بریکنگ نیوز
Home / کالم / معیار کافقدان

معیار کافقدان

برطانیہ کے تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے ذہین ترین اور قابل طلباء و طالبات میں سے اکثر لوگ یا تو تعلیم و تدریس کا شعبہ اپنے لئے منتخب کرتے ہیں اور یا پھر وہ پارلیمنٹ میں بطوررکن ہاؤس آف کامنز منتخب ہونا پسند کرتے ہیں جسے دارالعوام بھی کہا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کو ہاؤس آف کامنز میں مختلف ایشوز پر بحث و مباحث کا معیار کافی اونچا ملے گا فرنگیوں میں ویسے بھی شوق و زوق مطالعہ بدرجہ اتم ہے جتنی کتابیں انگلستان میں ہر سال چھپتی اور بکتی ہیں اتنی زیادہ شاذ ہی کیسے دوسرے ملک میں چھپتی اور بکتی ہوں یہی حال اخبارات کا بھی ہے وہاں الیکٹرانک میڈیا کے آجانے کے بعد بھی اخبارات کی صحت پر کوئی برا اثر نہیں پڑا ہر فرنگی صبح صبح جب کسی اخبار فروش سے اپنی پسند کا اخبار خریدے گا تو اس کے ساتھ چپس کا ایک پیکٹ بمعہ ایک چاکلیٹ بار بھی ضرور خرید ے گا وہ ہماری طرح تھوڑی ہیں کہ گھر کے ایک فرد نے اخبار خریدا اور باری باری پھر سب نے پڑھااس لمبی تمہید کا مطلب یہ ہے کہ اگر پارلیمنٹ میں اکثریت لانے کیلئے جو قانون سازی کی جائے گی اس کا معیار بھی بلند ہو گا برطانیہ کے علی الرغم وطن عزیز کی پارلیمنٹ میں گنتی کے افراد ہی ہوں گے کہ جن کو مطالعہ کا شوق ہو گا اور جو باقاعدگی سے روزانہ پڑھتے ہوں گے۔

ہاں ایک زمانہ ضرور ایسا گزرا ہے کہ جب میاں ممتاز دولتانہ جیسے لوگ پارلیمنٹ کے رکن ہوا کرتے کہ جنکی ذاتی لائبریری کا شمار پنجاب کی چند بڑی ذاتی لائبریریوں میں ہوتا تھا یہی حال حسین شہید سہروردی‘ ذوالفقار علی بھٹو ‘ حفیظ الدین پیرزاد ہ ‘ سردار عبدالرب نشتر ‘ منظور قادر ‘ عبدالولی خان ‘ مفتی محمود وغیرہ کا بھی تھا جب وہ اسمبلی کے فلور پربولتے تو سننے والے انکی تقاریرسے بہت کچھ حاصل کرتے برطانوی ہاؤس آف کامنز میں اراکین اسمبلی کے فلور پر جو تقاریر کرتے ہیں ان کو ہر ماہ تحریری شکل میں ایک رسالہ شائع کرتا ہے کہ جس کا نام ہے Hansard یہ رسالہ واقعی ایک پیس آف لٹریچر ہوتا ہے برطانیہ میں پولیٹیکل سائنس اور قانون کے طلباء و طالبات باقاعدگی سے ہاؤس آف کامنز کی وزیٹرز گیلری میں ہرہفتے چند گھنٹے گزارتے ہیں ۔

محض یہ دیکھنے اور سننے کیلئے کہ ہاؤس آف کامنز کے اراکین کس طرح بحث مباحث میں حصہ لیتے ہیں اور ان کی گفت وشنید کا انداز کیا ہے ہمیں اپنے بزرگوں نے بتلایا ہے کہ باچا خان جب اپنے فرزند عبدالغنی خان کو انگلستان اعلیٰ تعلیم کیلئے بھجوا رہے تھے تو انہوں نے ان کو نصیحت کی تھی کہ وہ ہر ہفتے چند گھنٹے اپنے معمولات زندگی میں سے نکال کر ہاؤس آ ف کامنز ضرور جایا کریں ہم جیسے کئی لوگوں کا ارمان ہی رہا کہ ہمارے ہاں بھی پارلیمنٹ میں صرف ملک کے اعلیٰ ترین اور قابل ترین پڑھے لکھے لوگ ہی بیٹھیں جن کو اپنی ذاتی دولت بڑھانے کی اتنی فکر نہ ہو جتنی کہ عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کیلئے قانون سازی کرنے کا خیال ہو‘ عرصہ دراز سے ہماری قومی اسمبلی کی کرسیاں منتظر ہیں کہ ان پر کوئی حسین شہید سہروردی‘ کوئی ممتاز دولتانہ ‘ کوئی ذوالفقار علی بھٹو ‘ کوئی خان عبدالوالی خان ‘ کوئی مولانا مودودی کوئی مولانا مفتی محمود آ کر بیٹھے کہ جو ہر وقت قوم کے غم میں غرق ہو اسے اپنی ذات اور دولت سے زیادہ قوم کے مسائل کی فکر ہو جو قومی مفادات کو اپنے ذاتی پر ترجیح دے ۔