بریکنگ نیوز
Home / کالم / شمیم شاہد / امریکی مہم جوئی

امریکی مہم جوئی

سابق افغان صدرحامدکرزئی جون2014کے اواخرمیں صدارتی عہدے سے الگ ہونے کے باوجودجنگ سے تباہ حال افغانستان کی سیاست میں متحرک ہی حامدکرزئی روزانہ افغانستان کے طول وعرض سے آنیوالے عمائدین کیساتھ ان کے مسائل پرنہ صرف تبادلہ خیال کرتے ہیں بلکہ افغانستان کا دورہ کرنے والے غیرملکی وفوداورحکام کیساتھ بھی ملتے ہیں اوران کوافغانستان میں قیام امن کیلئے تجاویزپیش کرتے ہیں حامدکرزئی کیساتھ میری پہلی ملاقات اسوقت ہوئی تھی جب راقم پشاورسے نکلنے والے معروف اخباردی فرنٹیئر پوسٹ سے منسلک تھا اس ملاقات کے بعداب تک حامدکرزئی کیساتھ تعلق قریبی دوستوں جیسا ہے5اکتوبرکے اخبارات میں حامدکرزئی کا امریکہ کی نئی پالیسی کے بارے میں ایک بیان شہ سرخیوں میں شائع ہواہے حامدکرزئی نے اس نئی امریکی پالیسی کوامن کے بجائے سازش قراردیا ہے اورواضح الفاظ میں کہاہے کہ وہ کسی بھی طورپر پاکستان کے خلاف فوجی کاروائی کی حمایت نہیں کرسکتے حامد کرزئی نے کہا کہ اس پالیسی میں افغانستان اورخطے کیلئے امن اورامیدکاکوئی پیغام نہیں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے بارے میں انہوں نے کہاکہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں بلکہ عرصہ درازسے تمام اعلیٰ امریکی عہدیداراسی قسم کے بیانات دے رہے ہیں۔

مگر ماضی میں امریکی عہدیداردہشت گردی کوبات چیت کے ذریعے حل کرنے پرزوردے رہے تھے مگراس بار ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان میں بات چیت کاکوئی ذکرہی نہیں ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ اب اس خطے میں امریکی حکام کوئی اورگھناؤناکھیل شروع کرنیوالے ہیں اس بیان میں حامدکرزئی نے کہاکہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اورافغانستان آپس میں بھائیوں کی طرح بیٹھیں اورتمام تر مسائل کوگفت وشنیدکے ذریعے حل کریں انہوں نے کہاکہ وہ پاکستان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس سارے مسئلے کوسمجھے گا اورافغانستان کے ساتھ دوستی اورتعاون بڑھائے گااس بیان کودیکھ یوں محسوس ہوتاہے کہ2001سے لیکر 2014 تک دوران صدارت حامدکرزئی نے ہر موقع پر پاکستان کیساتھ تعلقات کوبڑھانے کی وکالت کی تھی جب پرویزمشرف پاکستان کے صدرتھے تو اس وقت دونوں ہمسایہ ممالک نے اگست 2007کو کابل میں ایک مشترکہ جرگے کا انعقادکیاتھااس تین روزہ جرگے میں مشترکہ قراردادیں پاس ہوئی تھیں اورتوقع تھی کہ ان قراردادوں پر عملدرآمد سے دونوں ممالک کودرپیش مسائل حل ہو جائینگے اس جرگے کے اختتام اوراس سے قبل دورہ اسلام آبادکے موقع پرذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران حامدکرزئی نے واضح الفاظ میں کہاتھاکہ افغان عوام کسی بھی طورپرافغانستان کی سرزمین کو پاکستان کیخلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے اسی طرح جب بھی موقع ملا تو حامدکرزئی پاکستان میں گزارے ہوئے شب وروز کواچھے الفاظ میں یادکرتے رہتے ہیں انکا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان نہ صرف ہمسایہ ممالک ہیں بلکہ ان دونوں ممالک کے ہزاروں خاندان ایک دوسرے کیساتھ خون کے رشتوں میں منسلک ہیں حکومتوں کے تعلقات جیسے بھی ہوں۔

مگرکوئی بھی ان رشتہ داروں کوایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کرسکتا حامدکرزئی کی طرح پاکستان کے زیادہ ترسیاسی رہنمابھی اسی قسم کے خیالات اوراحساسات رکھتے ہیں سابق صدرآصف علی زرداری اورسابق وزیراعظم سیدیوسف رضا گیلانی پاکستان اورافغانستان کے معاملے پر بہت واضح موقف رکھتے تھے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف بھی چاہتے تھے کہ نہ صرف افغانستان بلکہ اس خطے کے تمام ممالک کے مابین اچھے اور خوشگوار تعلقات قائم ہوں اوریورپی ممالک کی طرح جنوبی ایشیائی ممالک آپس کے اختلافات اورتنازعات کوبالائے طاق رکھ کرایک ایسااتحادتشکیل دیں اندرونی اوربیرونی پالیسیاں وضع کرے بدقسمتی سے دونوں ممالک کے حکمران اورقیادت ایک جیسے خیالات اوراحساسات رکھنے کے باوجودابھی تک ایک دوسرے سے نہ صرف دورہیں بلکہ یوں دکھائی دیتاہے کہ جنوبی ایشیاء میں ہندوستان کے بعد افغانستان پاکستان کے وجوداورامن کیلئے بہت بڑا خطرہ بن چکاہے افغانستان کی لگ بھگ 90فیصد آبادی کسی نہ کسی طریقے سے پاکستان میں ہے افغانوں نے نہ صرف پاکستان میں مہاجرین جیسے زندگی گزاری بلکہ ان کوپاکستان میں تعلیم‘صحت اور روزگارکی سہولیات بھی حاصل تھیں اب بھی لگ بھگ 2.5 ملین افغان شہری پاکستان میں رہائش پذیر ہیں مگر اسکے باوجودیہ عام افغان بھی پاکستان سے زیادہ خوش نہیں دراصل اسکی وجہ کچھ اورنہیں بلکہ حکمرانوں اور قانون نافذکرنے والے اداروں کا ان افغانوں کے ساتھ روارکھا جانیوالا سلوک ہے لہٰذادونوں ممالک کے حکمرانوں اور قائدین کا فرض بنتاہے کہ وہ امریکی مہم جوئی کیلئے موجود وجوہات یعنی دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں یا ان دہشتگردوں کیلئے نرم گوشوں کوجڑسے اکھاڑ پھینکیں اگرایسانہ ہواتوامریکی مہم جوئی کے خطرناک نتائج سے کوئی بھی نہیں بچ سکتا۔