بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پاک فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس

پاک فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ اداروں میں تصادم کی کوئی صورتحال نہیں‘ کوآرڈی نیشن بہتر ہونی چاہئے‘ احتساب عدالت میں وزراء کو روکنے کا واقعہ غلط فہمی کا نتیجہ تھا ‘اپنی پریس کانفرنس میں پاک فوج کے ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ رینجرز کی تین ونگ کو آئین کے مطابق درخواست کی گئی‘ 2014ء سے رینجرز اس درخواست پر کام کررہی ہے‘ ضروری نہیں کہ ہر حکم تحریری ہو‘ سکیورٹی پر کھڑے سپاہیوں کو کیاپتہ تھا کہ معزز وزراء کے پاس پاسسز ہیں‘ اگر رینجرز کے جوان نے کسی کو روکا تو اسے سراہنا چاہئے تھا‘ان کایہ بھی کہنا ہے کہ قوانین کے مطابق سپیشل کارڈز کے بغیر سپاہی آرمی چیف کو بھی نہیں جانے دیگا‘میجر جنرل آصف غفور مارشل لاء کی باتوں کو فضول قرار دیتے ہیں‘ کلبھوشن کا معاملہ جلد انجام کو پہنچ جانے کا کہنے کیساتھ وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ بھارت نے جنگ مسلط کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائیگا‘ پاک فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس میں بہت سارے اہم معاملات پر واضح اور شفاف انداز میں وضاحت ہوگئی ہے جس کے بعد غلط فہمیوں پر مبنی بہت ساری بے بنیاد باتیں خودبخود ختم ہوجانی چاہئیں‘۔

پاک فوج کے ترجمان نے خطے میں پاکستان کی اہمیت کے تناظر میں سرحدوں پر دباؤ اور فوج کے اقدامات سے متعلق بھی تفصیل بتا دی ہے‘ وطن عزیز کے جغرافیے اور درپیش چیلنجوں کا تقاضا ہے کہ ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کیاجائے‘ پاک فوج کے ترجمان کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت اگر بہت خراب نہیں تو بہت اچھی بھی نہیں‘ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ کسی بھی ریاست کا انتظام وانصرام چلانے کیساتھ تعمیر وترقی اور عوامی بہبود کے تمام معاملات معیشت کے استحکام سے جڑے ہوتے ہیں‘ اگر اکانومی ہی بہتر نہ ہو تو کسی بھی ریاست کی قیادت اپنے عوام کو ڈیلیور کرنے کے قابل ہی نہیں ہوتی‘ وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ غیر یقینی اور تناؤ جیسی کیفیات کا خاتمہ کرنے کیساتھ معیشت کے استحکام اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ مرکوزکی جائے‘ اس مقصد کیلئے بیرونی قرضوں پر انحصار ختم کرنا ہوگا‘ ملک کے اندر قومی دولت کے استعمال میں ہر مرحلے پر احتیاط کرتے ہوئے فنڈز کا ضیاع روکنا ہوگا‘ اس سب کیساتھ تجارتی خسارہ کم کرنے اور سرمایہ کاری کیلئے مناسب ماحول پر بھی بھرپور توجہ مرکوز کرنا ہوگی جو حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس کیلئے کوششیں ریکارڈ کا حصہ بھی ہیں۔

خیبرپختونخوا کا مقدمہ

مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کیلئے خیبرپختونخوا کا کیس تیار کرلیاگیا ہے‘ مہیا تفصیلات کے مطابق پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں صوبے کے بقایاجات لوڈشیڈنگ کے دورانیے‘ صوبائی محکموں سے بجلی بقایاجات کی ازخود کٹوتی جیسے معاملات پر صوبے کے موقف پیش کیاجائیگا‘ یہ بات بھی اٹھائی جائے گی کہ گزشتہ مالی سال میں وفاق نے صوبے کو بقایاجات کی مد میں 18کی بجائے صرف 13 ارب روپے دیئے جبکہ رواں سال کوئی رقم ابھی تک دی ہی نہیں گئی‘ تیل وگیس کی رائلٹی کا معاملہ بھی ابھی تک حل طلب چلا آرہا ہے‘ خیبرپختونخوا کے حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ صوبے کے اپنے واجبات کی بروقت ادائیگی کیساتھ یہاں انفراسٹرکچر کی بحالی اور صنعتی وتجارتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے خصوصی مراعات دی جائیں‘ اس کے برعکس وفاق کی جانب سے صوبے کے فنڈز روکنا اعلیٰ سطح پر نوٹس لئے جانے کا متقاضی ہے‘اس پر سیاسی قیادت کو فوراً بات چیت کا انتظام کرنا ہوگا تاکہ عوامی ریلیف یقینی ہو۔