بریکنگ نیوز
Home / کالم / پاکستان :جوہری مستقبل؟

پاکستان :جوہری مستقبل؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں نہایت سخت لہجہ اپنایا مگر انہوں نے اب تک پابندیاں نہیں عائد کی ہیں جیسا کہ ایران کے ساتھ ہوا‘ نہ ہی انہوں نے پاکستان کو شمالی کوریا کی طرح مکمل طور پر تباہ کر دینے کی دھمکی دی۔ پاکستانی سفارتکاروں کا ماننا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ گرمجوش تعلقات نہ سہی مگر پھر بھی کام کی حد تک تعلقات کی گنجائش موجود ہے مگر یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ اسلام آباد افغانستان سے متعلق امریکہ کی ’نئی‘ پالیسی سے متفق نہیں ہے۔ یہ افغانستان کی جنگ اپنی زمین پر نہیں لڑے گا۔ یہ افغانستان میں بھارت کے وسیع کردار کی مخالفت کرتا رہے گا‘ اسلام آباد افغان طالبان اور کابل کے درمیان طویل تنازعے کے بجائے اسکا سیاسی حل چاہتا ہے جبکہ افغانستان میں اپنے محفوظ ٹھکانوں سے پاکستان کیخلاف کام کر رہے دہشت گرد گروہوں دولت اسلامیہ‘ القاعدہ‘ تحریک طالبان پاکستان ‘ جماعت الاحرار اور بلوچستان لبریشن آرمی کے خاتمے کے لئے بھرپور ایکشن بھی چاہتا ہے‘اگر پاکستان اور امریکہ افغانستان پر اپنے حد درجہ مختلف مؤقف کو ہم آہنگ کرنے میں کامیاب ہو بھی جائے‘ تب بھی ان سٹریٹجک شراکت داریوں‘ میں تبدیلی ہوتی نظر آتی جو کہ ایشیاء میں پالیسیوں کا تعین کریں گی۔امریکہ نے ایشیاء میں چین کے اثرورسوخ کے مقابلے کے لئے بھارت کو اپنا سٹریٹجک شراکت دار منتخب کرلیا ہے نتیجتاً پاکستان کی سلامتی کے لئے بھارت کی جانب سے کیا خطرات پیدا ہوتے ہیں‘ اس سے امریکہ کو یا تو کوئی فرق نہیں پڑتا یا پھر خطے میں ہند امریکی بالادستی کیخلاف پاکستان کی مزاحمت کو کمزور کرنا اسکی پالیسی کا حصہ ہے۔

امریکی سیکرٹری دفاع کے حالیہ دورۂ بھارت نے اس سٹریٹجک اتحاد کی تصدیق کرتے ہوئے افغانستان میں ان کے تعاون پر مہر ثبت کردی ہے۔ بھارتی ڈکٹیشن کی مزاحمت اور امریکہ کی سٹریٹجک پالیسیوں کی مخالفت کرنے کی قابلیت پاکستان میں ایک اہم وجہ سے موجود ہے۔ وہ اہم وجہ پاکستان کی ایٹمی اور میزائل صلاحیت ہے۔ اس کے بغیر پاکستان پر یا عراق کی طرح حملہ کردیا جاتا یا پھر ایران کی طرح پابندیاں لگا دی جاتیں۔ دوسری جانب شمالی کوریا اپنی تنہائی کے باوجود امریکہ کو نیچا دکھانے میں اس لئے کامیاب ہے کیونکہ وہ ایک ایٹمی قوت اور میزائل ٹیکنالوجی کی ماہر قوم ہے۔ ایک اسلامی ایٹمی قوت امریکہ اور زیادہ تر مغربی ممالک کے لئے ہمیشہ سے گلے کی ہڈی کی طرح تھی۔ یہاں تک کہ جب پاکستان امریکہ کا قریبی اتحادی تھا‘ تب بھی امریکہ کی پوری کوشش تھی کہ کسی نہ کسی طرح اس کے جوہری اور میزائل پروگرام کو بتدریج کم کرتے ہوئے ختم ہی کردیا جائے۔ امریکہ کے بھارت کے ساتھ اتحاد کے بعد ان کوششوں میں تیزی آئی ہے۔ پاکستان کے سٹریٹجک پروگرامز کیخلاف تفریق پر مبنی ٹیکنولوجیکل اور سیاسی پابندیوں کے علاوہ امریکہ اب مطالبہ کر رہا ہے کہ پاکستان اکیلے ہی ایٹمی مواد اور تھوڑے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایٹمی میزائلوں کی تیاری بند کردے مگر اس کیساتھ ہی یہ بھارت کی اس کے ایٹمی اسلحے میں اضافے اور جدت لانے‘ اس کی میزائل اور اینٹی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں میں اضافے اور اس کی فضائی و بحری افواج اور سیٹلائٹ اور خلائی پروگرام میں ترقی کے لئے بھرپور مدد کر رہا ہے۔ باوثوق رپورٹس جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں‘۔

موجود ہیں کہ امریکہ نے کسی تنازعے یا بحران کے دوران پاکستان کے جوہری اسلحے پر قبضہ کرنے یا اسے برباد کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے‘ امریکی تھنک ٹینکس نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے دہشت گردوں کے ہاتھ لگ جانے یا اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز طور پر پاک فوج کے ’انتہاپسند‘ فوج میں تبدیل ہوجانے کے خیالی پلاؤ بنا رکھے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی خوفناک صورتحال پیدا کی جاسکتی ہے تاکہ قبضہ کرو اور تباہ کرو کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور جنگ ہوگئی‘ تو حالات میں مزید خرابی آئے گی۔ کشمیر دونوں ممالک کے بیچ ایک جاری تنازع ہے جو ایٹمی جنگ کو ہوا دے سکتا ہے۔ چونکہ دونوں ممالک کی فوجی قوت میں عدم توازن موجود ہے‘ اس لئے پاک و ہند جنگ کے فوری طور پر جوہری جنگ میں تبدیل ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ اِس لئے جنگ کا تو سوچا بھی نہیں جانا چاہئے مگر پھر بھی بھارت کے سیاسی اور عسکری قائدین پاکستان کیخلاف ’سرجیکل سٹرائیکس‘ اور محدود جنگ کی باتیں کرتے رہتے ہیں اگر بھارت نے کبھی پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑنے کا فیصلہ بھی کیا تو اسے پہلے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو ختم کرنے کے لئے حملہ کرنا ہوگا یا پھر بھارت کے لئے یہ کام امریکہ سرانجام دیگا؟ پاکستان کو دونوں ہی طرح کی صورتحال کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ ایک بار پاکستان اپنے جوہری اثاثوں کے مکمل طور پر قابل اعتبار ہونے کو واضح کردے گا‘ تو جنوبی ایشیاء میں قیامِ امن اور مسئلہ کشمیر کے حل کی اس کی کوششوں پر بھارت اور امریکہ دونوں ہی کی جانب سے مثبت ردعمل کی توقع ہے‘ اس کے بعد پاکستان اپنے سماجی و اقتصادی مقاصد کو بیرونی جارحیت‘ مداخلت اور دباؤ کے خوف کے بغیر حاصل کرسکے گا۔(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر:اکرم منیر۔ ترجمہ: ابوالحسن امام)