بریکنگ نیوز
Home / کالم / ٹیچرڈے اورہم

ٹیچرڈے اورہم

اقدار کی بات ہے کبھی ہمیں جب سکول میں داخل کیا جاتا تھا تو والدین استاد صاحب سے کہتے کہ ہم بچے کو آپ کے حوالے کرتے ہیں ‘اسے علم سکھایئے بچے کی ہڈیاں ہماری اور گوشت آپکا یعنی اگر ہمارے بچے کو سبق یاد نہ ہو یا وہ غیر حاضر ہو تو آپ جیسے ہو سکے اسکو سبق سکھاتے ہوئے جسمانی سزا بھی دیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا‘یہ وہ وقت تھا کہ اگر کبھی استاد کسی محفل میں جاتا تو ساری مجلس احترام میں کھڑی ہو جاتی۔ استاد کو مجلس میں اس کی شان کے مطابق جگہ دی جاتی۔ہمارے ہاں رواج تھا کہ گاؤں کا نمبر دار یا بڑا حجرے میں چارپائی پر بیٹھتا اور دیگر لوگ حجرے کے صحن میں رکھے گئے پتھروں پر بیٹھتے اور اگر استاد اس محفل میں آ جاتا تو اسے بڑے کے ساتھ چارپائی پر بٹھایا جاتا یعنی اس کی عزت گاؤں کے بڑے کے برابر کی جاتی۔ گو وہ زمانہ گاؤں میں زمینداری کا زمانہ تھا اور کسی بھی گھر کی سب سے زیادہ ترجیح مال مویشیوں کو سنبھالنے کی ہوتی تھی اس لئے لوگوں کا دھیان پڑھائی کی طرف بہت کم تھا مگر پھر بھی استاد کو گاؤں میں ایک بڑا مقام دیا جاتا تھا۔اسی طرح مسجد کے پیش امام کو بھی عزت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اس لئے کہ وہ نہ صرف امامت کے فرائض انجام دیتا تھا بلکہ غمی شادی میں بھی اس کا مقام سب سے بلند تھا۔مسجد میں بچوں کو قرآن حکیم کی ناظرہ تعلیم بھی پیش امام ہی کا ذمہ تھا جس کو وہ بخوبی ادا کرتا تھا۔

اس کے ساتھ امام مسجد کے گھر میں عوماً روٹی بھی گاؤں کے ہی ذمہ ہوتی تھی اور لوگ بخوشی امام صاحب کے گھر روٹی پہنچاتے تھے۔ یہ تعظیم جو لوگ اپنے اساتذہ اور پیش امام کودیتے تھے یہ لوگ بھی اس کا دل کی گہرائیوں سے پاس رکھتے تھے اور بچوں کو نہایت محنت سے سبق سکھاتے تھے۔جہاں تک بچوں کی مار پیٹ کا تعلق ہے تو وہ ہم خود بھی وصول کر کے ہی اس مقام تک پہنچے ہیں۔ ہمیں سکھایا جا تا تھا کہ جور استاد بہ ز مہرِ پدر ۔ یعنی کہ استاد کی مار پیٹ باپ کے پیار سے بھی بہتر ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ شاگرد ساری عمر اپنے استاد کے سامنے سر اٹھا کر بات نہیں کرتا تھا اور ہماری عمر کے لوگ آج بھی اپنے اساتذہ کو وہی احترام دیتے ہیں جو ان کو اپنی شاگردی کے دوران دیتے تھے۔لیکن زمانے کے ساتھ ساتھ اقدار میں بھی تبدیلی آئی اور اب تو یہ حال ہے کہ استاد کو دو ٹکے کا احترام دیا جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے اعلیٰ پوزیشن لینے والے بچے اپنے انٹر ویو میں ڈاکٹر اورانجینئر تو بننا چاہتے ہیں مگر کسی نے یہ کبھی نہیں کہا کہ میں استاد بن کر قوم و ملک کی خدمت کرناچاہتا ہوں۔ اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ سوسائٹی نے اپنے گھر میں دولت تو اکٹھا کرنے کا سوچا ہوا ہے مگر یہ دولت ہر جائز و ناجائز طریقے سے ہو ہمارے انجینئر جو خدمت کر رہے ہیں اس کا بھی سب کو معلوم ہے اور جو خدمات ڈاکٹر کر رہے ہیں وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ کوئی بھی انجینئر اس وقت تک خوش نہیں ہوتا کہ جب تک ٹھیکیدار اسکی جیب گرم نہ کرے۔

یہی وجہ ہے کہ حکومت کی طرف سے کسی بھی کام کے لئے جو رقم منظور ہوتی ہے وہ انجام تک ایک چوتھائی بھی نہیں بچتی۔ جو روڈ اس رقم سے بنتے ہیں وہ سال کے اندر ہی کھنڈر بن جاتے ہیں ۔ جہاں تک ڈاکٹروں کا تعلق ہے تو کوئی بھی سینئر ڈاکٹر اس وقت تک مطمئن نہیں ہوتاکہ جب تک وہ شام کو اپنا بریف کیس نوٹوں سے بھر کر گھر نہیں جاتا۔ صرف استادوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے کہ جو اپنی تنخواہ پر ہی گزارہ کرتی ہے۔ اور اپنے شاگردوں کو فائدہ دینے میں کبھی بخیل نہیں کرتی ۔ گو اسے معاشرہ وہ عزت نہیں دیتا جس کا وہ حقدار ہے پھربھی اپنی ڈیوٹی پورے خلوص سے ادا کرتا ہے۔ یہ مغرب کی تقلید کے سبب ہے کیوں کہ مغرب میں استاد کو ایک عام آدمی ہی سمجھا جاتا ہے اور اس کو وہ عزت نہیں دی جاتی جس کا وہ حقدار ہے اسی لئے وہ سال میں صرف ایک دن استاد کے نام کرتا ہے جبکہ ہمارے معاشرے میں تواستادہمہ وقت احترام کاحقدار سمجھا جاتا ہے اور ہمار ا ہر دن استاد کا دن ہے ۔ اسی طرح ماں باپ اور ہمسایوں کی بات ہے کہ ہم اسے اپنا فرض سمجھتے ہیں اسی لئے ہمیں یہ دن منانے کی ضرورت نہیں ہوتی مگر کیا کیا جائے ہم نے خود کو مغرب کا اتنا غلام بنا دیا ہوا ہے کہ جو وہ کرتے ہیں اسکی آنکھیں بند کر کے تقلید کرنا اپنا وطیرہ بنایا ہو اہے۔