیل کے تمام مناظر اور کردارحقیقت پر مبنی ہیں… ڈرامہ نگار نے داستان گو کا کردار ادا کیاہے اور وہ امید کرتا ہے کہ یہ کھیل دوبارہ نہیں کھیلا جائیگا… جنگ ستمبر دراصل ایک پکچرپوسٹ کارڈ رومان تھا جس میں ہولناک جنگ کے مناظر سے اجتناب کیا گیا تھا… یہ دراصل ایک مختصر ٹریلر تھا اس بڑی جنگ کا جو کہ مستقبل میں ممکن ہو سکتی ہے کہ فریقین جوہری اسلحے سے لیس ہوچکے ہیں اور کچھ پتہ نہیں کونسا فریق حواس کھو بیٹھے اور اس بے مقصد جنگ کا آغاز ہو جائے… اگرخدانخواستہ ایسا ہوگیا تو اس جنگ کے بعد اس کے بارے میں کوئی کھیل نہیں لکھا جائیگا کہ کھنڈر ہو چکے شہر اور لاکھوں لوگوں کے لاشے بوجوہ کوئی کھیل نہیں لکھ سکتے… میں یہ بھی امید کرتا ہوں کہ آئندہ کھیل جنگ کے نہیں امن کے بارے میں ہوگا۔پہلا منظر: وزیر آباد کے قریب ایک سرسبز کھیت کے درمیاں میں’’ ناٹ‘‘ نامی ہندوستانی جہاز کا ملبہ پڑا ہے جو ستمبر کی سویر کی دھوپ میں کسی تہذیب کا ڈھانچہ لگتا ہے جو شکار کرنے آئے تھے وہ خود شکار ہوگئے تھے‘ جہاز کے ملبے میں ابھی تک دو راکٹ پڑے ہیں‘جو فائرہونے سے پیشتر ہی کسی اور فائر کی زد میں آگئے… ہندوستانی جنگی جہاز کا ملبہ وزیرآباد کے قریب سویر کی دھوپ میں کھنڈر ہو رہا ہے۔داستان گو… خواتین و حضرات جنگ کا آغاز ہو چکا ہے میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں حملہ کر دیا تھا کہ کیا آپ یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ دن کی روشنی میں دندناتا ہوا پریڈ کرتا آپکی نظروں کے سامنے ہمارے ملک پر چڑھ آئے گا…

حملے ہمیشہ رات کی تاریکی میں ہی کئے جاتے ہیں اور انہیں پرانے زمانوں میں شب خون مارنا کہا جاتا تھا‘ آج سویرے گکھڑ منڈی کی چھتوں پر سوئے ہوئے لوگ یکدم متعدد دھماکوں سے خوفزدہ ہوکر اٹھ بیٹھے اور کیا دیکھتے ہیں کہ ایک جیٹ ہوائی جہاز پر دو تین پاکستانی ائرفورس کے طیارے جھپٹ رہے ہیں… وہ پلٹ بھی رہے ہیں اور جھپٹ بھی رہے ہیں اور مقصد صرف خون گرمانا نہیں دشمن کے طیارے کو مار گرانا ہے… متعدد راکٹ فائر ہوتے ہیں‘ دشمن طیارہ اپنے بچاؤ کی کوشش میں بہتیرے پینترے بدلتا ہے لیکن آخرکار ایک راکٹ کی زد میں آکر دھواں چھوڑتا قلابازیاں کھاتا سامنے والے کھیت میں گر جاتا ہے… خواتین و حضرات جنگ کے پہلے دن یہ پہلا بھارتی طیارہ ہے جسے پاکستانیوں نے مارگرایا تھا… میں اس کا چشم دید گواہ ہوں۔

