بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ایڈمرل ظفر محمود نے پاک بحریہ کی کمان سنبھال لی

ایڈمرل ظفر محمود نے پاک بحریہ کی کمان سنبھال لی

اسلام آباد۔ ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے پاک بحریہ کے نئے سربراہ کی حیثیت سے کمان سنبھال لی جبکہ پاک بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل ذکااللہ کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ہم اپنے روایتی حریف کے بڑھتے طاقت کے توازن سے بے خبر نہیں رہ سکتے اس لئے خطے میں طاقت کے توازن کوقائم رکھنا ضروری ہے،باہمت اور پرعزم افسروں کی قیادت میرے لئے باعث فخر ہے اورایڈمرل ظفرمحمودعباسی کوپاک بحریہ کاسربراہ بننے پرمبارکبادپیش کرتاہوں ۔

ترجمان پاک بحریہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق تبدیلی کمان کی تقریب پی این ایس ظفر اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ترجمان کے مطابق تقریب گاہ آمد پر اپنے منصب سے سبکدوش ہونے والے ایڈمرل محمد ذکا اللہ اور نئے تعینات ہونے والے پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی کو اعزازی سلامی پیش کی گئی۔جس کے بعد ایڈمرل محمد ذکا اللہ نے ایڈمرل ظفر محمود عباسی کو روایتی سکرول پیش کرکے پاک بحریہ کی کمان باقاعدہ طور پر ان کے حوالے کر دی۔

اس موقع پر سبکدوش ہونے والے نیول چیف ایڈمرل محمد ذکا اللہ نے تقریب سے الوداعی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ اللہ نے مجھے پاکستان کے دفاع اور نیوی کی کمان کرنے کی سعادت دی۔ایڈمرل محمد ذکا اللہ نے کہا کہ جب میں نے کمان سنبھالی تھی تو چاہتا تھا کہ نیوی کثیر الجہتی، حربی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی اور پیشہ وارانہ اعتبار سے بہترین ہو اور آج پاک بحریہ دنیا کی بہترین فورس ہے۔

ایڈمرل محمد ذکا اللہ کا کہنا تھا کہ انسان خلوص نیت اور جذبے سے کام کرے تو اللہ رب العزت سب آسان فرما دیتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مملکت خداداد پاکستان آبا اجداد کی قربانیوں سے بنا ہے اور ملک کے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے ہر ایک کو کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ روایتی حریف بھارت کے اسلحہ کے بڑھتے انبار سے لاتعلق نہیں رہ سکتے، ہم ہر طرح سے مادر وطن کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔

ایڈمرل محمد ذکا اللہ نے کہا کہ پاکستان نیوی کی حربی تیاریاں کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لیے مضبوط ہیں اور پاک بحریہ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئے میزائل کرافٹس شامل کیے جا رہے ہیں ۔سابق نیول چیف نے کہاکہ دوست ملک چین کے ساتھ فری گیٹ کامعاہدہ طے پاگیاہے، اس کے علاوہ جدید جہازوں کیلئے چین کیساتھ فریگٹس کا معاہدہ طے پاگیا،چین سے ماڈرن سروس شپ کا معاہدہ کیا گیاہے جو کراچی شپ یارڈ میں تیار ہوگا، چین سے 8 آبدوزوں، جرمنی سے اے ٹی آر طیارے اور برطانیہ سے سی کنگ ہیلی کاپٹرز خریدے جا رہے ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے حکومت، پاک آرمی اور فضائیہ کی حمایت اور کلیدی تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج کے مابین باہمی ربط اور تعاون ہمارے لیے قابل فخر ہے۔ایڈمرل ظفر محمود عباسی کو پاک بحریہ کے نیا سربراہ مقرر ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ ایک قابل آفیسر ہیں اور فخر ہے کہ میں آپ کو کمان سونپ رہا ہوں۔واضح رہے کہ ایڈمرل ظفرمحمود عباسی نے 1978 میں پاک نیوی میں شمولیت کی اور 1981 میں پاکستان نیول اکیڈمی سے گریجویشن کے بعد بطور لیفٹیننٹ کمیشن حاصل کیا اور ابتدائی تربیت برطانیہ میں ڈورٹماتھ سے بریٹینیا رائل نیول کالج سے حاصل کی۔انھوں نے 1989 میں رائل آسٹریلین نیول کالج سے بھی گریجویشن کی اور نیول ڈیفنس یونیورسٹی سے بی ایس اور ایم ایس سی بھی مکمل کی۔

ایڈمرل ظفرمحمود عباسی نے پاکستان نیوی میں مختلف عہدوں میں کام کیا، انھوں نے طارق کلاس ڈسٹرائر میں بطور ایگزیکٹیو کام کیا اور بعد میں سب میرین برانچ میں شمولیت کی۔کمانڈنٹ آف نیول اکیڈمی کے علاوہ 2010 سے 2011 کے دوران وہ ڈائریکٹر آف میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی بھی رہے۔جبکہ 2001 سے 2003 تک انہوں نے پی این ایس خیبر میں کمانڈنگ افسر کے فرائض سرانجام دیے۔

ایڈمرل ظفرمحمود عباسی 2005 سے 2007 تک 21 مائن اسکوارڈن اور 25 ڈسٹرائر اسکوارڈن کے کمانڈر رہے۔انھوں نے 2013 میں لوجسٹکس کمانڈر کے طور پر کمان سنبھالی جبکہ مختصر عرصے کے بعد اسی دوران انھیں کراچی کوسٹ کا کمانڈر تعینات کردیا گیا اور فلیگ افسر کمانڈنگ (ایف او سی)آف پاکستان میرینز بن گئے۔اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران ایڈمرل ظفر محمود عباسی کو مختلف کمانڈ اینڈ اسٹاف عہدوں پر کام کرنے کا وسیع تجربہ حاصل ہوا۔

ایڈمرل ظفر محمود عباسی سطح آب اور زیر آب جنگی حکمت عملی کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور کمانڈ اینڈ اسٹاف عہدوں پر کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں جب کہ آپ کی غیر معمولی پیشہ ورانہ خدمات کے اعتراف میں آپ کوہلالِ امتیاز (ملٹری)سے نوازا جا چکا ہے۔