دوسرا منظر: دریائے راوی کے پل پر ٹریفک جام ہوچکی ہے… وہ لوگ جنکا راوی پار کوئی ٹھکانہ ہے وہ اپنے بال بچوں کو وہاں منتقل کر رہے ہیں کہ شہر لاہور پاکستانی بھاری توپ’’ رانی‘‘ کے فائر سے رات بھر لرزتا رہتا ہے کرفیو کا نفاذ ہوچکا ہے… اس دوران بائیں جانب سے راوی کی سطح کے قریب پرواز کرتا ہوا ایک ہندوستانی جیٹ فائٹر نمودار ہوتا ہے اور پل کو تباہ کرنے کیلئے بم گراتا اڑان کر جاتا ہے… بم پانی میں گر کر ٹھس ہو جاتے ہیں… ایک بھگڈر سی مچ جاتی ہے‘ داستان گو: خواتین و حضرات اگرچہ بہت سے لاہوری حضرات ڈنڈے تھام کر دشمن سے مقابلے کی خاطر واہگے کی سرحد کی جانب پیدل چل پڑے تھے لیکن کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنی کاروں پر ’’ کرش انڈیا‘‘ کے سٹکر چسپاں کررکھے تھے اور وہ پہلے دھماکے کے ساتھ ہی لاہور سے نکل جانے کیلئے راوی کے پل پر آگئے تھے… ویسے بیشتر لوگ اپنے بال بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا چاہتے تھے… اپنی جان بچا کر فرار نہیں ہو رہے تھے… کون ہے جو اپنے بچوں کو جنگ کی بھینٹ چڑھا دے… تیسرا منظر: پاکستان ٹیلی ویژن کی بلیک اینڈ وائٹ سکرین اور ریڈیو پر ایسے جنگی نغمے گونج رہے ہیں جو آپکو نہ صرف ڈھارس دیتے ہیں بلکہ آپکے بدن میں ایک ایسی سنسنی دوڑاتے ہیں کہ آپ بے اختیار ہو کر سرحد کی جانب نکل جانا چاہتے ہیں…

اس ملک کی مٹی کے ہر ذرے کے دفاع میں اپنے لہو کی آخری بوند اس میں بو دینا چاہتے ہیں… ’’ساتھیو جاگ اٹھا ہے سارا وطن‘ اے وطن پیارے وطن پاک وطن‘ اے وطن کے سجیلے جوانو‘ میرا سوہنا شہر قصورنیں‘ اے راہ حق کے شہیدو‘ اے پتر ہٹاں تے نئیں ملدے توں لبدی پھریں بازار کڑے‘ وطن کی مٹی گواہ رہنا‘ میرا ماہی چھیل چھبیلا کرنیل نیں جرنیل نیں‘‘ چوتھا منظر: چاندنی راتوں میں لاہور کے باغوں میں موتیے کے سفید پھول کھل رہے ہیں اور خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں ہندوستانی پائلٹ مکمل بلیک آؤٹ کے دوران ان کی سفیدی کو نشانہ نہ بنالیں‘ پانچواں منظر: لاہور کے آسمان پر پاکستانی اور ہندوستانی طیاروں کی’’ ڈوگ فائٹ‘‘ ہو رہی ہے شہر کے قدیم بام و در انکے راکٹوں کے دھماکوں سے لرز رہے ہیں اور لاہوریئے چھتوں پر کھڑے اپنے پائلٹوں کو یوں داد دے رہے ہیں جیسے آسمان پر جہاز نہیں الجھ رہے پتنگوں کے پیچ لڑ رہے ہیں اور وہ پہلے ہندوستانی جہاز کے گرنے پر’’ بوکاٹا‘‘ کے نعرے لگارہے ہیں‘ داستان گو: ان نعرے لگانے والے لاہوریوں میں یہ بندہ حقیربھی شامل تھا … آئندہ برسوں میں مجھے جنگ ستمبر کے حوالے سے متعدد ڈیفنس ڈے کے پروگراموں میں ٹیلی ویژن شوز کی میزبانی کا اتفاق ہوا‘ کوئٹہ میں ایک نہایت گورے چٹے مونچھوں والے صاحب نے بتایاکہ…تارڑ صاحب آپ نے مجھے پہچانا نہیں‘ لاہور کے آسمانوں پر جو ڈاگ فائٹ ہوئی اس میں میں بھی شامل تھا اور ہندوستانی جہاز کو میں نے ہی مارگرایا تھا اور پھر انہوں نے ایک زوردار قہقہہ لگا کر کہا تھا بہرحال میں نے آپکو چھت پر کھڑے ہوکر نعرے لگاتے دیکھ لیا تھا… چھٹا منظر: شہر قصور کے باہر ان ٹینکوں کی قطار لگی ہے جنہیں ہندوستانی کھیم کرن کی جنگ کے دوران ترک کرکے پسپا ہوگئے تھے… داستان گو: میرا چھوٹا بھائی مبشر جو بعد میں کرنل کی حیثیت میں ریٹائر ہوا ایک ٹینک کی گن کی نالی کے ساتھ بندروں کی طرح لٹک رہا ہے اور میں اسکی ویڈیو فلم بنا رہا ہوں ہم ابھی ابھی نورجہاں کے آبائی محلے کے کھنڈر دیکھ کر آئے ہیں۔

جس پر ایک ہزار پاؤنڈ وزنی بم ہندوستانیوں نے گرایا تھا اور تب نورجہاں کے دل پر ایک چوٹ لگی اور دکھ اور سکھ سے ملی جلی جذباتی آواز میں اس نے صوفی تبسم کا لکھا ہوا ایک اور گیت گایا’’ میرا سوہنا شہر قصور نیں‘ ایدیاں دھماں دور دور نیں‘ دشمن دیاں فوجاں آئیاں سن ساڈھے غازیاں مارمکائیاں نیں… کھیم کرن کی ہندوستان چوکی پر پاکستانی پرچم لہرا رہا ہے…ساتواں منظر: افواہ پھیل گئی ہے کہ ہندوستان کے جاسوس نہ صرف پیراشوٹوں سے پاکستان میں اترگئے ہیں بلکہ خفیہ راستوں سے بھیس بدل کر داخل ہوگئے ہیں چنانچہ ہر کوئی ان جاسوسوں کو پکڑنے کیلئے چوکنا ہوگیاہے‘ ایک عورت اپنے محلے کی عورتوں کو خفیہ طورپر بتا رہی ہے ’’ بسوں کے اڈے پر ایک برقعہ پوش عورت کا جب نقاب الٹا تو اندر سے ایک سکھنی نکل آئی‘ جاسوس تھی… کسی نے نہ پوچھاکہ یہ شناخت کیونکر ہوئی کہ سکھ عورتوں کی تو داڑھی نہیں ہوتی… لیکن جذبہ حب الوطنی ان معمولی غلط فہمیوں کی کہاں پرواہ کرتا ہے… آٹھواں منظر: گکھڑ منڈی کے محلہ مغربی کی ایک کھنڈر ہوچکی چوہدری جہان خان کی حویلی میں گھپ اندھیرے میں کہ بلیک آؤٹ ہے ایک سکوٹر کھڑا ہے‘ داستان گو: اور وہ میرا سکوٹر ہے‘ بہت دنوں سے وہاں کھڑا ہے تو ایک شب مجھے خیال آتا ہے کہ کہیں اسکی بیٹری ڈاؤن نہ ہو جائے اسے سٹارٹ کرکے اطمینان کر لیا جائے … گھپ اندھیری شپ کے بلیک آؤٹ سناٹے میں سکوٹر کو کک لگا کر سٹارٹ کرتا ہوں اور اسکے انجن کی پھٹ پھٹ سے پورا محلہ پھٹ پھٹ کرنے لگتاہے اور اس لمحے محلہ مغربی سے متصل شیخوں کے محلے سے آہ وزاری کی فریادیں بلند ہونے لگتی ہیں اگلی سویر انہوں نے باجماعت میری امی سے شکایت کی کہ چوہدری… آپ پلیز اپنے بیٹے کو منع کریں کہ آئندہ یوں رات کے سناٹے میں سکوٹر نہ سٹارٹ کرے…ہمارا تو’’ تراہ‘‘ نکل گیا تھا کہ ہندوستانی ٹینک آگئے ہیں…